کرونا وائرس،بیان بازی سے آگے بڑھیئے

عالمی ادارہ صحت نے کورونا وائرس کو”وبا” قرار دیتے ہوئے اس سے نمٹنے کے لئے کھربوں ڈالرمختص کرتے ہوئے دنیا بھر کی حکومتوں کو فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے اُدھر ترقی یافتہ ممالک نے بھی اس وباء پر قابو پانے اور اپنے شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس کا شکار ہونے والوں کے علاج معالجہ کے لئے اربوں ڈالر مختص کر دیئے ہیں ادھر ہمارے یہاں حالت یہ ہے کہ کہ ابھی تک بین الاقوامی پرواز یں بند کی گئیں نا ہی چین اور ایران سے آنے والے مسافروں اور پاکستانیوں میں اس مرض کی موجودگی بارے تشخص کا کوئی موثر نظام قائم کرسکے ہیں وفاقی مشیر صحت نے کل حیران کن بات کہہ دی کہ”بیرون ملک سے آنے والوں کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب ان کا سائنسی بنیاد پر تجزیہ کر لیا گیا”۔خدا ہی جانے کن مخلوقات یا سائنسی علوم سے ہماری وزارت صحت مالا مال ہے۔روایتی سماجی رویوں سے عبارت اطلاع یہ ہے کہ پاک ایران بارڈر پر محض چند روپوں کی رشوت لے کر مسافروں کو گھر جانے کی اجازت دینے کے درجنوں واقعات سامنے آچکے اور اب مختلف مقامات پر کرونا کے مریض سامنے آرہے ہیں جیسا کہ کل گلگت میں ایک مریض بارے حقائق سامنے آئے۔المیہ یہ ہے کہ جو ذمہ داران یہ کہہ رہے ہیں کہ کرونا وائرس پر سیاست نہیں کرنا چاہیئے وہ کلی اقدامات کرنے کی بجائے روزانہ کی بنیاد پر بیانات سے جی بہلارہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ چاروں صوبوں،گلگت اور آزاد کشمیر کے وزرائے صحت کی ہنگامی کانفرنس بلائی جائے اور مشترکہ طور پر مئوثر اقدامات کے لئے فیصلے کیئے جائیں۔یہ عرض کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ کرونا سے متاثر ملکوں سے شہریوں کی آمدورفت کا سلسلہ کسی تاخیر کے بغیر بند کر دیا جائے ملک کے تمام انٹر نیشنل ہوائی اڈوں،بحری بندر گاہ اور بھارت ایران،چین اور افغانستان کے باڈروں پر ہر قسم کے حفاظتی انتظامات کے ساتھ فوری طور پر محفوظ مقامات قائم کئے جائیں اور اس حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی ہدایات سے رہنمائی لی جائے۔
مثبت فیصلوں کی ضرورت ہے
وفاقی حکومت نے سوئی نادرن گیس کو گھریلو صارفین سے ایل این جی کی اضافی قیمت وصول کرنے سے روک دیا ہے بلاشبہ یہ ایک عوام دوست فیصلہ ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت اگلے چند دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کے صارفین کو عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں کے تناظر میں ریلیف دینے کا اعلان کریگی۔حکومت اگر اپنے اور پٹرولیم کمپنیوں کے خالص منافع میں کمی پر آمادہ ہو تو فی لیٹر پٹرول کی قیمت میں کم از کم30روپے کا ریلیف دے سکتی ہے اس سے جہاں سفید پوش طبقات سُکھ کا سانس لیں گے وہیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی آڑ میں مہنگائی کا طوفان برپا کرنے والوں کو بھی قیمتوں میں کمی پر مجبور کیا جا سکے گا۔ہمیں امید ہے کہ وفاقی حکومت اس حوالے سے کسی تاخیر کے بغیر فوری اقدامات کریگی تاکہ مہنگائی سے بدحال ہوئے شہری کچھ آسودگی محسوس کریں۔
گندم کی امدادی قیمت1500روپے فی من مقرر کرنے کی استدعا
امیدو اتفاق ہے کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی گندم کی امدادی قیمت1365روپے سے بڑھا کر1400روپے کرنے کی حتمی منظوری دے گی گندم کی کاشت پر فی ایکٹر آنے والے اخراجات کے مقابلہ میں یہ قیمت کم ہے وفاقی حکومت کاشتکاروں کو آمدنی واخراجات میں عدم توازن سے نجات دلانے کے لئے مئو اقدامات اٹھائے جس کیلئے ضروری ہے کہ گندم کی امدادی قیمت کم از کم1500روپے فی من مقرر کی جائے اسی طرح اقتصادی رابطہ کمیٹی کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ گنے کے کاشتکاروں کے لئے فی من مقررہ قیمت190روپے کے حساب سے شوگر مل مالکان نے خریداری نہیں کی اکثر مل مالکان کے درمیانی ذرائع کے توسط سے140روپے فی من تک خریداری کی جبکہ چینی اس وقت85سے90روپے پرچون میں فی کلو فروخت ہورہی ہے ہمارے خیال میں ملک بھر کے گنے کے کاشتکاروں کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ اولاً فی من گنا کی قیمت220روپے مقرر کی جائے اور شوگر ملز کو اس امر کا پابند کیا جائے کہ وہ کاشتکاروں کو گنے کی خریداری کے وقت موقع پر ادائیگی کریں تاکہ انہیں اپنی محنت اور جنس کی قیمت وصول کرنے کے لئے دھکے نہ کھانے پڑیں۔