زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہئے

چاپلوسی یا خوشامد سکہ رائج الوقت کا درجہ رکھتی ہے، یہ نام ہے ایک ہنر کا اور جو بندہ اس ہنر سے واقفیت نہیں رکھتا وہ بے چارہ ساری عمر ایک ہی دھن کی بینڈ بجاتا رہ جاتا ہے کہ
نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھئے
منزل اسے ملی جو شریک سفر نہ تھے
بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں شریک سفر رہنے کیلئے۔ چلنا چلنا اور مدام چلتے رہنے کی اذیت سہنی پڑتی ہے۔ ہمت حوصلہ اور صبر استقامت سے منزل کی جانب دواں رہنا پڑتا ہے۔ تب جاکر اگر قسمت نے ساتھ دیا تو کوئی اپنی منزل مراد کو پاسکتا ہے لیکن جہد مسلسل کرنے والے منزل کی تلاش میں اپنی زندگی بھر کے ماہ وسال اور تمام تر صلاحیتیں استعمال کرنے کے باوجود اس مقام تک نہیں پہنچ پاتے جس تک آناً فاناً پہنچنے کیلئے بہت سے لوگ آرٹ آف فلیٹری کا شارٹ کٹ استعمال کرکے یا گھسڑ امام دینا! کا پچھلا دروازہ استعمال کرکے اس مقام پر براجمان ہو بیٹھتے ہیں جہاں پہنچنے کیلئے محنت شاقہ اور جہد مسلسل کے سہارے چلتے رہنے والوں کے دل کے ارمان دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ کارگاہ حیات کے درختوں کی شاخوں پر چاپلوسوں اور دھن دولت والوں کا قبضہ ہو جاتا ہے اور
بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب وروز تماشا میرے آگے
کہتے رہنے والا وقت اپنے عہد کی دل خراش گواہیاں دیتے وقت چیخ چیخ اور پکار پکار کر کہہ اُٹھتا ہے کہ
ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے، انجام گلستاں کیا ہوگا
کون الو ہوگا جو کسی اہم درخت کی اہم شاخ پر بیٹھنا نہ چاہے گا۔ ہر فرد اعلیٰ عہدے یا اعلیٰ مقام کا متلاشی ہے۔ اس کیلئے اسے جو جو جتن کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ کر گزرتا ہے۔ جس میں خوشامد اور چاپلوسی کا کردار مسلمہ ہے۔ چاپلوس یا خوشامدی لوگ ایسی حرکتیں کرتے وقت ہرگز ہرگز نہیں شرماتے بلکہ ان کو شرمانا بھی نہیں چاہئے کہ یہ ایک شارٹ کٹ ہے اس منزل مراد کو پالینے کی جس تک پہنچنے کیلئے بڑے بڑے دل گردے والوں کا پتہ پانی ہوجاتا ہے۔ صرف چالاک لوگ یا اس ہنر کے ماہر ہی استعمال کرسکتے ہیں یہ حربہ، کسی بھولے باچھا یا سادہ مرادہ قسم کے فرد کے قریب سے بھی نہیں گزر سکتی یہ منفی نوعیت کی صلاحیت اور اونچے منصب پر فائز بھولے باچھا ہی شکار ہوتے ہیں انجمن ہائے چاپلوساں وخوشامدیاں کے ان دواؤ پیچ کے۔ کبھی نہ کامیاب ہوپاتے خوشامدی لوگ اپنے مقصد میں اگر خوشامد کے شکار ہونے والے لوگ ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر اصول شکن اور دل پھینک ہونے کا ثبوت نہ دیتے۔ آپ نے وہ کہانی پڑھی یا سنی تو ہوگی جس میں ایک لومڑی پنیر کا ٹکڑا کھاتے کوے سے کہتی ہے کہ کتنے بھلے لگتے ہیں تیرے کالے کلوٹے پر، یوں لگتا ہے جیسے لیلائے شب نے تجھ ہی سے چرا لیا تھا تیرے حسن سراپا کا یہ کالا کلوٹا رنگ، جب آسمان پر گہرے بادلوں کی گھنگھور گھٹا چھا جاتی ہے تو اس کا سیاہ رنگ دیکھ کر مجھے بے اختیار تو اور صرف تو یاد آنے لگتا ہے۔ تیری سیاہ رنگت میرے دل کو موہ لیتی ہے۔ کاگا کاگا اے میرے حسن سراپا تیری آواز سن کر میں جھوم اُٹھتی ہوں من کرتا ہے کہ بس سنتی رہوں تیری چونچ سے نکلنے والا وہ نغمہ جس کا ہر قافیہ کائیں کائیں کی مدبھرے آہنگ کی منہ بولتی صدا ہے۔ ازدل خیزد وبردل ریزد کا مرقع ہے۔ کوا نہ ہوتا وہ الو کا پٹھا کہلاتا جو اپنی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملتے دیکھ کر چپ سادھے رہ جاتا۔ اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور لومڑی کی خوشامد چاپلوسی یا بلاجواز تعریف کے جواب میں کائیں کائیں کرنے لگا اور یوں اس کی چونچ سے پنیر کا ٹکڑا گرا، جسے بی لومڑی اُٹھا کر یہ جا وہ جا رفوچکر ہوگئی، اور ہوتی بھی کیوں نہ اس نے دل پھینک کوے میاں کا اچار تھوڑا ڈالنا تھا اور کسی بے وقوف کوے کو چٹ کرکے بے وقوف تھوڑا بننا تھا۔ ہمارے ہاں ہر شاخ پر الو ہی نہیں بیٹھے ملتے ان میں کوؤں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ کہلاتے تو وہ اختیاردار یا چالاک کوے ہی ہیں، لیکن موقع پرست یا طالع آزما خوشامدیوں کے جھانسے میں آنے میں ان کو دیر نہیں لگتی اور وہ اپنے آگے جھکنے والوں کو ایسی ایسی مراعات عطا کر دیتے ہیں جن کے متعلق مرزا محمود سرحدی کہتے نہ تھکتے تھے کہ
ہم نے اقبال کا کہا مانا اور فاقوں کے ہاتھوں مرتے رہے
جھکنے والوں نے رفعتیں پائیں، ہم خودی کو بلند کرتے رہے
کتنے جھک جھک کر ملتے تھے وہ لوگ سو سو رنگ کی خوشامدے کرتے نہ تھکتے تھے، صرف اور صرف ووٹ کی اک پرچی حاصل کرنے کیلئے۔ ہمیں لاکھ سمجھایا گیا کہ ووٹ کی یہ پرچی صرف ایک پرچی نہیں آپ کے ضمیر کی آواز ہے لیکن ہائے ری قسمت ہم ہر بار سنہری خواب اور سبز باغ دکھانے والوں کے جھانسے میں آکر کسی ایسے فرد کو کرسی اقتدار پر براجمان کراتے رہے جو مرد مومن ثابت ہونے کی بجائے شاخ پر بیٹھا الو یا کوا ثابت ہوتا رہا اور اس کی یہ حشر سامانیاں دیکھ کر ہم
خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھئے
ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہئے
کہتے رہ گئے اور پھر ہمیں اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے یہ بات ماننی پڑی کہ اب پچتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ بڑے پشیمان ہوئے ہم عمران خان کو ووٹ دیکر کسی نے اتنا کہا۔ جس کے جواب میں ہم اتنا ہی کہہ سکے کہ یہ چوکے اور چھکے اپنے آخری اوورز میں لگایا کرتا ہے۔ جس وقت ہم یہ بات کر رہے تھے تو ہمیں یوں لگا جیسے کہہ رہے ہوں
ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلی
زیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہئے