کورونا وائرس’ خوش فہمی کا شکار نہ ہوں

کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد ڈیڑھ لاکھ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 5764ہو گئی ہے’ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر بند’ برطانیہ میں اجتماعات پر پابندی جبکہ سعودی عرب میں بین الاقوامی پروازوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پاکستان میں کورونا کے متاثرین کی تعداد 31ہو گئی ہے۔ کورونا وائرس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیشِ نظر وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے تدارک کیلئے اُٹھائے جانے والے اقدامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں اور وہ جلد قوم سے خطاب بھی کریںگے ۔ وزیراعظم عمران خان نے قوم کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ قوم کورونا سے بچائو کیلئے حکومت کی جاری کردہ ہدایات پر عمل کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس نے دنیا کے 150سے زائد ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیاہے’ ان میں زیادہ تر وہ ممالک ہیں جنہوں نے کورونا وائرس کے حوالے سے قدرے تاخیر سے اقدامات کیے’ پاکستان اگرچہ اول دن سے اس مہلک وائرس کے خطرات سے آگاہ تھا اور باوجود اس کے کہ پاکستان کی چین کیساتھ سرحد بھی ملتی ہے ‘ پاکستان کو اس ضمن میں جو اقدامات اُٹھانے چاہئے تھے ان میں کچھ تاخیر کر دی گئی۔ پاکستان چین کے حوالے سے تو محتاط رہا لیکن ایران کے راستے سے کورونا وائرس پاکستان در آیا’ پاکستان میں اگرچہ کورونا وائرس سے اب تک کوئی ہلاکت نہیںہوئی اور متاثرین کی تعداد بھی بہت کم ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ جن جن ممالک میں کورونا کے مریض گئے ہیں ‘ کورونا ان ممالک میں بڑی تیزی کیساتھ پھیلتا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے بڑا ملک ہے اور بڑی آبادی پر وبائی امراض کو قابو پانا نسبتاً مشکل ہوتا ہے’ اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے کسی خوش فہمی کا شکار نہ ہوا جائے’ جو کام حکومت کے کرنے کے ہیں’ انہیں پہلی فرصت میں کیا جائے۔ ہم اب بھی ٹھوس اقدامات کی وجہ سے پاکستان کو محفوظ بنا سکتے ہیںاگر اقدامات سے پہلے اس وبائی مرض نے پنجے گاڑلیے تو پھر خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ انجام کیا ہو گا۔
پناہ گاہوں کے قیام کا غریب پرور منصوبہ
مسافروںاور بے گھر افراد کیلئے حکومت کی طرف سے پناہ گاہوں کے قیام کا منصوبہ قابل تحسین ہے’ جس میں شہریوں کو سر چھپانے کیلئے چھت اور دو وقت کی روٹی فراہم کی جاتی ہے ‘ ان پناہ گاہوں کا عام طور پر وہ طبقہ رُخ کرتا ہے جو بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم ہوتا ہے’ ایسے افراد کی دیکھ بھال اور انہیں بنیادی ضروریاتِ زندگی فراہم کرنا حکومت کا کام ہوتا ہے’ موجودہ حکومت نے شہریوں کو پناہ گاہیں فراہم کر کے خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کے زخموں پر مرہم رکھا ہے۔ پہلے مرحلے میں یہ پناہ گاہیں وفاق اور پنجاب کی سطح پر بنائی گئی ہیں ‘ اب اس منصوبے کو وسعت دیتے ہوئے خیبر پختونخوا کی سطح پر پناہ گاہیں بنانے کا پروگرام ترتیب دیا جا رہا ہے ‘ جس سے یقینا محروم طبقہ مستفید ہو سکے گا’ وزیر اعلیٰ محمود خان نے پناہ گاہوں کے قیام کے منصوبے کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایک عوام دوست اور غریب پرور منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق صوبے میں اس منصوبے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ مسافر اور مستحق لوگ اس منصوبے سے مستفید ہو سکیں۔اُمید کی جانی چاہیے کہ پناہ گاہوں کی طرح عوام کے دیگر مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان پر بھی توجہ دی جائے گی ۔
پاک افغان سرحد پرتاجروں اور مسافروں کے مسائل
آل پاکستان ایگری کلچرل پروڈیوس ٹریڈ فیڈریشن کے مرکزی صدر ملک سوہنی نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں فیصلہ کیا گیا کہ افغانستان ‘ ایران کے بارڈرز 16مارچ سے 14دن کیلئے بند ہوں گے تاہم متعلقہ حکام کی طرف سے مذکورہ بارڈر 14مارچ کو ہی بند کر دیا گیا جس سے بارڈر پر موجود سینکڑوں گاڑیوں میں سامان کے خراب ہونے کا خدشہ ہے، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بارڈر کو دوبارہ کھول کر اپنے وقت پر بند کیا جائے ‘ اسی طرح طورخم کو بھی 16مارچ سے بند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا ، مسئلہ یہ ہے کہ بارڈر بند ہونے سے پہلے ہزاروںکی تعداد میں لوگ بارڈر پر آگئے تاکہ بروقت پاکستان میں داخل ہو سکیں ‘ لیکن ایسی اطلاعات آرہی ہیں کہ مقررہ وقت یعنی 16مارچ سے قبل ہی بارڈر کو بند کر دیا گیا جس کی وجہ سے تاجروں کیساتھ مسافروںکو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام کو اس ضمن میں دیکھنا ہو گا کہ اگر واقعی مقررہ تاریخ سے پہلے بارڈر بند کیا گیا ہے تو جو مسافر طے شدہ وقت پربارڈر پر پہنچ گئے تھے انہیں پاکستان لانے کیلئے کیا لائحہ عمل بنایا گیا ہے ‘ کیا ایسا ممکن نہیں کہ جس طرح ایران اور پاکستان کے بارڈر تفتان پر زائرین کے پاکستان آنے کیلئے انتظامات کئے گئے ہیں ایسے ہی اقدامات طور خم بارڈر پر بھی کیے جائیںتاکہ مسافروں کی مشکلات کو کم کیا جاسکے۔