گلوبلائزیشن یوں بھی ہوتی ہے

کورونا کا رونا اب''میرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کا'' کے انداز میں اب کسی ایک قوم اور ملک کا نہیں سارے گلستان اور جہان کا رونا بن گیا ہے۔ یہ موذی وائرس دنیا کو گلوبلائزیشن کے اصل اور فطری انداز کا بھولا ہوا سبق ایک بار پھر یاد کرا گیا۔ وائرس چین کے ایک شہر سے نمودار ہوا اور پھر زمان ومکان کی پابندیوں کو توڑتا ہوا ملکوں ملکوں پھیلتا چلا گیا۔ نہ مذہب کا خیال کیا نہ ملکوں کی سرحدوں کا پاس، بس آگے اور آگے بڑھتا چلا گیا اور اب تک سڑسٹھ ملکوں کی دہلیز پار کر چکا ہے۔ دنیا کو یہ احساس دلاگیا کہ کرۂ ارض کا وجود اس کائنات کی پہلی اور انسانیت دوسری بڑی حقیقت ہے۔ دنیا اس بنیاد سے کبھی کی ہٹ چکی ہے۔ کرۂ ارض کے ماحول اور وجود کو انسانوں نے نت نئی ایجادات سے جس طرح خطرے میں مبتلا کیا ہے اس کا احساس دیر سے سہی مگر دنیا کو ہو گیا ہے۔ اس وقت انسانی زندگی اور ماحول کو لاحق خطرات اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ انہیں مکمل طور پر پچھاڑنا اب آسان نہیں رہا۔ اسی طرح نت نئے ہتھیار بنا کر، وسائل کی چھینا جھپٹی میں لگ کر انسانوں کو جس طرح مختلف خانوں میں بانٹا گیا ہے وہ بھی ایک لمحۂ فکریہ ہے، جس طرح ایک طرف انسانوں کے حقوق کے نعرے بلند کرکے دوسرے مقام پر انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹا گیا ہے وہ بھی انسانیت کا رشتہ اور سبق بھلا دینے کا نتیجہ ہے۔ اب مشرق سے مغرب تک ایک نظر نہ آنے والے وائرس نے انسانوں میں خوف کی ایک لہر پیدا کر کے ان میں زمین زاد اور انسان ہونے کے مشترکہ رشتے کو بحال اور زندہ کیا ہے، یوں گلوبلائزیشن کا ایک فطری انداز سامنے آیا ہے۔ ہمارے ہاں بھی کرونا نے قومی یک جہتی کی فضاء پیدا کر دی ہے اور کتنا اچھا ہو کہ ہم آفات، حادثوں اور جنگوں کا انتظار کرنے کی بجائے مثبت انداز سے یک جہت اور یکجان ہونا سیکھ لیں۔ حکومت پاکستان نے کورونا کے خطرے کے پیش نظر ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے مطابق یوم پاکستان کی پریڈ اور دیگر تمام تقریبات کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ تمام تعلیمی اداروں اور مدارس کو پانچ اپریل تک بند کر دیا گیا ہے۔ ایران وافغانستان کیساتھ سرحدوں کو دوہفتے کیلئے سیل کر دیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے مختلف اداروں پر مشتمل نیشنل کوآرڈینیش کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ وزارت صحت میں نیشنل کمیونیکیشن سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ ملک کے صرف تین ایئرپورٹس کراچی لاہور اور اسلام آباد انٹرنیشنل فلائٹس کیلئے کھلے رہیں گے باقی تمام ایئرپورٹس بیرونی پروازوں کیلئے بند رہیں گے۔ وزیراطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ان فیصلوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس وقت تک اٹھائیس کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، چین سے یورپ کی طرف منتقل ہوتا ہوا کورونا وائرس ایک عالمگیر وبا کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ چین کے ایک شہر سے پھوٹ پڑنے والی یہ وبا اور انفلونزا جیسی معمولی بیماری کی بگڑی ہوئی شکل اب ایک عالمی دیو بن کر نظام حیات کو تلپٹ کرتی جا رہی ہے۔ مغرب اور یورپ کے جن ملکوں میں دن اور راتیں ہمہ وقت روشنیوں میں نہاتے ہیں اب ویران ہورہی ہیں۔ یورپ کے عشرت کدوں کی بتیاں گُل ہو رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں اور بازاروں کی رونقیں ماند پڑ چکی ہیں۔ ہسپتالوں میں ہنگامی حالات نافذ ہیں۔ سرحدیں سیل ہو رہی ہیں۔ ہمہ وقت فضاؤں میں محوپرواز جہازوں کی حرکت رک چکی ہے۔ کئی ملکوں میں خوف کے باعث لوگ پارکوں، قہوہ خانوں، دفتروں، عبادت گاہوں اور تفریح گاہوں سے منہ موڑ کر گھروں میں دبک کر بیٹھ گئے ہیں۔ آزاد اور کھلے معاشروں میں ایک طرح کا سول کرفیو نافذ ہو چکا ہے۔ کئی ملکوں کے اعلیٰ حکام بھی اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔ حد تو یہ کہ مذہبی رسومات اور فرائض بھی کورونا کی ہلاکت خیزیوں کے خوف سے متاثر ہو رہے ہیں۔ سعودی حکومت کے حفاظتی اقدمات میں عمرہ کی عبادت بھی پابندیوں کی زد میں ہے۔ ایران میں زیارات کا سلسلہ رک گیا ہے۔ عالمگیر دینی اجتماعات اور عبادات کے بعد اب گلی محلوں کی مساجد کی عبادات اور سماجی تقریبات پر بھی کورونا کا خوف اثرانداز ہونے لگا ہے۔ کورونا کے مقابلے کیلئے جہاں حفاظتی اقدامات کا سہارا لیا جا رہا ہے وہیں ترقی یافتہ ملکوں کے سائنسدان لیبارٹریز میں سرجوڑ کر وائرس کا توڑ تلاش کرنے میں جُت گئے ہیں گوکہ کورونا کا ظہور اب بھی ایک معمہ ہے مگر اس کے ڈانڈے امریکہ اور چین کی عالمی اقتصادی اور سیاسی مسابقت سے ملنے لگے ہیں۔ چین کی طرف سے اب ایسی رپورٹس آنے لگی ہیں جن میں کورونا وائرس کو حیاتیاتی حملہ ثابت کیا جانے لگا ہے۔ بہرحال امریکہ اور چین کی عالمی مسابقت اور مقابلے نے جو شکل اختیار کی ہے اس میں کرونا کا حیاتیاتی حملہ ہونا قطعی بعید ازقیاس نہیں۔ امریکہ نے چین کی ترقی اور مستقبل کو اپنے اعصاب پر سوار کر لیا ہے اور وہ ہر قیمت پر اس کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ اس ساری صورتحال میںحکومت پاکستان اور صوبائی حکومتوں نے بھی ہیلتھ ایمرجنسی کا نفاذ کیا ہے۔ اس حوالے سے جہاں حکومتوں کی ذمہ داری اہم ہے وہیں حکومت اور متعلقہ اداروں کیساتھ عوام کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔ عوام حفاظتی اقدامات اپنا کر یہ تعاون کر سکتے ہیں۔ عوام کو اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے خوف وہراس اور حواس باختگی کا شکار ہوئے بغیر شعوری طور پر حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ ایک عالمگیر وبا ہے اور اس کا مقابلہ بھی اتنی ہی قوت اور سرعت کیساتھ کرنا ہوگا۔