اللہ خیر ہی خیر ہووے

خوشحال خان خٹک کی زندگی کے پُرآشوب ایام، مزاحمت اور آلام ومصائب سے بھرپور تھی، وہ تو سردار تھے اہل عزم وباہمت انسان تھے لیکن اپنوں کی بے اتفاقی اور مفلسوں کی نازک اندازی نے شاید ہی اُسے کہیں سکون سے دن گزارنے کا موقع دیا ہو، اوپر سے کثیرالعیال بھی تھے اور اشرف خان ہجری جیسے ناخلف کے ناخلفیوں کے سبب سینہ چاک بھی۔۔ اسلئے اپنے ایک شعر میں اپنی تگ ودو سے بھرپور زندگی کی عکاسی کرتے ہوئے کیا مرقع پیش کیا ہے
لہ یو شئے راز نے لاڑ نہ وی چہ بل راشی
مگر زہ پیدا پہ ورز دشور وشر یم
(ابھی ایک چیز یعنی تکلیف، مصیبت مجھ سے رخصت نہیں ہوئی ہوتی کہ دوسری آجاتی ہے شاید یہ اس لئے کہ میں شور وشر (دوران ہنگامہ) پیدا ہوا تھا)۔
خوشحال کا یہ شعر تخلیق پاکستان پر عجیب طرح سے منطبق ہوتا ہے۔ پاکستان کی تحریک جس زمانے میں عروج کی طرف بڑھ رہی تھی اُس سے چند برس قبل پہلی اور دوسری جنگ ہائے عظیم اختتام کو پہنچی تھیں، مسلمانوں کی عظیم سلطنت، عثمانی خلافت کی تباچاک ہو کر تارتار ہو چکی تھی اور اسی کے بطن سے عرب اور اسلامی ممالک قومی ریاستوں (نیشن سٹیٹس) کی صورت میں کھمبیوں کی طرح اُگ آئیں لیکن عجیب بات مسلمانان ہند کی دیکھئے کہ ہندوستانی قومیت کو قبا جو اُسے کہیں بزور، کہیں بہ حیلہ پرویزی اور کہیں ترغیب وتحریص اور کہیں بنام مذہب پہنانے کی بہت بڑی کوششیں ہورہی تھیں۔ اتارتے پھینکتے ہوئے لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر ایک وسیع اور بڑی مملکت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس طرح یہ دنیا کا واحد ملک ہے جو نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آیا اور یہی اس کے باشندوں کا ایسا قصور ٹھہرا کہ وہ دن اور آج کادن ”اپنے اور غیر” ملکر اس کے پچھے لگے ہوئے ہیں کیونکہ اس کی تخلیق بہت پرشور زمانے میں ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش کا قیام اسی ہنگامہ خیزی کے سبب ہوا ہے، اُس کے بعد آج تک ملاحظہ کیجئے کہ9/11کے بعد سے لیکر آج تک کتنے ہنگاموں سے بظاہر کمزور سا ملک کہ نہ پیٹرول اور نہ برآمدات اور نہ مضبوط معیشت اور نہ ہی کوئی خاص ٹیکنالوجی، لیکن پھر بھی ستر برسوں سے بڑے بڑے زلزلوں کے آفٹر شاکس ہی برداشت کر رہا ہے۔ 9/11 کے بعد افغانستان کے مہاجرین اور دھماکوں کا بوجھ کسی اور ملک پر آتا کولیپس نہ بھی ہوتا تو چیخیں ضرور نکل جاتیں لیکن کیا معجزوں وکرامات پر چلنے والا ملک ہے کہ یہ کمزور نہیں ہوتا۔ اب ذرا دیکھئے نا کہ خدا خدا کر کے دعائیں مانگی جاتی رہیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوں اور پھر کامیاب ہوں، اسلئے کئی برسوں سے پاکستان کو موردالزام ٹھہرایا جاتا رہا اور اس پر دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔اور پھر امن معاہدہ ہو بھی گیا، معاہدے پر دستخط سے حقیقی معنوں میں پاکستان میں خوشیاں منائی گئیں کہ اب مہاجرین واپس جائیں گے اور اشرف غنی اور طالبان وغیرہ مل جل کر مذاکرات کے ذریعے اپنے ملک کی باگ ڈور سنبھال کر اس کی تعمیر کیلئے کام کریں گے۔۔۔ اور پاکستان کیساتھ ایک اچھے برادر پڑوسی ملک کی حیثیت سے مضبوط تعلقات قائم کریں گے لیکن شاید ابھی پاکستان کی مشکلات کم ہونا مقدر نہیں ہیں۔۔۔ اللہ کی شان اور ہمارے اعمال کہ کرونا وائرس نے سارے اجتماعات کو ممنوع بنا کر انٹر افغان مذاکرات کی راہ میں بھی رکاوٹیں ڈالی ہیں۔ لیکن اصل مشکلات شاید کچھ اور ہیں، اشرف غنی نے حلف کے بعد صدر افغانستان کی حیثیت سے اپنے دوسرے ٹرم (معیاد) کی شروعات تو کردی ہے لیکن اس دفعہ یہ حکومت صحیح معنوں میں بالفعل کانٹوں کی سیج ہے۔ ایک طرف افغانستان کے ساٹھ فیصد رقبہ پر قابض طالبان ہیں، دوسری طرف ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ جس کی پشت پر بھارت، ایران جیسے ملک ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی وعلاقائی ونسلی گروپس ازبک وتاجک ہیں اور ان ہی گروہوں میں رشید دوستم اور پنج شیر وادی کی یادیں اور موجودہ مفادات وحالات ہیں۔ اگر طالبان حکومت بنانے یا حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو ان لوگوں کیساتھ ان کا رویہ کیا ہوگا۔۔ سینکڑوں ہزاروں طالبان کو دشت لیلیٰ اور دیگر مقامات پر کابل میں داخل ہوتے وقت کس بربریت کا شکار کیا تھا، کیا طالبان، افغانستان میں اس کے قیام اور عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے اس سب کو بھولنے کا حوصلہ پیدا کریں گے۔ ضرور کرنا چاہئے۔۔ کیونکہ مکہ کا درس یہی ہے اور افغانستان میں طالبان کیلئے نئے انداز میں قدم جمانے کیلئے یہ بہت اہم اور ضروری اقدام ہوگا۔۔ اور اگر ایسا نہ ہوسکا تو ایک اور سول وار دور دکھائی نہیں دیتا، اللہ نہ کرے۔۔ اللہ خیر کرے۔۔ کیونکہ پاکستان ایک پڑوسی کی حیثیت سے کرونا وائرس کی موجودگی میں اپنی کمزور اور قرضوں تلے سسکتی معیشت کیساتھ اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ حالات کے تیور بہت مخدوش اور خطرناک ہیں، ملک میں لاک ڈاؤن ہے، پاکستان کے پاس تو پیٹرول بھی نہیں اوپر سے خدا نہ کرے، معیشت کا لاک ڈاؤن ہوجائے تو بس پھر اللہ ہی اللہ ہے۔ پاکستان لا الہ الا اللہ کے نام پر بنا ہے، لہٰذا اس نازک موقع پر اللہ سے خیر ہی مانگتے رہنا چاہئے۔ اللہ پر ایمان، اعتماد اور بھروسا مضبوط رکھنا چاہئے، یقین ہے اللہ ہم پر رحم فرمائے گا، اگرچہ ابھی ایک مسئلہ حل نہیں ہوا ہوتا کہ دوسرا منہ پھاڑے کھڑا ہوتا ہے لیکن ہر حال میں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔