لوکل اتھارٹی یا انقلابی حکومت؟

پانچ اگست کے بعد کی صورتحال میں کشمیر کا مقدمہ ایک نئے انداز سے لڑنے کیلئے روایتی اور فرسودہ پالیسی میں تبدیلی اور مکمل انقلابی انداز اپنانے کے حق میں بلند ہونے والی آوازیں زیادہ اونچی اور تیز ہو رہی ہیں۔ اس کیلئے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے کرم خوردہ اور بے کار انتظامی ڈھانچوں کی اس انداز سے تشکیل نو کی بات بھی ہونے لگی ہے کہ یہ نیا انداز جہاں پاکستان کو آئے روز کشمیر کے حوالے سے پڑنے والے عالمی دباؤ سے آزاد کرے وہیں کشمیر کی بات زیادہ قوت اور شدت کیساتھ عالمی ایوانوں میں کرنا ممکن ہو سکے۔ ان آوازوں میں ایک آزادکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کی بھی ہے جو آزادکشمیر حکومت کے انقلابی کردار کی بحالی کی بات کرتے رہے ہیں۔ چند دن قبل انہوں نے ایک بار پھر کہا ہے کہ تحریک آزادیٔ کشمیر کے تناظر میںآزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل انقلابی حکومت کا قیام عمل میں لانا چاہئے۔ اتفاق سے اس کے بعد آزادکشمیر حکومت کے انقلابی کردار کے تصور کے خالق سابق صدر آزادکشمیر اور قائداعظم کے سیکرٹری کے ایچ خورشید کی 32ویں برسی کے موقع پر ان کی جماعت لبریشن لیگ کے صدر اور جسٹس عبدالمجید ملک نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا۔ حکومت پاکستان نے تاشقند میں ہونیوالے مذاکرات میں بھارتی شرائط کو مانتے ہوئے آزادکشمیر کی اپنی فوج آزادکشمیر ریگولر فورسز کو ختم کر دیا تھا اور اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہی ایک ایسی کشمیر پالیسی کی تشکیل کی ضرورت کا احساس پیدا ہوا تھا کہ جس میں حکومت پاکستان دوبارہ کسی بین الاقوامی دباؤ کی زد میں نہ آئے۔ اس کیلئے تین سال تک کام کرنے کے بعد آزادکشمیر حکومت کو تسلیم کرنے کی پالیسی اپنائی گئی تھی اور ایوب خان کے وزیرخارجہ منظور قادر بھی اس سوچ کے قائل ہو چکے تھے۔ اس حوالے سے تیسرا اہم بیان گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمان کا بھی سامنے آیا ہے جنہوں نے ایک ٹی وی چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کشمیر کا تو نہیں مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حتمی حل تک اس سارے عمل کیساتھ وابستہ رہنے کی بات کی۔ عین ممکن ہے کہ پانچ اگست کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے آزادکشمیر کے سیاستدانوں کی طرح اسلام آباد میں بھی یہ سوچ پیدا کردی ہو جہاں انہیں مسئلہ کشمیر کے سفارتی محاذ پر زیادہ تیزی کیساتھ کام کرنے کیلئے موجودہ حکومت اور سسٹم کو بدل کر انقلابی حکومت کا انداز اپنانا ناگزیر معلوم ہو رہا ہو۔ انقلابی حکومت کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ جب کشمیر دوحصوں میں تقسیم ہوا تو جو حصہ آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر کے تحت منظم اور قائم ہوا اس کی حکومت انقلابی رنگ ڈھنگ کی ہی حامل تھی۔ گلگت بلتستان پر عارضی کنٹرول تو فورسز اور حکومت پاکستان کا تھا مگر اسے ریاست کے ایک اہم یونٹ کی حیثیت حاصل تھی بعد میں معاہدہ کراچی میں اس علاقے کا انتظام حکومت پاکستان کے حوالے کیا گیا۔ اس وقت قائم ہونے والی آزاد حکومت کا ایک وزیردفاع بھی تھا جو آزادکشمیر ریگولر فورسز کا نگران بھی تھا جنہیں بعد میں افواج پاکستان میں ضم کیا گیا، ایسا کیوں کیا گیا جسٹس مجید ملک نے اس کی وجہ بھی بیان کر دی ہے۔ اس طرح آزادکشمیر حکومت کا سفر ایک انقلابی حکومت کے طور پر ہی شروع ہوا تھا۔ کچھ ہی عرصہ بعد مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایوانوں میں غیراعلانیہ طور پر فریز ہوگیا تو پاکستان اور بھارت دونوں نے اپنے اپنے کنٹرول والے علاقوں کی انتظامی اور قانونی تشکیل نو شروع کی۔ اس کے تحت رفتہ رفتہ جہاں مقبوضہ کشمیر میں صدر اور وزیراعظم کے عہدے ختم ہوگئے وہیں آزادکشمیر حکومت بھی ایک لوکل اتھارٹی کی حیثیت اختیار کر گئی۔
آزادکشمیر اور پاکستان کی حکومتیں اگر تجربات ومشاہدات کے نتیجے میں اس بات کی قائل ہو چکی ہیں کہ گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی انقلابی حکومت قائم کئے بغیر سفارتی اور سیاسی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی تو پھر اس سمت میں پہلا قدم اُٹھانے میں دیر نہیں کی جانی چاہئے۔ اس راہ کا پہلا قدم یہ ہے کہ اس تجویز کو فوڈ فار تھاٹ کے طور عوام اور میڈیا میں بحث مباحثے اور مکالمے کیلئے مشتہر کیا جائے اور اس کے بعد اس جانب عملی پیش رفت کی جائے۔ حکومت پاکستان کو بھی اب نئے راستوں اور امکانات کا خیرمقدم کرنا چاہئے۔ انقلابی حکومت تو یوں بھی کوئی متنازعہ معاملہ نہیں اس میں صرف مشکل معاملہ اسلام آباد کیساتھ گلگت بلتستان اور مظفرآباد کے اختیارات کی تقسیم وجہ نزع ہو سکتا ہے جسے حکمت کیساتھ حل کیا جا سکتا ہے۔ اسلئے اب اسلام آباد میں اس تجویز کی زیادہ مزاحمت کا امکان بھی نہیں اور ماضی کی طرح اس تجویز کو غداری پر محمول کرنے کا مائنڈ سیٹ بھی بدلتا ہوا نظر آرہا ہے کیونکہ کشمیر کے حالات اور عوام کی قریانیوں نے سوچ کے زاوئیے کلی طور پر بدل دئیے ہیں۔ اب ہر شخص کی ترجیح یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھارتی ظلم سے نجات دلائی جائے۔ ماضی میں جب کے ایچ خورشید نے یہ تجویز پیش کی تھی تو انہیں اور ایوب خان کو اپوزیشن کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جس کیساتھ ہی ایوب حکومت نے بھی اس تجویز کو گرم آلو کی طرح منہ جلنے کے خوف سے اُگل دیا تھا۔ جس سے یہ تجویز طاق نسیاں کی زینت بن کر رہ گئی تھی۔ اب ایک نئی اور جدید تصورات پر مبنی کشمیر پالیسی کے قیام کی ضرورت شدت سے محسوس کی جارہی ہے مگر کہن زدہ نظام میں جہاں مکھی پر مکھی مارنے کا رواج ہو یہ مشکل تو ہمیشہ موجود رہتی ہے کہ ”بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا”۔ چار وناچار حکومت پاکستان کو ہی اس جانب پیش قدمی کا آغاز کرنا ہوگا۔