کیا خبر تھی یہ تغیر موت کا پیغام ہے

موت کا خوف بھی کتنا بھیانک ہے، انسان اچھی طرح جانتا ہے کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے مگر اس کی خواہش ہوتی ہے کہ موت اسے کبھی چھو کر بھی نہ گزرے، اس لئے وہ آب حیات کا ایک قطرہ پینے کے ہوس میں مبتلا ہو جاتا ہے حالانکہ اس سفر میں حضرت خضر علیہ السلام پر بھی الزام لگایا گیا کہ اس نے سکندر کو آب حیات کی جھلک تو دکھائی مگر موت سے نہ بچا سکا، غالب نے کہا تھا
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
غالب کی بات درست سہی تاہم اسے کیا کہئے گا کہ اُمید پر دنیا قائم ہے اور زندگی کا ایک ایک لمحہ کشید کرتے ہوئے انسان اسے ہر طرح انجوائے کرنے کے خبط میں مبتلا رہتا ہے۔ اب یہی دیکھ لیجئے کہ پڑپوتوں اور پڑپوتیوں کو اپنے ارد گرد کھیلتے ہوئے دیکھ لینے اور زندگی کے سو سال کو چھونے کے قریب پہنچنے والی ملکہ برطانیہ الزبتھ کو زندگی سے اس قدر پیار ہے کہ نہ تو وہ عمر کے اس آخری حصے میں تخت وتاج سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں نہ ہی موت کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں اس لئے کرونا وائرس کے خوف سے انہوں نے برطانیہ کے شاہی محل بکنگھم پیلس کو چھوڑ کر قلعہ ونڈ سر میں قائم قرنطینہ سینٹر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جبکہ ان کے شوہر بھی ان کیساتھ سنڈرنگھم ہائوس بھیج دیا جائے گا۔یوں گویا انہوں نے یہ سوچ لیا ہے کہ قلعہ ونڈ سر کی مضبوط دیواریں کرونا وائرس کے جراثیم کی روک تھام میں مدد گار ہو سکتی ہیں حالانکہ وہ یہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ بقول شاعر
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ ،کل ہماری باری ہے
اس سلسلے میں اسرائیلیات کی روایتوں میں حضرت سلیمان کے حوالے سے ایک روایت ہے (تصدیق یا تردید کی ذمہ داری ہم پر عاید نہیں ہوتی کہ یہ اور اس قسم کی وارداتیں سینہ بہ سینہ چلتی رہتی ہیں اور شنیدن کے زمرے میں شامل ہیں) کہتے ہیں کہ حضرت سلیمان کیساتھ ایک شخص بیٹھے ہوئے مختلف مسائل پر گفت وشنید کررہے تھے کہ اچانک ایک اجنبی وہاں آگیا اور گفتگو میں شامل ہوگیا ساتھ ہی وہ حضرت سلیمان کے پاس پہلے سے موجود شخص کی طرف تھوڑی تھوڑی دیر بعد حیرت سے تکنے لگتا، اجنبی کے اس طرح بار بار دیکھنے سے وہ شخص گھبرا سا گیا، اجنبی رخصت ہوا تو اس شخص نے حضرت سلیمان سے دریافت کیا کہ یہ اجنبی کون تھا؟ سلیمان نے فرمایا، یہ عزرائیل تھے، وہ شخص بہت گھبرایا اور سلیمان سے عرض کیا کہ وہ مجھے بار بار گھور رہے تھے، مجھے تو خوف محسوس ہورہا ہے، سلیمان نے اسے تسلی دی مگر وہ اس قدر گھبرایا ہوا تھا کہ سلیمان سے درخواست کی کہ کسی جن دیو سے کہہ کر اسے سامنے والی پہاڑی پر پہنچادے، اس کی درخواست قبول کرتے ہوئے سلیمان نے اسے متعلقہ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچانے کا حکم صادرکردیا، مگر جیسے ہی وہ شخص مطلوبہ مقام پر اُترا تو عزرائیل کو پہلے سے وہاں موجود پایا، اب تووہ اور بھی گھبراگیا جبکہ عزرائیل نے اس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا میں حیران تھا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تمہاری روح قبض کرنے کا یہی وقت اور اسی مقام کا حکم تھا، مگر میری سمجھ سے یہ بات بالاتر تھی کہ تم اگر کسی تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر بھی اس مقام تک آئو گے تو کئی روز لگ سکتے ہیں تو پھر اتنی دور اور مقررہ وقت پر کیسے تمہاری روح قبض کر سکوں گا، مگر اللہ تعالیٰ کے کام وہ خود بہتر جانتا ہے، اس نے خود ہی تمہیں یہاں پہنچانے کا بندوبست کر دیا، یہ کہہ کر عزرائیل نے اس شخص کی روح قبض کرلی، بقول سراج لکھنوی
پھول بننے کی خوشی میں مسکرائی تھی کلی
کیا خبر تھی یہ تغیر موت کا پیغام ہے
اب خدانخواستہ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ ملکہ برطانیہ یا کوئی بھی شخص موت کے خوف سے بظاہر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائے تو اس کی جان بچ جائے گی کیونکہ موت تو اٹل ہے، وقت مقررہ پر موت نے آنا ہے اور کیا ضروری ہے کہ کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کیلئے بندہ قرنطینہ کے تحت کسی ایسے مقام پر منتقل ہو جائے جہاں تمام تر حفاظتی اقدامات موجود ہوں، مگر یہ تو وقت مقررہ پر منحصر ہے، اگر موت لکھ دی گئی ہے تو قرنطینہ کے اقدامات بھی دھرے کے دھرے رہ سکتے ہیں اور ابھی زندگی لکھی ہے تو کورونا وارئرس کے خوف میں مبتلا دنیا کو ان لوگوں کی زندگیوں پر ایک نظر ڈالنی چاہئے جو(مقامی حد تک) ہمارے ہاں پشاور کی گلی کوچوں میں گندگی کے ڈھیر پر روزانہ رزق کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں، گھروں سے برآمد ہونے والی تلف شدہ اشیاء کو سارا سارا دن ٹٹولتے ہوئے ان سے کارآمد اشیاء اکٹھی کر کے انہیں کام میں لاتے ہیں۔ ان میں ردی کا غذ، گتے کے علاوہ بعض اوقات کچھ نہ کچھ کھانے کی اشیاء بھی ان کے ہاتھ لگ جاتی ہیں جن کو بھوک مٹانے کیلئے بے چارے کھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پھر آج کل کینو اور مالٹے کے چھلکے بڑی مقدار میں انہی گندگی کے ڈھیر سے اکٹھی کر کے یہ گھروں کو لے جاتے ہیں، انہیں صاف کر کے ”نارنج پلاؤ” کی شکل دیکر خشک کرتے ہیں اور دکانوں پر فروخت کر کے رزق حلال کماتے ہیں۔ یہ تو صرف ایک پہلو ہے جبکہ اس ساری تگ ودو میں ان کے ہاتھ پائوں جس طرح آلودہ ہوجاتے ہیں مگر یہ پھر بھی اپنے طبقوں میں ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں، نہ ماسک کی ضرورت محسوس کرتے ہیں نہ انہیں کرونا وائرس کی کوئی فکر ہوتی ہے نہ اس سے خوف کھاتے ہیں بلکہ انہیں تو شاید کورونا کانام بھی نہیں آتا، ان کے علاوہ ہوٹلوں، چائے خانوں، سبزیاں، فروٹ فروخت کرنے والوں اور دیگر کاموں میں مصروف لوگوں کو بھی اللہ پر توکل کا بچپن ہی سے سبق سکھایا جاتا ہے،اس لئے بقول حبیب جالب
جو بیٹھا ہے صف ماتم بچھائے مرگ ظلمت پر
وہ نوحہ گر ہے خطرے میں، وہ دانشور ہے خطرے میں