کرونا ،احتیاط لازم مگر خوف طاری نہ کریں

وطن عزیز میں مالک ارض وسما کی خاص کرم اور رحمت عظیم کے باعث کرونا وائرس کے پھیلنے کی شرح نہایت ہی کم ہے، اس کے باوجود کہ پاکستان چین اور ایران سے متصل ملک ہے، پاکستان میں کرونا وائرس نہیں پھیلا بغیر کسی سفری تاریخ کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا صرف ایک ہی کیس سامنے آیا ہے۔ کرونا وائرس سے دنیا کے کئی ممالک میں لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں، یہ موت کا خوف ہے یا پھر اس وائرس کے بار بار کا تذکرہ اور اسی کو موضوع سخن بنائے رکھنے سے یہ ہمارے اعصاب پر طاری ہوا ہے اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے معلومات اور موضوع سخن بنانے کو اعتدال میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ وائرس لگے یا نہ لگے ہم خدانخواستہ اس سے نفسیاتی طور پر کسی بیماری کا شکار نہ ہوجائیں اور خوف کے باعث ہمارا مدافعتی نظام کمزور ہو کر نفسیاتی عوارض یا پھر جسمانی بیماری کا شکار نہ ہوجائیں۔ حکومت نے جواقدامات اُٹھائے ہیں اگر حکومت ایسا نہ کرتی تو خواہ مخواہ کی تنقید کا شکار ہوتی، بہرحال حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی حفاظت کیلئے پیشگی اور ممکنہ اقدامات کرے۔ بطور مسلمان اگر اس وباء کے حوالے سے ہم اپنے کردار وعمل کا جائزہ لیں تو افسوس ہوتا ہے کہ مسلمان ممالک میں ایسے ایسے اقدامات سامنے آرہے ہیں جو ہمارے ایمان کے متزلزل ہونے کی دلیل ہے۔ مسجد الحرام کی بندش اور طواف کاموقوف ہونا کس قدر تکلیف دہ مقام ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، کویت میں مساجد بند کر کے الصلوة فی البیوت کا لفظ اذان میں شامل کردیا گیا ہے، محولہ دونوں فیصلوں اور خاص طور پر اذان میں تحریف کے حوالے سے علمائے کرام ہی بہتر رائے دے سکتے ہیں، احتیاط کے تقاضوں سے انکار ممکن نہیں لیکن بطور مسلمان موت وحیات پر ہمارا جو عقیدہ ہے اس کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔ قرآن کریم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ جب ساعت آتا ہے تو اس میں لمحہ بھر کی تعجیل ہوتی ہے اور نہ تقدیم ممکن ہے۔ کسی وباء کا خوف ہمارے اس درس وعقیدہ کو خدانخواستہ متاثر نہ کرے۔ اس امر کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ بطور مسلمان ہی نہیں بلکہ بطور بنی نوع انسان ایک نہ ایک دن ہمیں اس دنیا سے جانا ہی ہے، بنا برین احتیاط ضرور کرنے کی ضرورت ہے مگر نفسیاتی طور پر خود پر اس قدر خوف کہ جان نکالنے والی ہو مسلمان کا شیوہ نہیں۔ عقیدہ اسلام سے قطع نظر دنیاوی وسائنسی طور پر بھی حوصلہ بلند رکھنے اور ہمت کیساتھ مشکلات کا مقابلہ کرنے کا طریقہ کار اختیار کرنے کی ہدایت ہے۔ اگر خیبرپختونخوا کی حد تک کی بات کی جائے تو ان دنوں کے گزرے زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب اس شہر میں ایک ہی دن سات خود کش وبم دھماکے ہوتے، روزانہ کی بنیاد پر خودکش حملوں اور بم دھماکوں سے خیبرپختونخوا کے عوام کا واسطہ رہا ،ان حالات کا مقابلہ ہم نے ہمت اور جوانمردی کیساتھ کیسے کیا، ہمارے جوانوں نے خود کو فدا کر کے لوگوں کا تحفظ کیسے کیا کیا، سوائے ذات باری تعالیٰ پر ایمان اور موت وحیات اسی ذات عالی کے ہاتھ میں ہونے اور بصورت موت شہادت کے عظیم رتبے پر فائزہونے کے یقین کے علاوہ اور کوئی حوصلے کا باعث امر تھا، یقینا نہیں۔ بطور مسلمان خواہ انہوں نے وردی زیب تن کی ہو یا عام آدمی چھوٹا ہو یا بڑا،امیر ہو یا غریب ہر کسی کیلئے عقیدہ دین اسلام سے بڑھ کر ہمت کا باعث کچھ اور ہے ہی نہیں۔ ہم مسلمان ہیں موت کے وقت معینہ پر ہمارا ایمان ہے، ہم اس دنیا کے بعد کی زندگی پر پوری طرح قائل اور اس پر مکمل عقیدہ رکھتے ہیں، موت بعد الممات پر یقین رکھنے والوں کو ذات باری تعالیٰ پر توکل رکھنا چاہئے باقی ممکنہ احتیاطی تدابیر پر حکومت کی ہدایات اور فیصلوں پر عملدر آمد ایک دوسرے کا خیال اور ممکنہ احتیاط بطور مسلمان اور بطور پاکستانی ہم پر فرض اور ہمارے دین کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ وباء سے جس قدر بھی احتیاط کی جائے خود کو مکمل طور پر بچانا ممکن نہیں ہوتا اس لئے احتیاط ضرور کیجئے مگر اسے اپنے ذہن پر طاری نہ ہونے دیں۔ شعائراسلام کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں، ان کی ادائیگی کے وقت جو احتیاط اور بچاؤ کی تدابیر ممکن ہوں اس میں کوتاہی نہ کریں، اونٹ کو مالک کائنات کے حوالے ضرور کریں لیکن اس کے گھٹنے باندھنے کی ہدایت کی بھی پیروی کریں۔