کورونا وائرس’ مناسب اقدامات لیکن تاخیر سے

کڑوا سچ یہ ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے جو اقدامات 13مارچ کو اُٹھائے گئے وہ لگ بھگ 25فروری کو اُٹھا لئے جانے چاہئیں تھے۔ بہت ضروری تھا اور اگر کچھ تاخیر ہوئی بھی تھی تو یکم مارچ سے افغانستان’ ایران اور بھارت سے ملحقہ سرحدیں تا حکم ثانی بند کردی جانی چاہئیں تھیں۔ حیرانی تب ہوئی جب چین میں زیرتعلیم طلباء اور ایران گئے زائرین کیلئے الگ الگ معیار اپنایا گیا، اس دوعملی نے کچھ بدفطرتوں کو مغالبہ آرائی کا موقع دیا تھا اور انہوں نے عوام الناس کے مختلف طبقات کے درمیان نفرتوں کے بیج بونے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ہم کیا عجیب مخلوق ہیں وبا کے موسم میں بھی فرقہ پرستی کا منجن فروخت کرنے لگ جاتے ہیں۔ مناسب فیصلے ہوئے 13مارچ کو منعقد ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں 14 دن کیلئے ایران اور افغانستان کی سرحدیں بند’ یوم پاکستان کی پریڈ منسوخ’ ملک بھر میں 5اپریل تک تعلیمی اداروں اور مدارس دینیہ کی بندش کیساتھ بڑے عوامی اجتماعات’ شادی بیاہ کی شادی ہالوں میں تقریبات پر پابندی’ یہ بجا طور پر درست فیصلے ہیں مگر کسی نے غور کرنے کی زحمت کی کہ اگر پچھلے پندرہ اٹھارہ دنوں میں اس حوالے سے بتدریج اقدامات کئے گئے ہوتے تو 13مارچ کے اعلانات سے سنسنی نہ پھیلتی؟۔ یہاں مگر غور وفکر کی زحمت کون کرتا ہے۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ نے چند دن قبل دو ٹوک انداز میں کہا ” وفاق نے اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش نہیں کی۔ ہماری درخواست پر وزرائے اعلیٰ کے بلائے گئے اجلاس میں باقی تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی بجائے چیف سیکرٹری بھیج دیئے” یہ تھا سنجیدگی کا عالم۔ ان شکایات (اور ان کے ٹھوس ثبوت وشواہد موجود ہیں) کا نوٹس تک نہیں لیا گیا کہ ملتان’ کراچی’ لاہور اور اسلام آباد کے انٹرنیشنل ایئر پورٹس پر بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے طبعی معائنہ کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ محض یہ کہہ دینا کہ ” مسافروں کو پتہ ہی نہیں چلایا اور معائنہ ہوگیا” سنگین مذاق کے سوا کچھ نہیں۔ کیا طبعی اہلکاروں نے سلیمانی ٹوپی پہن رکھی تھی؟ ہمارے پڑوس کے دو ملکوں چین اور ایران نے اس ” وبا” سے نمٹنے کیلئے جو اقدامات کئے وہ مثالی ہیں۔
ہمیں دنیا سے سیکھنے کی ضرورت تھی ‘ ہے اور رہے گی۔ مان لیجئے کہ ہم دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔ مقامات مقدسہ والے چار اسلامی ممالک’ سعودی عرب’ ایران’ شام اور عراق ہیں۔ علماء اور حکومتیں ایک پیج پر بارہ دن قبل یعنی 2 مارچ کو ہی دکھائی دیں۔ یہاں ہمارے مسجدوں کے پیش نماز لوگوں کو بہلا رہے تھے۔ ایران سعودی عرب اور عراق میں حکومتوں نے علماء کے تعاون سے نماز جمعہ پر پابندی لگاتے ہوئے باجماعت نماز کے اوقات مختصر کردئیے، بیت اللہ میں ایک مرحلہ پر طواف مکمل طور پر روک کر انسداد کورونا وائرس کا سپرے کیاگیا، اگلے مرحلوں میں صحن میں طواف پر پابندی تھی بالائی منزلوں میں احتیاطی تدابیر کے بعد طواف جاری تھا۔ یہاں مسلکی بنیادوں پر اجتماعات کرنے والوں نے حکومت کی درخواست پر غورکرنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ کیوں درخواست کی حکومت نے؟ اسے حکم جاری کرنا چاہئے تھا۔ بہت ضروری تھا کہ ہم پاکستانی عوام میں آگاہی کیلئے منظم مہم چلاتے انہیں بتایا جاتا کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 30ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ آپ پچھلے دو دنوں (اس تحریر کے لکھے جانے سے قبل کے) میں یورپ میں اُٹھائے گئے اقدامات اور عمومی صورتحال کو ذرا بغور دیکھئے۔ صرف برطانیہ نے اس وائرس سے نمٹنے کیلئے 39 ارب ڈالر کا فنڈ مختص کیا، یہ ایک مثال ہے، اٹلی میں مزید 250افراد جاں بحق ہوچکے۔ رومانیہ میں پوری حکومت قرنطینہ میں منتقل کردی گئی۔ ایران میں فوج سے کہا گیا ہے کہ شاہراہیں خالی کروانے کیلئے اقدامات کرے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آخر ہمیں زعم کس بات کا تھا۔ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ جو اقدامات 15دنوں کے دوران تواتر کیساتھ اُٹھائے جانے تھے ان کا اعلان ایک دن میں کرنا پڑا؟ اب جو سنسنی پھیلی ہے اس کا تدارک کیسے ہوگا۔ ستم یہ ہے کہ ایک اہم حکومتی شخصیت پر دو کروڑ ماسک بیرون ملک سمگل کرنے کا الزام لگ گیا ہے۔ ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
بہت اُمید اور احترام کیساتھ عرض کروں کہ حکومت نے قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کا ہی انتظار کیوں کیا، اصولی طور پر وزارت صحت’ داخلہ اور تعلیم ان تین وزارتوں کو لگ بھگ 12دن قبل مؤثر حکمت عملی وضع کرلینی چاہئے تھی۔ چلیں جو ہوگیا سو ہوگیا آگے بڑھئے کہ اس کی ضرورت ہے۔ مشیر صحت کہہ رہے ہیں کہ ملک میں کورونا وائرس کے 28مریض ہیں جبکہ آزاد و ذمہ دار ذرائع ان کے پیش کردہ اعداد و شمار سے متفق نہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر اعداد و شمار کو کسی وجہ سے مخفی رکھنا ضروری بھی ہے تو اقدامات و علاج میں کوئی کسر نہ اُٹھا رکھی جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور ملک بھر میں اضلاع کی سطح پر موجود انتظامی افسروں کو آگہی مہم کے نئے مرحلہ میں سندھ حکومت کی پیروی کرتے ہوئے عوامی اجتماعات اور تقریبات کیساتھ مذہبی پروگراموں پر پابندی کو یقینی بنانا چاہئے۔ ہسپتالوں میں کورونا کٹس کی فراہمی کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔ موجودہ صورتحال میں معمول کی اشیاء کیساتھ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کا خطرہ ہے اس کی روک تھام کیلئے سخت گیر اقدامات کی ضرورت ہے۔ خوش آئند بلکہ آگہی کے شعور کا عملی مظاہرہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کیا۔ انہوں نے 15مارچ کو منعقد ہونے والی اپنے صاحبزادے کی دعوت ولیمہ کی تقریب ملتوی کر دی اس طرح کی چند اور مثالیں ہیں۔ معروف سوشل ورکرز حکیم عمر عطاری نے ہمشیرہ کی رخصتی کے پروگرام کو چند افراد تک محدود کردیا، دیگر لوگوں کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہئے۔ یاد رکھنے اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ مرض کا علاج لطیفوں’ پھبتیوں سے نہیں ادویات اور مؤثر علاج کیساتھ ضروری احتیاط کے مظاہرے سے ہوتا ہے۔