قیدیوں کی رہائی میں تاخیر سے امن معاہدہ متاثر ہونے کا خطرہ

امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے تحت طالبان قیدیوں کے پہلے گروپ کوہفتہ کے روز پروگرام کے مطابق رہا نہ کرنے میں اگر فریقین نے ایک دوسرے کو اعتماد میں لیا ہے تو یہ الگ بات ہے وگرنہ قیدیوں کی رہائی کی شرط پر عمل درآمد نہ ہونا امن معاہدے کیلئے نیک شگون نہیں۔ بیمار اور ضعیف قیدیوں کی پہلے رہائی احسن ضرور ہوگا لیکن اس سے قیدیوں کی رہائی کی شرط کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہئے۔ سلامتی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل نے بی بی سی کو بتایا کہ ان افراد کی رہائی کے معاملات پر کام جاری ہے۔جاوید فیصل نے کہا کہ افغان حکومت اب تمام فہرستوں اور اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے کہ اس میں کیا خطرات ہیں اور کیا فوائد ہیں اور ان پر کس طرح عمل کیا جانا چاہیے۔ افغان حکومت کی جانب سے اس عمل کی چھان بین کا اخلاقی وقانونی جواز بہرحال اس لئے موجود ہے کیونکہ امارت اسلامی اور امریکا کے درمیان معاہدے میں ان کو براہ راست شریک نہیں کیا گیا نیز اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی کی کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی اس کے باوجود چونکہ اس شرط سے امن معاہدے کا عملی نفاذ ہونا ہے اور خاص طور پر بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔بناء بریں اس ضمن میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان کم ازکم رابطے ضرورہونے چاہئے، طالبان کی جانب سے افغان حکومت سے اب معاملت سے احتراز کا اسلئے کوئی جواز نہیں کہ اگر وہ امریکہ سے مذاکرات ومعاہدہ کرنے پر تیار ہوسکتے ہیں تو تخت کابل اور اپنے ہی ہموطن افغانوں سے مذاکرات میں کیا امر مانع ہے۔ معاملات میں تاخیر سے پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں اور اختلافات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں وسیع البنیاد امن کے قیام اور بین الافغان مذاکرات کا بہتر ماحول پیدا کرنے کیلئے قیدیوں کے تبادلے کا عمل جتنا جلد شروع ہو اُتنا ہی بہتر ہوگا۔
قابل مذمت فیصلہ
کورونا وا ئرس پھیلنے کے خدشے پر غیرضروری طور پر صوبے کے سب سے بڑے ہسپتال لیڈی ریڈنگ میں مریضوں کا معائنہ اور تمام آپریشن معطل کرکے او پی ڈی کو تالے لگانے کا عمل حیران کن اور طبی تاریخ کا شرمناک باب ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب لوگوں کے علاج وتسلی کیلئے طبی ضروریات معمول سے بڑھ گئی ہیں صوبے کے اس تدریسی ہسپتال کو بند کیا جارہا ہے جس کے ڈاکٹروں اور طبی عملے نے دہشت گردی کیخلاف جنگ کے دنوں میں بے مثال خدمات انجام دیں اور ذرا بھی نہ گھبرائے۔ ایل آر ایچ کی بندش سے صوبے کے ہزاروں کی تعداد میں مریض روزانہ کی بنیاد پر متاثر ہوں گے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی بندش پر ماہرین صحت نے بھی شدید تنقیدکی ہے اور ہسپتال انتظامیہ کے فیصلے کو قبل ازوقت قرار دیا گیا ہے کیونکہ ملک کے کسی بھی دوسرے حصے میں ہسپتال بند نہیں کئے گئے،پشاور میں بھی دیگر2تدریسی ہسپتالوں میں کسی قسم کی پابندی نہیں لگائی گئی، صرف لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی جانب سے یہ فیصلہ کرکے انتظامیہ نے بدنظمی کا مظاہرہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی انتظامیہ نے ہسپتال میں تمام آپریشن اور لیبارٹری ٹیسٹ معطل کرتے ہوئے صبح اور شام کے اوقات کی اوپی ڈی بند کردی ہے۔ کراچی اور بلوچستان میںکورونا وائرس کازیادہ خدشہ ہے لیکن وہاں پر بھی کسی ہسپتال کو بند نہیں کیا گیا۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی خودمختاری اختیار کرنے کے بعد ویسے بھی عوام کی نظر میں وہ ہسپتال نہیں رہا جہاں مریضوں کو محدود وسائل،جگہ کی تنگی اور عملے کی کمی کے باوجود کسی نہ کسی طرح علاج معالجے کی سہولت ملتی رہی ہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ایم ٹی آئی بننے کے بعد افرادی قوت اور بہت سی عمارتوں کی تکمیل کی صورت میں اضافی عملے اور سہولیات میں اضافہ ضرور ہوا ہے لیکن اس کے پیچیدہ نظام اور خود مختاری کی ضرورت سے زیادہ احساس کے باعث اس ہسپتال کا درجہ صوبائی دارالحکومت کے دو دوسرے تدریسی ہسپتالوں کے درجے سے کم سمجھا جانے لگا ہے ۔ہسپتال انتظامیہ کا صوبے میں ممکنہ سخت حالات سے قبل ہی علاج کی سہولتوں میں اضافے کی بجائے بندش بلاجواز اور قابل مذمت ہے جس کا حکومت کو فوری نوٹس لینا چاہئے۔اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور احتیاطی تدابیر اور اقدامات کیساتھ معمول کا کام اسی طرح جاری رکھا جائے جس طرح ملک بھر کے ہسپتالوں میں ہورہا ہے اور لوگ بھی اپنے معمول کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم کے وعدے کی سراسر خلاف ورزی
نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر بڑھائے جانے کا امکان ہے، عوام کیلئے سخت پریشان کن اقدام ہونے کے علاوہ وزیراعظم کے بجلی کی قیمت نہ بڑھانے کے عوام سے وعدے کا مذاق اُڑانے کے مترادف ہے۔ گزشتہ مہینوں میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست کے علاوہ 2018ء میں استعمال ہونے والے یونٹوں کی قیمت کے بقایا جات کی وصولی بھی بلوں میں شامل ہونے جارہی ہے، معلوم نہیں صارفین بجلی پر بار بار بجلیاں کیوں گرائی جارہی ہیں اور حکومت اس کی منظوری آخر دیتی کیوں ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ وزیراعظم عمران خان عوام سے اپنے کئے ہوئے وعدے کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے اور نیپرا کو بجلی کے نرخوں میں اضافہ اورپچھلی تاریخوں میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ در اضافہ شرح سے بلوں کی وصولی کے باوجود مزید بقایاجات کی وصولی کا ظالمانہ اقدام نہیں ہونے دیں گے۔ عوام کے پاس اب اتنی گنجائش باقی نہیں رہی کہ وہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کر سکیں۔نیپرا آخر کب تک عوام کو ہراساں کرتا رہے گا۔