علمائے کرام سے وسیع تر مشاورت کی ضرورت

علمائے کرام سے وسیع تر مشاورت کی ضرورت
وزیراعظم عمران خان نے ممتاز عالم دین مبلغ مولانا طارق جمیل سے ملاقات میں کرونا وائرس کی وباء کے پھیلائو کی روک تھام کیلئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میںممکنہ اقدامات بارے مشاورت کی ہے۔ مولانا طارق جمیل نے وزیراعظم کو اپنی رائے سے آگاہ کیا جبکہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا ہے کہ کونسل نے مذہبی اجتماعات سے متعلق سفارشات تیار کر لی ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ ملک میں جاری مذہبی اجتماعات ملتوی کئے جائیں، فی الحال مساجد بند کرنے یا نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی کی کوئی صورتحال نہیں، تاہم نماز جمعہ کے اجتماع میں بیانات کے بجائے مختصر خطبہ دیا جائے، جمعہ کے اجتماعات مختصر ہوں، بچے اور بزرگ افراد مسجد نہ جائیں، نماز جمعہ کے اجتماعات پر حتمی فیصلہ حکومت نے کرنا ہے لیکن صورتحال خراب ہونے پر نماز جمعہ کے اجتماع پر پابندی عائد ہوئی تو اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ دریں اثناء سندھ حکومت نے صوبے میں کورونا وائرس کے تیزی سے بڑھتے کیسز کے پیش نظر وفاق کو بین الصوبائی بارڈرز بند کرنے کی تجویز پیش کردی ہے۔ کراچی کیلئے بین الاقوامی پروازیں بھی بند کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ علمائے کرام سے مشاورت میں اس امر کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ وزیراعظم ممتاز اور جید علمائے کرام کے ایک وفد سے ملاقات کر کے ان کی تجاویز اور تائید وحمایت سے مساجد کی بندش یا پھر نماز جمعہ و پنج وقت نمازوں کی مسجد میں اس طرح ادائیگی کے ممکنہ طریقہ جس سے وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم سے کم ہو کے بارے میں کوئی رائے قائم کریں تو زیادہ مؤثر اور بہتر ہوگا۔ علمائے کرام کی جو رائے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے سامنے آرہی ہے اس میں علمائے کرام کی رائے ایک نہیں بلکہ مختلف ہے، علمائے کرام مساجد کی بندش کے حق میں نظر نہیں آتے جبکہ جید علمائے کرام محتاط رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس وقت تک چونکہ ملک میں کرونا وائرس کے بڑے پیمانے پر پھیلائو کی صورتحال نہیں لیکن جاری صورتحال میں اس وباء کے تیزی اور شدت اختیار کرنے کے خدشات پر حفظ ماتقدم کے اقدامات کی ضرورت ضرور محسوس ہوتی ہے۔ علمائے کرام کا معتدل رائے کا اظہار صورتحال کے تناظر میں ہے، اگر علمائے کرام کو ممکنہ خطرات اور اس کی خدانخواستہ ممکنہ شدت سے آگاہ کیا جائے تو صورتحال کے تناظر میں وہ بھی اپنی رائے میں تبدیلی لائیں۔ کسی عالم دین اور مفتی سے جس قسم کا سوال پوچھا جائے یا جس قسم کے حالات بتائے جائیں ان کا جواب اسی حد تک ہوتا ہے وہ اپنی دانست کے مطابق اس میں کمی بیشی نہیں کرتے، بہرحال اس امر پر کلی اتفاق پایا جاتا ہے کہ احتیاط اور بچائو کی جو بھی ممکنہ تدابیر ماہرین صحت تجویز کریں ان پر عملدرآمد ہونا چاہیے، انسان کی جان سب سے مقدم اور محترم چیز ہے، انسانی جان کے تحفظ کیلئے اسلام ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے یہاں تک کہ ایک انسان کی جان بچانے کو پوری انسانیت کا تحفظ قرار دیا گیا ہے، اس مناسبت سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات قابل غور ہیں جس کے مطابق بوقت اشد ضرورت نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی کی گنجائش ہے چونکہ یہ معاملات دین اور افراد کے انفرادی واجتماعی عمل سے متعلق ہیں اور مختلف مکاتب فکر کی وجہ سے اختلاف کی گنجائش موجود ہے جس سے بچنے کیلئے بہتر یہ ہوگا کہ چاروں صوبوں میں وزرائے اعلیٰ جید علمائے کرام سے مشاورت کریں ان کو صورتحال سے آگاہ کریں اور رہنمائی حاصل کریں، علاوہ ازیں وزیراعظم اور وزارت مذہبی امور بھی اس طرح کی نشستوں کا اہتمام کریں اور اجتہاد کا ماحول پیدا کیا جائے تو بہتر اور خیر کا فیصلہ سامنے آئے گا اور تضادات کی نوبت نہیں آئے گی جس پر عوام کو حکومت کا کوئی بھی فیصلہ قبول کرنے پر اعتراض بھی نہ ہوگا۔