اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

مارچ کے مہنے میں بچے امتحان کے نتیجے کا انتظار کرتے ہیں، وہ نتیجہ آنے کے انتظار میں ایک ایک دن گن کر گزارتے ہیں اور جب وہ مقررہ دن نتیجہ معلوم کرنے کی غرض سے اپنے اسکول کو روانہ ہوتے ہیں تو اپنے امی ابو اور بڑے بزرگوں سے دعاؤں کی درخواست کرکے گھر سے نکلتے ہیں۔ نتیجہ نکلنے یا رزلٹ آنے کے دن بچے اپنی کلاسوں میں جانے کی بجائے، اسکول کے لان یا برآمدے میں کھیلتے کودتے رہتے ہیں، ہمیں یاد پڑتا ہے، رزلٹ آنے سے پہلے ہم جو بالک ٹپے گنگنایا کرتے تھے، ان میں سے ایک بالک ٹپے کے بول
آج نتیجہ نکلے گا کوئی روئے گا کوئی ہنسے گا
جیسے تھے، اکثر وبیشتر امتحانات کے نتائج مارچ کے مہینے کے آخری دن منظرعام پر آجا تے ہیں لیکن ایک ٹیچر نے بتایا کہ ضروری نہیں کہ مارچ کے مہینے کے آخری دن ہی طلباء کے نتائج کا اعلان کیا جائے چونکہ آج کل سرکاری اسکولوں کی نسبت تعلیم کے پرائیویٹ سیکٹر میں اسکولوں کی بہتات ہے، اس لئے اسکولوں یا تعلیمی اداروں کی اس بھیڑ میں بھیڑچال بھی چلتی رہتی ہے، یعنی کسی اسکول کی انتظامیہ یا اس کے سربراہ کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ مارچ کے مہینے میں کب اور کس تاریخ کو رزلٹ اناؤنس کرے، بڑے انتظار کے بعد آتا ہے وہ دن جب بچوں کو ان کی تعلیمی کارکردگی کا نتیجہ ملتا ہے، انتظار کی ان گھڑیوں کو ہنستے کھیلتے گزارنے کی خاطر، بے کار مباش کچھ کیا کر کے مصداق ہمارے بچے بالے مارچ کے مہینے نتیجہ نکلنے تک کی چھٹیاں ہنس کھیل کر گزارنے کی خاطر اگر کسی اور شغل میں مبتلاء ہوں یا نہ ہوں وہ اس مہینے کے دوران چلتی تیز وتند ہوا سے استفادہ کرکے پتنگ بازی کا شوق ضرور پورا کرنے لگتے ہیں۔ اس بار تو کرونا وائرس کی دہشت نے تمام تعلیمی اداروں کے طلباء کی چھٹی کرا دی اور یوں ہمارے بچے کسی بھی قسم کے کرونا وائرس کو خاطر میں لائے بغیر یا اس سے بچاؤ کی ترکیب یا ہدایات پر عمل کئے بغیر پتنگ بازی کا شوق پورا کرنے کیلئے شاپنگ مارکیٹوں کی جانب کشاں کشاں جاکر پتنگیں خرید کر لاکر انہیں کھلے میدانوں میں یا مکان کی چھتوں پر چڑھ کر اُڑانے لگے
کوچہ بہ کوچہ پھرتے ہیں اب اس طرح بشر
بھٹکے ہے جیسے ہاتھ سے ٹوٹی ہوئی پتنگ
یوں لگتا ہے جیسے ہمارے اسکول یا تعلیمی ادارے بچوں کو چھٹیاں ہی دینے کی خاطر وجود میں آئے ہوں، کبھی گرمی کی چھٹیاں دی جاتی ہیں اور کبھی سردی کی، کبھی عیدین کی خوشیاں منائی جاتی ہیں تو کبھی یوم پاکستان اور یوم آزادی کا جشن منا رہے ہوتے ہیں بچے، کبھی یوم پیدائش اور کبھی یوم وفات، کبھی فصل بہار کی چھٹیاں ہوتی ہیں اور کبھی فصل خزاں کی، فصل بہار کی چھٹیاں تو مارچ کے مہینے کے دوران اسکولوں کا رزلٹ نکلنے سے پہلے دی جاتی ہیں، رزلٹ اناؤنس ہونے کے بعد بچوں کو نئی کلاس میں داخل ہونے کیلئے چند چھٹیاں گزار کر اسکول آنے کو کہا جاتا، اس دوران ہمارے بچے بالے خوب موج مستی کرتے ہیں، رزلٹ نکلنے کے دوران وہ بچے جو امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہیں بے حد خوش وخرم گھر لوٹتے ہیں اور اپنے امی ابو کو اپنی کامیابی کی خوشخبری سناتے ہیں اور والدین اپنی محبتوں اور شفقتوں کے پھول نچھاور کرتے ہوئے انہیں گلے لگا کر چوم لیتے ہیں اور اللہ نہ کرے ہمارے بچوں یا مستقبل کے معماروں میں سے کوئی بچہ کامیابی کی منزل حاصل نہیں کر پاتا وہ روتا بسورتا رنجور حالت میں منہ لٹکائے گھر لوٹتا ہے تو والدین سمجھ جاتے ہیں کہ بچہ اپنے تعلیمی سفر میں کس منزل پر پہنچ کر
گرتے ہیں شہسوار ہی میدان چنگ میں
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
کے مصداق اوندھے منہ گر گیا ہے، اگر ایسے بچوں کے والدین یا سرپرست زندہ سلامت ہوتے ہیں تو انہیں طفل تسلیاں دینے لگتے ہیں، کوئی بات نہیں، اگر تم اس سال امتحان میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے تو اللہ نے چاہا تو اگلے سال محنت کرنا، دل لگا کر پڑھنا، کامیابی تمہارے قدم چومے گی لیکن ایسے والدین کی بھی کمی نہیں جو بچے کی ناکامی پر انہیں طفل تسلی دیتے ہوئے یا ان پر اپنا غصہ نکالتے ہوئے کہنے لگتے ہیں کہ تعلیم میں کیا رکھا ہے، پکڑلو کوئی مستری اُستاد اور سیکھنے لگو کوئی ہنر، کمانے لگو دوپیسے اور یوں وہ بچوں کی فیس اور کتابوں کے خرچہ سے اپنے آپ کو بچانے کی خاطر ان کو کسی مستری خانہ کا مشقتی بنا دیتے ہیں، یورپ والے اسے چائلڈ لیبر کہہ کر بچوں کو کسب کمال کن کہ عزیز جہاں شوی کی اس روش کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، تاہم ہمارے ہاں ایسے بچوں کی کوئی کمی نہیں جو کسی ہوٹل میں چھوٹے کا کردار ادا کرتے ہیں، سبزی منڈیوں یا شاپنگ سنٹروں میں شاپنگ بیگ اُٹھائے اپنے لئے اور گھر کے دیگر افراد کیلئے روزی روٹی کا اہتمام کرتے رہتے ہیں، ایسے بچوں سے اگر آپ پوچھیں کہ تم اسکول کیوں نہیں جاتے تو وہ یہی جواب دیں گے کہ غربت کے سبب میں اسکول نہیں پڑھ سکا، یا پے در پے امتحان میں فیل ہونے کی وجہ سے اپنا تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھ سکا۔ چھٹیوں درچھٹیوں کے ماحول نے بہت مشکل کردیا ہے تعلیمی استعداد میں اضافہ کی شرح کی بڑھوتری کو، شعبہ تعلیم ہی نہیں ہر میدان میں کامیابی اور کامگاری کیلئے فراغت یا چھٹیوں کی بجائے ذوق وشوق، محنت ولگن اور جہدمسلسل کی ضرورت پڑتی ہے لیکن ہم تو چھٹیاں منانے کیلئے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ یہ بات مسلمہ ہے کہ
مکتبہ عشق کا دستور نرالا دیکھا
اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا