اس بگاڑ کی وجہ؟

ساری قوم کا مزاج ہی بگڑ چکا ہے’ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ معیشت کی کیفیت میں ابتری زیادہ ہے یا ہماری قوم کے مزاج میں بگاڑ گہرا ہے۔ لوگوں کے رویوں میں کئی بار ایک بیزاری ایک ناکامی کی سی کیفیت دکھائی دیتی ہے اور بسا اوقات چہرے کی مسکراہٹ میں بھی زہر سا جھانکتا ہے۔ آج سے چند دہائیاں پہلے ہمارے اردگرد کے لوگ اتنے دوغلے’ اتنے زہریلے نہ تھے جتنے آج دکھائی دیتے ہیں۔ کل ایک مجلس میں یہ بات ہو رہی تھی’ میں اسی بات پر لوگوں کی رائے لے رہی تھی کہ آخر اس سب کی کیا وجوہات ہیں تو ایک صاحب جو خود بھی اچھے خاصے فلاسفر ہیں بولے کہ وجہ معیشت ہے۔ قوموں کے مزاج معیشتیں بناتی ہیں’ معیشت بگڑ جائے تو لوگوں میں بگاڑ خودبخود آتا ہے۔ اپنی بھوک مٹانے کیلئے انسان دوسرے کی پرواہ نہیں کرتا’ اکثریت کو یہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ جس کیفیت سے وہ گزر رہا ہے دوسرے بھی اسی تکلیف کا شکار ہوں گے۔ وہ صرف اپنی تکلیف’ اپنا درد’ اپنی ہار’ اپنی پریشانی کے بارے میں فکرمند ہوتا ہے۔ کہنے لگے وہ جو آپ کو ایک فلم کا ڈائیلاگ اکثر یاد آتا ہے ناں کہ پھٹے ہوئے جوتے کے سوراخ سے دنیا دیکھو تو دنیا چھوٹی اور جوتا بڑا دکھائی دیتا ہے’ بس کچھ ایسا ہی حال ہے۔ اپنے اپنے پھٹے ہوئے جوتوں سے ہی سب اپنی اپنی دنیا دیکھ رہے ہیں اس لئے سب کو ہی پھٹا ہوا جوتا بڑا دکھائی دیتا ہے۔ میں ان کی بات سے اختلاف نہیں کر رہی تھی لیکن میرا خیال تھا کہ معیشت ہی کل حقیقت نہیں۔ یہ تو انسان کے کردار کا ایک بہت ننھا سا حصہ ہے۔ مجھے یاد ہے میرے بچپن میں وہ پھل والے بابا جی جو ہمیشہ ہمارے گھر کے اندر آکر پھل دے کر جایا کرتے تھے۔ ان کے وہ کھردرے ہاتھ اور انگلیوں کے موٹے موٹے پوٹے جن کی لکیروں میں مٹی پھنسی ہوتی تھی اور وہ روز ہی ہمارے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دیتے، اللہ خوش رکھے۔ اس وقت ہمیں تو پتا نہ تھا کہ اس دعا کی کتنی اہمیت ہے ہماری امی بہت خوش ہوا کرتی تھیں۔ وہ ہمیں ہمیشہ سمجھاتیں کہ دعا کی بڑی اہمیت ہے اور یہ پھل والا بابا تمہیں دعا دے’ اس کی اہمیت میری دعا سے بھی زیادہ ہے۔ اس وقت ہمیں اپنی امی کی باتوں کی حکمت نہ سمجھ آئی’ ہاں اب سمجھ آتی ہے۔ میں نے ان صاحب کو یہ واقعہ سنایا اور کہا اس میں معیشت کہاں ہے تو وہ بولے ایک ماں کی بات نہ کریں’ کیا آپ نے اپنے اردگرد ایسی مائیں نہیں دیکھیں جنہوں نے نخوت سے ناک سکوڑ کر اسی بابے کو دھتکارا ہوگا یا اپنی اولاد کو کہا ہوگا کہ کیا سر میں مٹی والا ہاتھ لگا دیتا ہے۔ چوکیدار سے کہو اس سے باہر سے ہی پھل لے لیا کرے، اس جملے میں بھی معیشت ہے۔ جب اس ماں نے اپنے بچے کو’ اپنی اولاد کو دعا کے بجائے اس کی مٹی سے بھری اُنگلیوں کا احساس دلایا۔ وہ بھی امیر ہوتا تو کہاں اس کے ہاتھوں سے اس کی مشقت دکھائی دیتی۔ وہ اس عمر میں سر پر پھلوں کا ٹوکرا کیوں اُٹھاتا اور آپ لوگ اس کا ٹوکرا اس کیساتھ اٹھوا کر اس کے سر پر کیوں رکھتے۔ یہی وہ معیشت ہے جسے ہم نے خود اپنے رویوں میں داخل کیا جس کی وجہ سے آج ہم ایک دوسرے سے ناراض ہیں’ ناخوش ہیں۔ اس معیشت نے نہ صرف ہمارے معاشرے کی روایات کو چاٹ لیا بلکہ ہمیں ذہنی طور پر بانجھ کر دیا۔ یہ بانجھ ہو جانا بھی عجیب ہوا کرتا ہے’ جس سوچ میں مثبت خیال کی روشنی ختم ہو جائے وہاں خالی پن کی دھونکنی چلتی رہتی ہے۔ بس ہوں ہوں کی آواز آتی ہے، نہ کچھ دکھائی دیتا ہے’ نہ سمجھائی دیتا ہے، اسی خالی پن میں عجیب سی وحشت ہوتی ہے۔ یہی وحشت ہے جو ہمیں آج کل اپنے اردگرد بکھری دکھائی دیتی ہے، یہی وحشت ہے جو اس معیشت کی بنیاد ہے۔ جب گھروں میں کمروں کی تعداد زیادہ ہو جائے تو بوڑھے ماں باپ کی تکلیف میں اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ ان کی تکلیف کو تنہائی کا دکھ سوا کر دیتا ہے، یہ بھی تو اسی معیشت کے باعث ہے۔ یہ معیشت تو ہم نے اپنی مرضی سے اختیار کی ہے۔ وہ معیشت جو ماں اور باپ دونوں کو ہی کمانے کیلئے معاشرے کے جلتے بھانبڑ میں دھکیل دیتی ہے اور بچے گھروں میں تنہا رہ جاتے ہیں۔ ان خالی گھروں میں پہلے ہی کوئی بڑا بوڑھا موجود نہیں ہوتا کیونکہ یہ معیشت انہیں کھا جاتی ہے۔ یہ معیشت ہر کمزور کو کھا جاتی ہے، خالی گھروں میں ماں اور باپ کے لوٹنے کا انتظار کرتے بچے’ کبھی کبھار اپنے گھونسلوں سے باہر بھی گر جاتے ہیں اور کوئی شکاری ان کا شکار کرلیتا ہے لیکن یہ دستور تو اب معاشرے کا بن چکا ہے۔ جب سے قناعت اور رواداری مٹی ہے’ معاشرے کے سینے میں بڑی بڑی نوکدار چٹانیں اُگ آئی ہیں۔ وہی جیسی تیمور کے بنائے ہوئے قلعوں کی ایک جانب ہوتی تھیں’ قلعے کی دیواروں سے سزا یافتہ لوگوں کو ان چٹانوں پر پھنکوا دیا جاتا تو ان کے نوکیلے سرے برچھوں’ بھالوں کی طرح ان کے جسم کے آرپار ہوجاتے۔ اب اس معیشت نے اس معاشرے کی گود میں پلتے ننھے بچوں کا شکار شروع کر دیا ہے۔ تبھی تو روز کسی تاریک کونے سے کسی بچے کی نُچی ہوئی لاش ملتی ہے۔ یہ سب اسی معیشت کا پاگل پن ہے، ذہنی مرض لوگوں کو کب انسان سے جانور بناتے ہیں پتا ہی نہیں چلتا’ بس بھنبھوڑے ہوئے جسم اس کیفیت کی دلیل ہیں۔ نہ گلہ کرنے کا وقت ہے اور نہ ہی ضرورت، یہاں تو بچوں کے جسموں کو نوچ کر زندگی چھین لینے والوں کو پھانسی کی سزا بھی نہیں دی جاسکتی کیونکہ بیمار ذہنوں والے کچھ لوگ باہر کے کسی دباؤ سے ڈرتے ہیں اور کمال کی بات یہ ہے کہ ان سے کوئی اتنی بھی نفرت نہیں کرتا کہ وہ سامنے دکھائی دیں تو منہ پھیر لیں۔ وہ بات کر سکتے ہیں، معاشرے میں موجود رہ سکتے ہیں، ترقی کر سکتے ہیں، یہ بھی اسی معیشت کا قصور ہے، یہ بھی ہمارا قصور ہے۔ ہم اپنی موت کے خود ذمہ دار ہیں، وہ ٹھیک کہتے ہیں لیکن کیا کہیں کہ کوئی اُمید نہیں کہیں سے روشنی کی کوئی کرن نہیں’ اس سے تو سانس لینا مشکل ہو جائے گا۔ اسی سے بچنے کیلئے میں کہتی ہوں کہ کوئی تو خیر ہوگی جو کسی اوٹ سے جھانکتی ہوگی۔ معیشت کا بگاڑ سہی، ابھی لوگ باقی ہیں جن کے ضمیر بھی زندہ ہیں اور کردار بھی۔