کھیل کے میدانوں کی کمی اور پارکس کی حالت زار

کھیل نوجوانوں کی جسمانی وذہنی نشو ونما کیلئے انتہائی ضروری اور مفید ہے لیکن ہمارے ہاں نوجوانوں کیلئے کھیلوں کے میدانوں کی کمی ہے ۔ اس کے منفی اثرات ہمارے پورے معاشرے پر مرتب ہور ہے ہیں۔ کم گرائونڈ ز ہونے کے باعث نوجوان، سڑکوں، محلوں اور گلیوں میں کھیلنے پر مجبور ہیں۔جب نوجوانوں کی پہنچ میں کوئی کھیل کا میدان نہ ہو تو وہ منفی سر گرمیوں کی جانب بڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان ساری خرابیوں کی بنیادی وجہ کھیل کے میدانوں اور سہولتوں کی کمی ہے ۔ لہٰذا حکومت اس اہم مسئلے پر فوری توجہ دے اور کھیل کے نئے میدان بنائے تاکہ نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھا جا سکے۔ صوبائی دارالحکومت میں اولاً پارکس کم ہی موجود ہیں جو قدیم باغات تھے اور پارکس تھے ان کا حلیہ کسی نہ کسی وجہ سے بگاڑا جا چکا ہے، ان کا رقبہ سکڑ گیا ہے اس کے علاوہ جو پارکس بنائے گئے ہیں وہاں چھوٹے بچوں کے کھیل وتفریح کے لوازمات ٹوٹے پڑے ہیں۔ جھولے ٹوٹ چکے ہیں اور ان کی زنجیریں کسی بھی وقت ٹوٹنے کے باعث حادثے کا خدشہ رہتا ہے۔ بچوں کے کھیلنے کے جو دیگر ذرائع پنڈولم یا پھسلنے کا سازوسامان پارکوں میں رکھا جاتا ہے ان کی حالت اس قدر شکستہ وکمزور ہوتا ہے کہ دو تین ماہ کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ سامان سپلائی کرنے والے ٹھیکیدار سے تو کوئی کیا پوچھے کمیشن مافیا کے باعث آوے کا آوا بگڑا ہوتا ہے۔ ان آلات کھیل کی مرمت وبحالی بھی نہیں ہوتی، بچوں کو صحت مند تفریح کے مواقع نہ ملیں تو ان کی محنت اور سرگرمیوں دونوں ہی پر منفی اثرات مرتب ہونا فطری امر ہے۔ مشیر بلدیات اور ڈی جی پی ڈی اے سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ معصوم بچوں کے کھیلوں کے سامان کی مرمت وبحالی پر فوری توجہ دیں گے اور پارکس میں ٹوٹے جھولوں،پنڈولم پھسلن اور دیگر سامان کی مرمت کروائیں گے۔
انوکھی تبدیلی، ہسپتال میں اے سی کا دفتر
پشاور بڈھ بیر ہسپتال میں اسسٹنٹ کمشنر کے دفترکا قیام سمجھ سے بالا تر امر ہے جس کیخلاف عدالت سے رجوع کیا گیا ہے، عدالت کو بتایا گیا کہ ہسپتال میں بلاک پر بغیر منظوری کے قبضہ کیا گیا اور محکمہ صحت سے منظور ی بھی نہیں لی گئی۔ درخواست گزار نے استفسار پر عدالت کو بتایا کہ ہسپتال مریضوں کیلئے ہے بچے اور خواتین ہسپتال آتے ہیں ایڈمنسٹریٹو دفتر کے قیام سے بے پردگی ہوگی، ہسپتال میں انتظامی افسرکے دفتر کے قیام کی شاید ہی کوئی نظیر موجود ہو، انتظامی عہدوں کی بہتات کے باعث اب ان کیلئے دفاتر کا قیام اور دفتر کا انتظام مشکل ہوگیا ہے۔ بڈھ بیر میں اسٹنٹ کمشنر کے دفتر کیلئے کیا کوئی اور جگہ باقی نہیں تھی کہ ہسپتال کے احاطے پر قبضہ کیا جارہا ہے۔اصولی طور پر اس کیخلاف ایک شہری کو نہیں بلکہ محکمہ صحت کوعدالت سے رجوع کرنا چاہئے تھا بہر حال چونکہ معاملہ عدالت عالیہ میں ہے اسلئے اب اس کا فیصلہ عدالت ہی سے آئے گا۔ شہری اگر اپنے مفاد اور حقوق کا خود خیال نہ رکھیں گے تو سرکاری محکموں سے کوئی بعید نہیں کہ ہسپتال میں انتظامی دفتر کھول ہی دیں۔
درسی کتب کی فراہمی میں تاخیر نہ کی جائے
ضلع چارسدہ میں ٹیکسٹ بک بورڈ خیبر پختونخوا کی کتب کی عدم دستیابی کی شکایت کا فوری نوٹس لینے کی ضرورت ہے ۔بتایا گیا ہے کہ ٹیکسٹ بک بورڈکے کتب کی عدم دستیابی کی وجہ سے پرائیویٹ سکولز باامر مجبور ی دیگر غیر سرکاری پبلشر ز کی کتب نصاب میں شامل کررہے ہیں۔وفاقی حکومت آئندہ سال سے ملک میں یکساں نصاب تعلیم کے نفاذ کا جو بلند دعویٰ رکھتی ہے اس پر عملدرآمد کی نوبت اور مشکلات کے قطع نظر عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ صوبائی سطح پر ٹیکسٹ بورڈ نصاب کی کتابوں کی بروقت فراہمی کی سکت نہیں رکھتی، ابھی تو سرکاری سکولوں میں داخلے شروع نہیں ہوئے اور سارے سکولوں میں کتابوں کی ضرورت نہیں پڑی اگر اس وقت شکایت سامنے آئی ہے تو بعد میں کیا عالم ہوگا، بہرحال ممکن ہے ٹیکسٹ بورڈ نے ابھی کتابوں کی ترسیل ہی شروع نہ کی ہو یا کوئی اور وجہ ہو اس مسئلے کا تعطیلات کے ایام ہی میں حل نکالا جائے اور صوبہ بھر میں درسی کتب کی ترسیل وفراہمی یقینی بنایا جائے۔سرکاری سکولوں کو تاخیر سے درسی کتب کی فراہمی کی سالانہ بنیادوں پر جو شکایات سامنے آتی رہتی ہیں کوشش کی جائے کہ اس سال اس کی نوبت نہ آئے۔
فلورملز کے خلاف بروقت کارروائی
ناگمان اور کوہاٹ روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے سرکاری آٹا بلیک میں فروخت کر نے پر دو فلور ملوں کو سیل کرنے کا ضلعی انتظامیہ کا اقدام مناسب اور بروقت کارروائی ہے۔آٹا ڈیلروں کی دکانوں پر سرکاری ریٹ پرآٹا کی فراہمی کے بینر جہاں جہاں نظر آتے ہیں وہاں سٹاک اتنا نظر نہیں آتا جو ہونا چاہئے، اس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ سرکاری ریٹ پر آٹے کی فراہمی میں رکاوٹیں ہیں جس پر توجہ دینے اور نگرانی وجرمانہ اور فلورملز سیل کرنے کے اقدامات تسلسل سے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آٹا بحران کی نوبت نہ آئے۔توقع کی جانی چاہئے کہ ضلعی انتظامیہ اس طرح کے اقدامات جاری رکھے گی جس کے نتیجے میں سرکاری ریٹ پر ملوںسے مارکیٹ میں آٹے کی فراہمی جاری رہے تاکہ سرکاری ریٹ پر آٹے کی فراہمی میں رکاوٹ نہ رہے اور جو لوگ مہنگا آٹا فروخت کرنے کے درپے ہوں اُن کو آٹا مہنگافروخت کرنے کا موقع نہ ملے۔