افغانستان، امریکی عزائم اور پاکستان

اس پوری صورتحال سے امریکی سیاستدانوں میں جنگوں کے خاتمے کے کمزور عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔ پھر عہدنامے پر دستخط کرنے والے اُمیدوار بھی فوج کی واپسی سے متعلق کوئی واضح روڈ میپ دینے میں ناکام رہے۔ افغانستان سے فوجی انخلا کے لیے نہ صرف واشنگٹن میں سیاسی عزم کمزور ہے بلکہ پینٹاگون اور امریکی اسٹیبلشمنٹ بھی مکمل انخلا کے حق میں نہیں۔ امریکا کو افغانستان میں موجود اڈے چین، روس اور ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کیلئے ہر صورت میں درکار ہیں۔ پینٹاگون طالبان سے معاہدے کے بعد سپر پاور مقابلے کیلئے تیاری کر رہا ہے اور اگر امریکا افغان فوجی اڈے خالی کردیتا ہے تو سپر پاور مقابلے میں اہم اسٹریٹیجک پوزیشن کھو سکتا ہے۔ پھر اگر امریکا فوجی دستے واپس بلا بھی لیتا ہے تو کنٹریکٹرز واپس بلانے کی گارنٹی کہیں بھی نہیں لکھی۔ اس بات کی تصدیق یوں بھی ہوتی ہے کہ امریکا نے افغانستان سے فوجی انخلا سے پہلے اسپیشل آپریشنز فورسز نیٹ ورک کی تیاری شروع کردی ہے۔ امریکا 14ہزار فوجیوں کو کم کرکے ساڑھے 8ہزار تک لا رہا ہے لیکن اس نیٹ ورک کیلئے کتنے اہلکار تعینات ہوں گے یہ ابھی واضح نہیں کیا گیا۔ امریکی جرنیل افغانستان سے انخلا کی صورت میں 3 سے 5ہزار اہلکاروں پر مشتمل انسدادِ دہشتگردی فورس کی تجویز دیتے آئے ہیں۔ امریکی عہدیدار نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا سے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ 14ماہ میں انخلا ایک عزم ہے یہ حتمی وقت نہیں۔ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد میونخ سیکورٹی کانفرنس میں واضح کرچکے ہیں کہ ساڑھے3ہزار فوجیوں کا انخلا135دنوں میں ہونا ہے، اگر ان دنوں میں تشدد میں واضح کمی نہ آئی تو فوجی انخلا رک بھی سکتا ہے۔ خلیل زاد کی یہ وضاحت منظرِعام پر آنے والے معاہدے میں موجود نہیں بلکہ ممکنہ طور پر خفیہ دستاویز کا حصہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو معاہدہ کیا ہے وہ ایک جوا ہے۔ اگر ٹرمپ دوبارہ صدر بن گئے تو اس معاہدے پر عمل کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن اگر وہ اس جوئے میں ناکام رہے تو جیت کر آنے والا نیا صدر اس ڈیل پر نظرثانی کرسکتا ہے۔
اگر امن معاہدہ کسی بھی موقع پر ناکام ہوتا ہے تو طالبان افغان فورسز پر حملوں میں تیزی لائیں گے اور افغان فورسز امریکا کی مدد کے بغیر دفاع کے قابل نہیں۔ ان حالات میں افغان فورسز مکمل ناکامی کی صورت میں تتر بتر ہوسکتی ہیں اور تاجک اور دیگر نسلی گروپ دوبارہ خانہ جنگی کا حصہ بن سکتے ہیں اور افغان طالبان یکطرفہ طور پر اماراتِ اسلامیہ کے قیام کا اعلان کرسکتے ہیں۔
اس صورت میں کانگریس میں دونوں جماعتیں امریکی انخلا کیخلاف قرارداد یا بل منظور کرسکتی ہیں اور امریکی صدر ٹرمپ حقیقی امن تک فوجی انخلا روکنے کا اعلان کرسکتے ہیں۔ یہ تمام امکانات امریکی، پاکستانی اور دیگر بین الاقوامی قیادت کی نظروں سے اوجھل ہرگز نہیں ہوں گے۔ ان امکانات کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاکستان کو امن عمل میں پہلے سے زیادہ سرگرم کردار ادا کرنا پڑے گا تاکہ مغربی سرحد پر حالات دوبارہ خراب ہونے سے روکے جاسکیں اور مہاجرین کا نیا ریلا مسائل کے نئے انبار کیساتھ پاکستان میں داخل نہ ہو۔ اس سرگرم کردار کیلئے پاکستان کو امریکا اور دیگر طاقتیں رعایتیں دینے پر مجبور ہوں گی۔ امریکا میں یہ بات زیربحث ہے کہ پاکستان کو اس کردار کے بدلے آزاد تجارتی معاہدے کی پیشکش کی جائے۔ امریکی صدر بھی بار بار پاکستان کیساتھ تجارت بڑھانے کی بات کرکے اسی طرف اشارہ کرتے ہیں لیکن یہ سب پاکستانی حکام پر منحصر ہے کہ وہ علاقائی اور بین الاقوامی مفادات کے حصول کیلئے اس موقع کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ اگر پاکستان نے اپنے پتے درست طریقے سے کھیلے تو امریکا مارچ میں ساڑھے 3ہزار فوجیوں کے انخلا تک پاکستان کو آزاد تجارتی معاہدے سمیت کئی رعایتوں کی پیشکش کرسکتا ہے۔