تالابِ سیاست میں طوفان یا ارتعاش؟

ملکی سیاست کے تالاب میں اب طوفان کا امکان بہت کم رہ گیا ہے، البتہ ارتعاش کا عمل نہ صرف جاری رہے گا بلکہ وقفے وقفے سے تالابِ سیاست کے سکون کیساتھ چھیڑ چھاڑ بھی کرتا رہے گا۔ وزیراعظم عمران خان کیلئے مشکل وقت قدرے ٹلتا ہوا نظر آرہا ہے مگر عوام کی مشکلات ابھی ختم ہوتی نظر نہیں آتیں۔ اعتزار احسن ملک کے ایک معروف اور باخبر سیاستدان ہیں، پیپلزپارٹی کا حصہ ہیں مگر پارٹی میں جسٹس افتخار کیساتھ کھڑا ہونے اور کھڑا رہنے کی قیمت نظرانداز کئے جانے کی صورت میں اب تک ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا حصہ رہتے ہوئے بطور وکیل ایک مختصر عرصے کیلئے میاں نوازشریف کے قریب چلے گئے مگر جلد ہی وکالت سے واپس پلٹ آئے اور اب شریف خاندان کی سیاست کے کڑے ناقد ہیں۔ اعتزاز احسن نے شریف برادران کی بیرون ملک روانگی اور دیارغیر میں طویل ہوتے ہوئے قیام کے بارے میں بہت اہم انکشافات کئے ہیں جن سے ملکی سیاست کی ایک مختلف تصویر سامنے آرہی ہے۔ انہوں نے یہ معنی خیز جملہ کہا ہے کہ میاں نوازشریف عمران خان کی حکومت کے استحکام کے ضامن ہیں اور یہ کہ نوازشریف کی لندن روانگی ایک ڈیل کا نتیجہ ہے۔ ان کے بقول یہ ڈیل عمران خان سے نہیں بلکہ ملکی اسٹیبلشمنٹ سے ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے طے شدہ معاملے کے طور پر دھرنا دیا اور نوازشریف کو رہا کروا لیا۔ اعتزاز احسن کے ان خیالات کی مسلم لیگ ن نے باضابطہ تردید نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت اور ملک کی ہیئت مقتدرہ کے مابین شریف خاندان کو سیاسی ریلیف دینے کیلئے معاملات ایک مدت سے جاری تھے اور کبھی کبھار ان مذاکرات میں بیرونی عناصر بھی دخیل ہوتے تھے۔ عمران خان اس مرحلے پر شریف خاندان کو کوئی ڈھیل دینے یا ڈیل کرنے کے کڑے مخالف تھے ان کے خیال میں یہ عمل ان کی سیاست کو غتربود کرنے کا باعث بنے گا مگر بین الاقوامی طور پر ماضی کی طرح ایک دباؤ قائم ہو رہا تھا اور پاکستان جیسے کمزور معیشت کے حامل ملک کیلئے اس دباؤ کا مقابلہ کرنا آسان نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب میاں نوازشریف ضمانت پر علاج کی غرض سے ملک سے باہر چلے گئے تو عمران خان خاصے اپ سیٹ دکھائی دئیے۔ خود مسلم لیگ ن کے راہنما خواجہ آصف نے عمران خان کے اس دعوے کے جواب میں این آر او نہیںدوں گا، اسمبلی میں کہا تھا کہ آپ سے این آر او کون مانگ رہا ہے آپ سے ڈیل کون کر رہا ہے آپ کو پتا ہی نہیں چلے گا ڈیل ہوجائے گی آپ کے سر پر تو چھت گرنے والی ہے۔ بعد میں خواجہ آصف کی یہ پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور میاں نوازشریف طبی بنیادوں پر عدالتوں سے ضمانت حاصل کرکے لندن سدھار گئے۔ لندن روانگی کے وقت انہوں نے حکومت کو چڑانے کے انداز میں خود کو بیمار کی بجائے ہشاش بشاش ظاہر کیا جس سے حکومت واقعی کھسیانی سی ہو کر رہ گئی۔ اب اعتزاز احسن نے اس ڈیل کی تصدیق کرکے حکومت اور شریف خاندان کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کئے ہیں۔ اس دوران خاصی مدت کی خاموشی کے بعد مریم نواز نے چپ کا روزہ توڑ دیا اور وہ گھر سے باہر آئیں اور پہلی بار میڈیا سے نیم سیاسی محتاط گفتگو کی تاہم انہوں نے سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کا ارادہ ظاہر نہیں کیا۔ اپنی چپ کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ان کی وجہ سے میاں نوازشریف کو علاج ادھورا چھوڑ کر وطن واپس آنا پڑے۔ تاہم مسلم لیگ ن میں میاں نوازشریف کے نمبر دو یا جانشین کا معاملہ ایک سنجیدہ رخ اختیار کرتا جا رہا ہے۔ شہباز شریف اور مریم نواز میں اس کیلئے غیرمحسوس دوڑ جاری ہے اور مریم نواز خود تو شاید بوجوہ یہ ذمہ داری نہ اُٹھائیں مگر اس کیلئے عارضی طور پر شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے اس کے برعکس شہباز شریف اپنی واپسی تک خواجہ آصف کو آگے بڑھانے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی صفوں کے اندر سے شہباز شریف کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے اور یہ کہا جانے لگا کہ قائد حزب اختلاف کی غیرموجودگی بلاجواز ہے۔ مسلم لیگ ن کے اتحادی بلاول بھٹو زرداری بھی شہبازشریف کے بیرون ملک قیام پر سوال اُٹھا چکے ہیں۔ ایسے میں مسلم لیگ ن کے چند ارکان صوبائی اسمبلی نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقات کی ہے جو مزید پنچھیوں کی اُڑانیں بھرنے کی تیاریوں کا پتا دے رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری پنجاب میں پارٹی کے احیاء کے امکانات سے مایوس ہو کر اب این جی اوز کے گھوڑے اور ”جب لال لال لہرائے گا” کے نعرے کی لہروں پر سوار ہونے کی تگ ودو میں ہیں۔ انہیں کسی نیم حکیم نے بتا دیا ہے کہ پارٹی کی بحالی اور احیا کا یہی ایک راستہ باقی ہے۔ پنجاب کی سیاسی حرکیات کو سمجھنے والوں کی یہ متفقہ رائے کہ فی الحال پنجاب میں بلاول بھٹو اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں یہ وقت اور صلاحیت وہ سندھ حکومت کی کارکردگی اور اسے کرپشن فری بنانے پر صرف کریں تو اس کے ملک گیر اثرات مرتب ہو سکتے تھے مگر وہ یہ راستہ اپنانے کی بجائے غیرضروری اور لاحاصل سیاسی مشقت میں اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔ این جی اوز کے ذریعے سیاست میں واپسی ایک ناممکن سی بات ہے۔ چودھری برداران بھی مولانا کی طرح مخصوص مقاصد اور محدود وقت کیلئے اپنا کردار ادا کرکے واپس اپنے مقام اور مدار میں آچکے ہیں۔ بدلتے ہوئے اس ماحول میں حالات میں عمران خان کے پاس اب ڈلیور کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔