پتہ نہیں کون لوگ ہیں ہم؟

میں جس معاشرے میں رہتا ہوں اس کی آدھی سے زیادہ آبادی اپنے بچوں کی شادیوں کے بارے میں انتہائی فکرمند رہتی ہے کیونکہ یہاں پر ایک تو مناسب یعنی اپنے مطلب کا لڑکا یا لڑکی ڈھونڈنا ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے اور دوسرے بڑے مسائل میں اپنی اوقات سے بہت بڑھ کر شادی کے موقع پر کئے گئے مطالبات پورے کرنا اور برابری کے نام پر فضول خرچی کرنا شامل ہے۔ کچھ عرصہ قبل ان مسائل پر قابو پانے کیلئے حکومت نے ون ڈش کی پالیسی اپنائی اور لوگوں کو کہا کہ وہ اس پالیسی پر عمل کرکے سادگی اپنائیں، فضول خرچی سے بچیں، شادیوں اور ولیموں پر درجن بھر کھانے تیار کرنے سے گریز کریں۔ میں بھی ان خوش گمانوں میں شامل تھا جو سوچتے تھے کہ لوگ شاید اسی بہانے سادگی پر عمل کریں گے اور خرچے کم کرنے سمیت بہت سے فضول رواجوں سے نجات ملے گی لیکن یہ خوش فہمی اس وقت دھری کی دھری رہ گئی جب مجھے بھی ایسے خفیہ ولیموں میں شرکت کے کارڈ ملنے شروع ہوئے جہاں پر حکومتی پالیسی کو پامال کرکے مہمانوں کو خفیہ طریقے سے زیادہ ڈشز کھلانے کا بندوبست ہوتا اور جہاں ون ڈش پر عمل ہوتا بھی تو خودنمائی کیلئے اس ون ڈش کیساتھ ایسے ایسے پکوان پکا کر لوگوں کو پیش کئے جاتے کہ ہم کانوں کو ہاتھ لگا لیتے۔ شادیوں کو آسان بنانے کیلئے قوانین بنے خصوصاً جہیز کیخلاف بھی بنے لیکن ان قوانین کو سب سے پہلے انہوں نے ہی توڑا جو جہیز کو لعنت سمجھتے تھے۔
شادی تو ایک مثال تھی ہمیں کئی بار کہا گیا کہ کم بچے ہوں گے تو معاشرہ خوشحال ہوگا، حکومتوں نے ہر طرح سے کوشش کی کہ لوگوں کو اس پر راضی کیا جاسکے لیکن ہم نے ان کوششوں کو کیسے ناکام کیا ہم سب ان داستانوں سے واقف ہیں۔
مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے کہ ہم نے کیسے حکومتوں کی جانب سے اُٹھائے گئے ہر اس اقدام کو ناکام کیا جو ہمارے لئے ہی کیا گیا تھا۔ اب کرونا وائرس سے بچنے کیلئے حکومتی پالیسی کو جس طرح ہم پیروں تلے روند رہے ہیں کیا اس کی کوئی مثال دنیا کے ان ایک سو بیس کے قریب دیگر ممالک میں ملتی ہے جو اس وائرس سے متاثر ہیں؟ اپنی اس پوری زندگی میں، میں اس منطق کو نہیں سمجھ پایا کہ آخر حکومت جو کچھ کہے گی اس کیخلاف جانا ہی کیوں لازمی ہوگا؟ پچھلے دنوں حکومت نے سردی کی شدت کی بدولت کچھ چھٹیاں اس لئے بڑھا دیں کہ بچے بیمار نہ پڑجائیں تو ہم سب نے ان چھٹیوں کا یہ مصرف نکالا کہ انہی بچوں کو لیکر برف باری دیکھنے نکل پڑے۔
اب حکومت نے ایک واضح پالیسی دیکر کہہ دیا ہے کہ کرونا وائرس سے بچنے کیلئے ماہرین صحت کے بنائے ہوئے پروٹوکول پر عمل کرتے ہوئے معاشرتی میل ملاپ کم کرکے رش سے گریز کریں، شادی کی تقریبات کو کم کریں، سینما ہاؤسز میں نہ جائیں، سکولوں سے چھٹیاں دے دی گئی ہیں یہاں تک کہ پبلک پارکس اور دیگر سیاحتی مقامات پر جانے سے منع کیا گیا ہے لیکن اس پالیسی کے اگلے ہی روز یعنی اتوار کو ہم نے پکنک سپاٹس اور دریا کناروں کو ایسے آباد کیا کہ ہمارے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔
عام آدمی سے تو کیا گلہ کرتے ان پالیسیوں کو بنانے کے عمل کا حصہ رہنے والے برسراقتدار سیاستدانوں میں سب سے پہلے وزیردفاع پرویز خٹک نے اپنے ضلع میں دوعوامی اجتماعات منعقد کئے اور کرونا وائرس کیخلاف حکومت کے اقدامات پر لوگوںکو عمل کرنے کی نصیحت کرتے رہے لیکن دراصل وہ خود بھی اپنی ہی حکومت کی بنائی ہوئی پالیسیوں کو پامال کر رہے تھے اور وہ بھی اس دن جب ان کی خیبر پختونخوا میں حکومت کے کارندے شادی ہالوں پر پل پڑے تھے اور شادی کی تقریبات کو انعقاد سے پہلے ہی ملتوی کر کے وہاں سے مہمانوں کیلئے پکے ہوئے کھانے تک ساتھ لے گئے تھے۔ حکومت اور اداروں پر تنقید کا مقصد یہ نہیں کہ ہم عام لوگوں کی جانب سے کرونا وائرس سے بچنے کیلئے کئے گئے حفاظتی اقدامات کو توڑنے کا جواز پیش کر رہے ہیں، نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہے بلکہ اس سے ہمارا مقصد اپنے مجموعی مزاج کی تصویرکشی کرنا تھا کہ نہ صرف ہم عام لوگ بلکہ ہماری حکومتیں یا حکومت میں شامل طاقتور لوگ کس کس طرح سے ان پروٹوکولز اور احتیاطی تدابیر کا مذاق اُڑاتے ہیں۔
بطور عام انسان ہم کرونا وائرس سے بچنے کی اور کیا تدبیر کرتے، ہم نے تو وائرس کو مذاق سمجھتے ہوئے اس کا نام اپنی موٹرسائیکل کی نمبر پلیٹوں پر لکھ لیا اور چلیں اگر یہ کام ان پڑھ سمجھے جانے والے غریبوں نے کیا بھی تو ان کو کیا کہیں گے جن پر الزام ہے کہ وہ پڑھے لکھے ہیں اور فیس بک اور ٹویٹر کے ڈی پیز پر کرونا کا نام لکھ لیا۔حکومت کی پالیسی سے پہلے ہی سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ یہ وائرس نہ تو کسی مذہب کو معاف کرتا ہے اور نہ ہی امیر غریب کے فرق کو سمجھتا ہے۔ کئی ملکوں کے شاہی خاندانوں کی متاثرہ بیگمات خود اور ان کے شوہر اس وائرس سے صفائی کے عمل کا حصہ ہیں۔ خود مسلمانوں کے سب سے بڑے مذہبی اور مقدس مقام خانہ کعبہ اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر تمام احتیاطی تدابیر اور ملکوں میں کئے گئے لاک ڈاؤن ہمارے سامنے ہیں لیکن ہم مساجد اور مدارس سمیت تبلیغی مقامات پر وہ احتیاط نہیں کر رہے جس کے حالات ہم سے تقاضہ کرتے ہیں۔ ہم تو وہ ہیں کہ اگر کوئی ہمیں آگ میں جانے سے روکنا چاہیں تو اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اس آگ کی تپش کو اپنے وجود پر سہہ نہ لیں۔ وہی طرزعمل کہ جس سے روکو ہم وہی کرتے ہیں۔ اب کیا حکومت ہر بندے اور ہر گھر پر پولیس کو تعینات کرکے ان احتیاطی تدابیر پر عمل کروائے؟ آخر ہم کب بالغ نظری کا مظاہرہ کریں گے؟ کیا ہمارے لئے ڈینگی کا تجربہ ہی کافی نہ تھا؟ جو جب پھیلا تو کسی سے سنبھالا نہیں گیا۔