مرے کو مارے شاہ مدار

صارفین بجلی پرایک بارپھربجلی گرانے کا اقدام ناقابل برداشت ہونے کے علاوہ وزیراعظم کے اس اعلان اور وعدے کی سراسر نفی بلکہ اس کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے جس میں انہوں نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم کے اعلان کے بعد قیمتوں میں اضافے کا نیا فارمولہ وضع کیا گیا ہے جس کے تحت کوارٹر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر بجلی صارفین سے2روپے69پیسے فی یونٹ کے حساب سے اضافی بل وصول کرنے کے3ٹیرف جاری کردیئے گئے ۔ وفاقی حکومت نے کوارٹر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی بنیاد پر 2روپے 69پیسے فی یونٹ کا اضافہ کردیااب بجلی کے صارفین کو2روپے 69پیسے فی یونٹ کے حساب سے اضافی رقم ادا کرنا ہو گی۔ ذرائع کے مطابق 2018کے پہلے اور دوسرے کوارٹر میں استعمال شدہ یونٹس پر1روپیہ80پیسے فی یونٹ اضافہ سامنے آیا ہے جبکہ 2018کے تیسرے اور چوتھے کوارٹر میں استعمال ہونیوالے یونٹس پر 63پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان کے عوام سے کئے گئے وعدے کو ابھی ہفتہ عشرہ ہی نہیں گزرا ہے کہ صارفین بجلی کو لوٹنے کاایک نیا حربہ سامنے آیا ہے۔2018ء میں استعمال شدہ بجلی کے نرخ میں2020 میں اضافہ سمجھ سے بالا تر امر ہے ایسا لگتا ہے کہ کوئی نادیدہ اور خفیہ ہاتھ وزیراعظم کے وعدوں کو ہیچ ثابت کرنے اور عوام کو حکومت سے بدظن کرنے کے منظم منصوبے پرعمل پیرا ہے۔ عوام کو پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں واضح کمی کے ثمرات سے بھی محروم رکھا گیا۔ پیٹرولم مصنوعات بجلی اور گیس کے نرخوں میں تقریباً ماہانہ بنیادوں پر مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا وقت آیا تو واجبی کمی کیساتھ ہی لیوی کی شرح بڑھا دی گئی جبکہ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کے باوجود اب دو سال قبل کے استعمال شدہ یونٹوں کی اضافی قیمت وصول کی جارہی ہے عوام دہائی دے دیکر تھک چکے ہیں اور لوگ اب عدالت عظمیٰ کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ اس ظلم کا عدلیہ ہی نوٹس لے اور عوام سے دوسال بعد وصولیوں کوروکے۔
حکومت اور حزب اختلاف کا نامناسب رویہ
خیبرپختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی اجلاس کے بعد روزانہ کی بنیاد پر وزیر اعلیٰ ہائوس کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے اسمبلی فلور اور اسمبلی کے باہر احتجاج میں شدت لانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ اپوزیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ ترقیاتی فنڈز تحریک انصاف کے غیر منتخب افراد کے ذریعے خرچ کیے جارہے ہیں۔ ضم اضلاع کیساتھ کئے گئے وعدوں کے مطابق انہیں حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔ صوبے کے مختلف اداروں میں فیئر ٹیسٹنگ سروسز کے ذریعے بھرتیوں کی خرید وفروخت جاری ہے، وقت سے قبل تحریری امتحان کے پرچے بھاری معاوضہ لیکر آئوٹ کرائے جاتے ہیں اور لاکھوں روپوں کے عوض ایک سرکاری آسامی کی بولی لگائی جاتی ہے، ان کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور معلوم کیا جائے کہ اس میں کون ملوث ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے وزیراعلیٰ اور سپیکر کیخلاف جو محاذ کھولا گیا ہے وہ یکطرفہ نہیں دو طرفہ ہے، حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ حکومت اور حزب اختلاف جمہوریت اور پارلیمان پر یقین رکھنے کے باوجود نہ تو ایک ساتھ بیٹھ کر مسائل کے حل پر تیار ہیں اور نہ ہی ایوان کے اندر اپنے مسائل کے حل اور تحفظات دور کرنے کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ جمہوری سیاست اور پارلیمان کو عضو معطل بنا کر جمہوریت کی دعویداری اور روایات کی پامالی کا عجیب طرزسیاست سمجھ سے بالا ترہے۔ جہاں تک حزب اختلاف کی جانب سے فنڈز سے محرومی، ضم اضلاع کے عوام کے وعدوں سے انحراف اور ملازمتوں کی خریدوفروخت اور ناانصافی کا تعلق ہے اس حوالے سے حکومت کو تحقیقات کرنے اور حزب اختلاف کو ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری نبھانی چاہئے تاکہ اس مسئلے کا حل نکل آئے۔ حکومت کو ایک مرتبہ پھر براہ راست اور بالواسطہ ذرائع سے حزب اختلاف سے بات چیت اور ان کے تحفظات دور کرنے کی سعی کرنی چاہئے اور حزب اختلاف کو جمہوری اقدار کا خیال رکھنا چاہئے۔اس وقت صوبہ کرونا وائرس کے باعث جن حالات سے دوچار ہے اس کا تقاضہ ہے کہ ضد اور انا کی قربانی دے کر ایسا طرز عمل اختیار کیا جائے جو مفاہمت اور ہم آہنگی پرمنتج ہو۔
تینتیس ہزار بچوں کا مستقبل خطرے میںکیوں؟
خیبر پختونخوا پارٹنر اسکول کی صوبائی سطح کے اجلاس پشاور میںحکومت اور افسران کی لاپرواہی کی وجہ سے ووچرز اسکیم کے تحت 33ہزار بچوں کو نجی سکولوں میں مزید تعلیم دینے سے معذرت پر تمام ذمہ داری ادائیگی نہ کرنے والے فریق پر عائد ہوتی ہے۔ نجی سکول مالکان کے اس موقف کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا کہ حکومت کی جانب سے ہر تین مہینے بعد ادائیگی کا وعدہ کر کے دو سال ادائیگی نہیں کی گئی جو معاہدے کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ آئندہ کیلئے اس حکومت کیساتھ نجی ادارے کوئی بھی معاہدہ نہیں کریں گے۔ نجی سکولوںکی انتظامیہ سے معاہدہ کر کے بچوں کو داخل کرانے کے بعد ادائیگی میں تاخیر در تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں، حکومت کو جلد سے جلد معاہدے کے مطابق بچوں کے فیسوںکی ادائیگی کا بندوبست یقینی بناکر تینتیس ہزار بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں اب ایک دن کی بھی تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔