مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھ

پارلیمنٹ میں بد کلامی کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ مسئلہ صرف پاکستان کی پارلیمنٹ تک محدود نہیں،دنیا کے اکثر ممالک میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان ایک دوسرے کو بے نقطہ سنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے،اور اس حوالے سے نہ صرف زبان وبیان کو آلودہ کرتے رہتے ہیں بلکہ ڈیسک بجا نے کیلئے بھی نت نئے طریقے ڈھونڈتے رہتے ہیں ،جیسے کہ ابھی حال ہی میں خیبرپختونخوا اسمبلی میں ڈیسک بجانے کیلئے ہتھوڑوں کا استعمال کیا گیا،کچھ مدت پہلے سندھ اسمبلی میں ایک خاتون رکن نے جوتی دکھا کر اپنے''جذبات''کا اظہار کیا،جبکہ گل افشائی گفتار کے مظاہرے تو بالکل عام سی بات ہے،اس حوالے سے جہاں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایک دو وزراء خاصی شہرت رکھتے ہیں،وہاں ترکی بہ ترکی جواب دینے کیلئے حزب اختلاف کے بعض اراکین بھی ہمہ وقت تیار رہتے ہیں جبکہ مختلف چینلز پر نشر ہونے والے ٹاک شوز بھی ان پارلیمنٹرینز کی وجہ سے اکھاڑے بنے دکھائی دیتے ہیں،اس سلسلے میں اب کورونا وائرس سے بھی استفادہ کیا جارہا ہے اور گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں گفتگو کے دوران سینیٹر شبلی فراز اور لیگ(ن) کے رہنماء خرم دستگیر کے درمیان اس بد کلامی پر بحث مباحثہ ہوا،اور خرم دستگیر نے سینیٹر شبلی فراز سے کہا کہ وزراء کو کو رونا وائرس کے خلاف نہیں بد زبانی کے خلاف ماسک پہننے چاہئیں۔یوں گویا خرم دستگیر نے خواجہ حیدر علی آتش کے اس شعر کی جانب اشارہ کردیا تھا کہ
لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی سو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا
خرم دستگیر غالباً مراد سعید،فواد چوہدری،فیاض چوہان اور اسی قبیل کے چند دوسرے وفاقی اور صوبائی وزراء کی جانب توجہ دلا رہے تھے،جو بد کلامی(بقول خرم دستگیر بد زبانی) میں ید طولیٰ رکھتے ہیں،ماسک کے استعمال کاان دنوں بڑا چرچا ہے،اس لیئے آجکل اس بیانیہ کا بڑا چرچا ہے کہ پارلیمنٹ میں بھی ہاتھ ملانے سے گریز کرتے ہوئے ماسک کے استعمال پر زور دیا جارہا ہے، بظاہر تو یہ مشورہ درست معلوم ہوتا ہے مگر اس سے وہ مقصد پھر بھی حاصل نہیں ہو سکتا جس کا مشورہ دیا جارہا ہے کیونکہ ماسک لگانے سے اس کے پیچھے چھپا ہوا منہ بند تو نہیں ہوتا اور ماسک کے پیچھے سے بھی زبان درازی جاری رکھی جا سکتی ہے،البتہ اگر خرم دستگیروزراء کی زبانوں پر تالا لگانا چاہتے ہیں تو اس کیلئے اور بھی کئی طریقے ہیں،البتہ اس سے پہلے خود اپوزیشن کی صفوں میں موجود وزراء کی''بدکلامی''کا جواب دینے والوں کی نشاندہی بھی ہونی چاہیئے،جن کے سرخیل لیگ(ن) ہی کے سینیٹر مشاہد اللہ خان ہیں جن کا نظریہ شعور کے اس شعر سے واضح ہوتا ہے کہ
نہیں ہے تلخ گوئی شیوۂ سنجیدگاں،لیکن
مجھے وہ گالیاں دیں گے تو کیا چُپ سادھ لوں گا میں؟
اب آتے ہیں ان طریقوں کی جانب جن سے خواہ وزراء ہوں خواہ حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والوں کی زبان درازی کو زباں بندی میں بدلا جا سکتا ہے ،ان میں سے ایک تو وشال بھردواج کے ایک فلم میں پنکج کپور(بھارتی فلم سٹار شاہد کپور کے والد) کی زبان سے ادا ہوا یہ جملہ ہے کہ''میاں پان کھایا کرو،منہ بند رہتا ہے''۔دراصل پان کا کمال یہ ہے کہ بندہ اس کی گلوری منہ میں رکھ لے تو کچھ بولنے کی پوزیشن میں نہیں رہتا،البتہ پان چپاتے ہوئے اس کے منہ سے پان کی پچکاری ضرور بر آمد ہوسکتی ہے،یوں پان کھانے کا مشورہ اگرچہ فضول پٹر پٹر کرنے سے باز رکھنے کا بہترین نسخہ ہے تاہم اس میں بھی ایک خرابی ہے کہ اگر مخالف کی کسی فضول بات سے پان کھانے والا طیش میں آجائے اور غصے میں یہ سوچے بغیر کہ اس کے منہ میں تو پان کی گلوری ہے مخالف کی طرف کوئی جملہ الادینے پر مجبور ہو جائے تو پان کی پچکاری سے مخاطب کے کپڑوں پر تجریدی آرٹ کے شاہکار تخلیق کر سکتا ہے جس کے بعد کوئی بھی ڈٹرجنٹ بلیو کو بلیو اور وائٹ کو وائٹ بھی شاید نہ کرسکے اور صورتحال میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کے امکانات بھی خاصے روشن ہوسکتے ہیں جلال الدین رومی نے انہی لوگوں کے حوالے سے کہا ہوگا کہ
ہرچہ آید بر تواز ظلمات غم
آں زبیا کی وگستاخی ست ہم
پان کی نہ گلوری سے علاج میں جن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس کا نقصان البتہ ایک اور علاج کی نشاندہی کر رہا ہے جو زیادہ سہل اور کسی نقصان پر منتج ہونے کا باعث بھی نہیں بن سکتا اس کیلئے اس سردار جی کے لطیفے سے رجوع کرنا پڑے گا،جو اپنی اہلیہ کو لیکر ڈاکٹر کے پاس لے گیا،خاتون بھی ہمارے بعض سیاسی رہنمائوں کی طرح پٹر پٹر بولنے کی عادی تھی اور اس کی اس عادت سے خود سردار جی بھی بہت نالاں تھے،خاتون نے ڈاکٹر کے سامنے کرسی پر بیٹھ کر زبان قینچی کی طرح چلانی شروع کی اور اپنی بیماری کے حوالے سے تفصیل ڈاکٹر کے گوش گزار کرنے کی ابھی ابتدا ہی کی تھی کہ ڈاکٹر نے اس کے منہ میں تھر ما میٹر رکھ کر اسے خاموش کردیا،سردارجی نے ڈاکٹر سے کہا،ڈاکٹر صاحب بس علاج ولاج رہنے دیں یہ بتائیں کہ یہ آلہ (تھرما میٹر) کتنے کا ملتا ہے اس کا علاج یہی ہے ،آغاشورش کاشمیری نے ہندوستان کی سیاست کے حوالے سے تقسیم سے پہلے کہا تھا
مرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماشبینوں میں