اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے

ملاوٹ دنیا کا سب سے بڑا اور خطرناک دھوکا ہے، یہ وہ سچ ملا جھوٹ ہے جو انتہائی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بن رہا ہے۔ اس کی وجہ سے عوام الناس کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں اگر خیبر پختونخوا کی حکومت نے ملاوٹ مافیا کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے تو یقینا بہتری کی طرف یہ ایک احسن قدم ہے اور اس کی ضرورت بڑی شدت سے محسوس کی جارہی تھی۔ ملاوٹ مافیا کیخلاف جہاد وقت کی اہم ضرورت ہے یہ کام ترجیحی بنیادوں پر بہت پہلے ہوجانا چاہئے تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ملاوٹ مافیا آکٹوپس کی طرح اپنے پنجے پوری طرح گاڑ چکی ہے، ملاوٹ مافیا کی بیخ کنی کسی عبادت سے کم نہیں ہے، صوبے کے اعلیٰ افسران کی زیرنگرانی قائم ہونے والی ٹاسک فورس کو وسیع اختیارات دئیے گئے ہیں۔ صوبائی ایکشن پلان کے مطابق ٹاسک فورس کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ خوراک کے نمونے حاصل کرکے اس کا تجزیہ کریں، ٹاسک فورس روزمرہ استعمال ہونیوالے اشیائے خوردنی کے نمونے حاصل کرکے نہ صرف ان کا تجزیہ کریگی بلکہ ملاوٹ کرنیوالوں کیخلاف سخت ترین کاروائی کریگی۔ ملاوٹ مافیا وہ وائرس ہے جو ہمارے معاشرے کی رگ رگ میں سرایت کرچکا ہے، اس سے کوئی شعبہ بھی محفوظ نہیں ہے ہمارے یہاں ہر چیز میں ملاوٹ ہے بقول جون ایلیا:
اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
اس وقت ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج خالص اشیائے خوردنی کا حصول ہے، جب بھی ملاوٹ کا سوال اُٹھتا ہے تو نظر سب سے پہلے بازار میں فروخت ہونے والے دودھ اور دہی پر پڑتی ہے، ساتھ ہی بالائی (ملائی) کو بھی شامل کرلیں اب ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں اگر پانی ملا دودھ مل جائے تو غنیمت ہے کیونکہ آج کل کیمیکل کا دور دورہ ہے جس کی وجہ سے بڑی خطرناک قسم کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ بازار سے خریدا گیا دہی جو کیمیکل کی ملاوٹ کی وجہ سے بہت زیادہ گاڑھا ہوتا ہے جسے ہمارے جیسے سادہ لوح بڑا معیاری دہی سمجھتے ہیں، اسی طرح چائے کی پتی میں ملاوٹ، گڑ میں کیمیکل، سبزیوں، مسالہ جات، پھلوں، مشروبات، گھی، شہد میں ملاوٹ، مالٹا تربوز اور دوسرے بہت سے پھلوں کو انجکشن لگا کر مصنوعی مٹھاس پیدا کی جاتی ہے اسی طرح نانبائی جس آٹے کی روٹی پکا رہے ہیں اسے چبانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بازار میں بکنے والے چپس، کرکرے اور دوسری بہت سی کھانے پینے کی وہ چیزیں جو صرف اور صرف بچے بڑے شوق سے کھاتے ہیں، اتنے ناقص میٹریل سے تیار کی جاتی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ چھوٹے بچوں میں تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماریوں کی سب سے بڑی وجہ یہی غیرمعیاری چیزیں ہیں جن کے نام بھی بڑے عجیب وغریب ہیں جیسے چپس، کرکرے، جنگل پاپس، سلاد، شانسے، چاہت، لیز اور اسی طرح دوسری بہت سی کھانے پینے کی چٹ پٹی چیزیں جنہیں بچے ہی جانتے ہیں! کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم بحیثیت قوم ملاوٹ کی شاہراہ پر سرپٹ بھاگ رہے ہیں، ہمیں اپنے چند روپوںکے منافع کیلئے کسی کا بھی خیال نہیںہے، اگر بچے بیمار ہوتے ہیں تو ہماری بلا سے۔ اس وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے اپنے بچے بھی یہی چیزیں کھا رہے ہوتے ہیں بازار میں طرح طرح کی آئس کریم دستیاب ہے، ہر اچھی کمپنی کی نقل کرنے والی دوچار کمپنیوں کی مصنوعات بازار میں ضرور دستیاب ہوتی ہیں۔ آئس کریم میں موجود رنگ انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہوتا ہے، معیاری خوردنی رنگ جس کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے وہ تو استعمال نہیں کیا جاتا اس کی جگہ انتہائی ناقص کوالٹی کے خوردنی رنگ استعمال کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح جہاں اچھی معیاری بیکریاں موجود ہیں وہاں ایسی بیکریوں کی بھی کثرت ہے جہاں انتہائی ناقص معیار کی پیسٹریاں، فینسی کیک، کریم رول، کریم پف، بہت سی اقسام کے غیرمعیاری بسکٹ، شامی کباب، کٹلٹس اور اسی طرح کی دوسری بہت سی اشیاء جنہیں کھانا بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے دستیاب ہیں۔ ٹاسک فورس کی نظرکرم قصاب کی دکان پر بھی ضرور پڑنی چاہئے، جہاں بیمار جانوروں کا غیرمعیاری گوشت دھڑلے سے فروخت ہورہا ہے اسی طرح بڑے معیاری ہوٹلوں کے کچن بھی آپ کی توجہ چاہتے ہیں، ہم ایک وقوعے کے چشم دید گواہ ہیں جس کے راوی ایک قصاب ہیں، ہم نے انہیں دنبے کے گوشت کے چھوٹے چھوٹے قتلے بناتے دیکھا، گوشت کی تعریف کی تو وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا جناب یہ ہاتھی کے دانت ہیں، کھانے کے اور دکھانے کے اور! ہماری آنکھوں میں حیرانی دیکھ کر خود ہی کہنے لگا یہ نوزائدہ بچھڑوں کا گوشت ہے جسے دنبے کا گوشت بتا کر گاہک کے سامنے رکھا جاتا ہے، گوشت بچھڑوں کا اور قیمت چھوٹے گوشت کی؟ مال کا یہی فتنہ ہے جس نے ہمیں طرح طرح کی آفات میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بیماریاں، بلائیں، وبائیں، مہنگائی، بدامنی، بے اطمینانی، بے برکتی اور دوسرے بہت سے مسائل، یہ ”شامت اعمال ما” نہیں تو اور کیا ہے؟۔