نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے اہم فیصلوں کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا بیان

اسلام آباد: جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ آج وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل سیکورٹی کمیٹی کا اجلاس ہوا، یہ اجلاس غیر معمولی نوعیت کا تھا اس میں نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے ممبران کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزرائے صحت اور آزاد کشمیر کی نمائندگی بھی تھی مسلح افواج کے سروسز چیفس ، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سربراہ بھی اس اجلاس میں شریک تھے،اجلاس میں کرونا وائرس کے حوالے سے عالمی منظر نامے اور دو روز قبل عالمی ادارہ ء صحت کی جانب سے عالمی وبا قرار دیے جانے کے بعد، بہت اہم فیصلے کئے گئے، اگر ہم اپنے گردونواح میں دیکھیں تو صورتحال کافی پریشان کن ہے اٹلی، ایران اور دیگر یورپی ممالک کی صورتحال آپ کے سامنے ہے لیکن اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں یہ وبا نہیں پھیلے۔

اجلاس میں اس وبا سے بچاؤ کے لیے احتیاطی و حفاظتی انتظامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

قوم کو پریشان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں ہے حکومت پوری طرح صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے ایسا میکانزم بنا چکے ہیں جس کے تحت صوبے اور مرکز کے درمیان لمحہ بہ لمحہ معلومات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اپنے صوبائی دفاتر کے ساتھ ملکر اس حفاظتی کمپین کو لیڈ کریگی تاکہ ایک قومی ردعمل سامنے آ سکے، فیصلہ کیا گیا کہ تورخم، تفتان، چمن اور سست سمیت ہمارے بارڈر ایریاز کو کم از کم اگلے پندرہ یوم کیلئے بند کردیا جائے۔

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اس وبا کے خطرات سے نمٹنے کیلئے ایک ایکشن پلان
پیش کیا جس پر صوبائی وزرائے اعلیٰ نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا اس ایکشن پلان میں انہوں نے ایئرپورٹس پر کیے جانے والے حفاظتی انتظامات کا تذکرہ بھی کیا۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اس وبا کے خطرے سے نمٹنے کیلئے ایک جامع منصوبہ بنایا جائے موثر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کیلئے آگاہی مہم کو اس میں شامل کیا جائے تاکہ ہم موثر طریقے سے اس صورت حال کا مقابلہ کر سکیں۔


یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ عوامی اجتماعات کو مختصر کر دیا جائے، جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ رائے ونڈ کا اجتماع بھی مختصر کر دیا گیا ہے ہم دینی قایدین/علماء کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے صورت حال کی نزاکت ، ملکی مفاد اور انسانی جانوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ اقدام اٹھایا،سکولوں، سینما گھروں، شادی ہالز اور عوامی اجتماعات کے تمام مراکز پر ہمیں نظر رکھنا ہو گی اس سلسلے میں بھی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی پروازیں صرف اسلام آباد، کراچی اور لاہور ایئرپورٹس سے آ جا سکیں گی – ایئرپورٹس پر حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

دنیا بھر میں موجود پاکستانی سفارت خانوں کو بھی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ تقریبات کو منسوخ کر دیں اور اجتماعات میں جانے سے پرہیز کریں،3800 کے قریب جو لوگ تفتان بارڈر کے راستے داخل ہونے تھے ان کی کورنٹین مکمل ہو چکی ہے انہیں واپس روانہ کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزادار نے اجلاس میں اس حوالے سے پنجاب حکومت کی جانب سے کیے گئے جامع انتظامات سے آگاہ کیا،وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کس طرح وہ سکھر اور حیدرآباد میں اقدامات اٹھا رہے ہیں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بھی انتظامات کے حوالے سے آگاہ کیا۔

چین نے جس طرح سے اس وبا پر قابو پانے کیلئے موثر اقدامات کئے ہیں اس پر ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور میں جب صدر پاکستان کے ساتھ چین جاؤں گا تو ہم نہ صرف ان کے تجربات سے استفادہ کریں گے بلکہ تشخیصی کٹس سمیت جو جو معاونت ہمیں درکار ہو گی وہ بھی ان سے لیں گے

وافر مقدار میں وینٹی لیٹرز منگوانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے تاکہ جہاں ضرورت ہو انہیں استعمال میں لایا جا سکے۔

اللہ کے فضل و کرم سے، ہمارے پیشگی موثر حفاظتی اقدامات کے سبب پاکستان کی صورتحال بہتر ہے، قوم کو اعتماد ہونا چاہیے کہ حکومت ان کے تحفظ کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے اسلیے وزیراعظم عمران خان نے آج اس سلسلے میں نیشنل پلان پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے۔

میں عوام سے گذارش کروں گا کہ اس عالمی چیلنج کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات اپنائیں عوامی اجتماعات میں جانے سے گریز کریں، میں میڈیا سے بھی ملتمس ہوں کہ وہ آگاہی مہم چلائیں تاکہ لوگ حفاظتی انتظامات سے آشنا ہو سکیں، پی سی ایل میچز میں عوام کی دلچسپی کا ہمیں احساس ہے لیکن صورتحال ایسی بن چکی ہے کہ ہمیں بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنا ہیں

چین نے اس وبا کے نمودار ہوتے ہی بروقت موثر اقدامات کئے اور اب وہ اس وبا پر غلبہ پاتے ہوئے دکھائ دیتے ہیں، صرف صوبے اور وفاق، احسن طریقے سے اس چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتے پوری قوم کو اور تمام اداروں کو مل کر اس کیلئے کوششیں کرنا ہوں گی۔