کرونا آئسکریم،دیہاڑی دار،پولیس تنخواہ اور ظالم آجر

کرونا وائرس کے حوالے سے یوں تو طرح طرح کی باتیں ہو رہی ہیں، ہمارے دو قارئین نے دو ایسی باتیں ہم سے بانٹیں جو عام اور نہایت ضروری توجہ کے حامل ہیں۔ ایک قاری نے بڑے درد دل سے اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ کرونا وائرس کے خوف سے جب کاروبار حیات سمٹ رہا ہے اور مزید سمٹنے اور بند ہونے کا خدانخواستہ خطرہ ہے، ان دیہاڑی دار مزدوروں کا کسی نے سوچا ہے جو اچھے دنوں میں بھی دیہاڑی کے بغیر اُداس آنکھیں اور ٹوٹے دل لیکرخالی ہاتھ گھر جاتے تھے اب تو انسانوں کے انسانوں سے دور ہونے کے مشورے پر عمل ہو رہا ہے۔ ویسے بھی لوگ انٹر نیٹ اور موبائل فون کے باعث تنہائی پسند اور کمروں میں بند ہوگئے تھے، کرونا نے تو حد ہی کردی۔ اس عالم میں کوئی دیہاڑی دار مزدور کی خدمات کم ہی حاصل کرے گا۔ کم ازکم مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ دیہاڑی دار اور سخت محنت کرنے والوں کی قوت برداشت ان قیمتی انسانوں کو کرونا کا مقابلہ کرنے میں تو مدد دے گا، میں اپنے پریشان حال بھائیوں کو دلاسہ دے دوں کہ ان کو غم روزگار کیلئے نکلنا پڑے تو کم ازکم کرونا کاخوف طاری نہ کریں جو گھروں میں بیٹھے ہیں وہ بھی اپنے گارڈ، ڈرائیور، خانساماں اور خدام کے ذریعے دنیا سے رابطے میں ہیں۔ وباء سے کوئی محفوظ نہیں رہتا، دیہاڑی دار مزدوروں، ڈیلی ویجزاور کمزور معاش کے حامل افراد کی حتی المقدور مدد حکومت اور معاشرہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔ زمین والوں پر رحم کیا جائے تو آسمان والا بھی مہربان ہوگا ذرا سوچئے۔ ایک اور قاری نے بھی کرونا وائرس سے متعلق بڑے پتے کی بات کی ہے کہ گلی محلوں میں آئسکریم اور قلفی والوں نے چکر لگانا شروع کردئیے ہیں، ان کے معاش سے ہمدردی اپنی جگہ لیکن اس وقت آئسکریم اور قلفی کی فروخت ویسے بھی خطرناک ہے کجا کہ کرونا وائرس کی وباء کا خطرہ ہو اور ایسی چیزیں فروخت کی جائیں جس سے زکام وبخار کا خطرہ بڑھ جائے۔ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ آئسکریم قلفی والوں کے ڈبوں سے چمٹ جاتے ہیں، یہ بھی ایک خطرے والی بات ہے۔ تمام اضلاع کی انتظامیہ کو فوری اقدامات کے تحت آئسکریم اور قلفی کی فروخت کی ضرور ممانعت کرنی چاہئے اور اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کی پوری کوشش ہونی چاہئے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے گزشتہ کالم میں دوشکایات کے بعد اس قسم کے درجنوں افراد نے رابطہ کر کے مستحق ہونے کے ثبوت رکھنے کے باوجود ان کے کارڈ بھی بلاک کرنے کی شکایت کی ہے۔ جس بڑے پیمانے پر کارڈ بلاک کئے گئے ہیں ان میں اس امر کی گنجائش ہے کہ مستحقین کے بھی کارڈ بلاک ہوئے ہوں عین ممکن ہے کہ ان کے یا پھر ان کے اہل خاندان کے شناختی کارڈ کسی تجارت ومنفعت اور رقم کی منتقلی کیلئے استعمال میں لائے گئے ہوں۔ میں نے سبھی کو انکم سپورٹ کے متعلقہ دفاتر سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے بس اتنی ہی گزارش کی جا سکتی ہے کہ اگر یہ واقعی مستحقین ہوں تو پھر ان کے کارڈ کی بحالی کے عمل کو اُلجھانے اور تاخیر سے گریز کیا جائے اور ان کا وظیفہ جتنا جلد ممکن ہوسکے بحال کیا جائے۔
ادینہ صوابی سے ملک محمد حسیب نے ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے کاروبار اور آئے روز نئی ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار پانچ ٹیسٹنگ ایجنسیاں بنانے کی اجازت ہونی چاہئے، ہر دوسرے شخص کو اس کی اجازت نہیں ملنی چاہئے اور ان ایجنسیوں کے کام کی پوری نگرانی کی ضرورت ہے۔
ضلع ٹانک سے پولیس کے ایک سپاہی نے تنخواہ کی کمی کی شکایت کی ہے اور اس میں اضافہ کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس،پٹواری اور واپڈا والے شہریوں کی نظر میں خاص طور پر ناپسندیدہ قسم کے لوگ ہیں اور ان کے حوالے سے عام خیال ہے کہ ان کی اوپر کی آمدنی کافی ہوتی ہے۔ پولیس کے اس سپاہی کے مطالبے پر مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ کم ازکم اس قسم کے پولیس ملازمین کی بھی کمی نہیں جو تنخواہ کی کمی کسی اور ذریعے سے پوری کرنے کی بجائے حکومت سے اضافے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
ممتاز آباد نصیر خان کلے تخت بائی مردان سے علاقے میں نکاسی آب کا معقول بندوبست کرنے کیلئے ایک قاری نے مطالبہ کیا ہے۔ نکاسی آب کے منصوبے کے اس مطالبے پر حکام کو ازخود توجہ دینے کی ضرورت تھی اور عوام کو مطالبہ کرنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اُمید ہے متعلقہ حکام اب مزید تاخیر سے کام نہیں لیں گے۔
موساد خان ولد سردار خان ضلع کرم قوم مینگل پاراچنار کسی جگہ تین سال اور چھ ماہ سے کام کر رہے ہیں، اس عرصے میں ان کو صرف نوہزار روپے دیئے گئے، باقی رقم دینے سے مالک انکاری ہے۔ مجبوری کے عالم میں اور وعدوں پر اعتبار کر کے ہی موساد خان نے اتنا عرصہ گزارا ہوگا کہ شاید ان کو معاوضہ مل جائے مگر اب مایوس ہو کر کام کی وساطت سے اپیل پر مجبور ہوا۔ کس قسم کے سنگدل لوگ ہوتے ہیں جن کو خوف خدا نہیں اور انسانی ہمدردی تو نام کی نہیں ہوگی ورنہ اس بیچارے شخص پر اتنا ظلم نہ ہوتا، کاش کوئی اس بیچارے کو اس کا حق دلا دے، میسج دیکھتے دیکھتے درجنوں مزید بینظیر انکم سپورٹ کارڈ بند ہونے کے پیغامات دوبارہ سامنے آئے۔ بہرحال شکایات پر یکطرفہ طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بند کارڈ والے قریبی دفتر سے رابطہ کرلیں تو اُمید ہے کہ ان کے کارڈ کھول دیئے جائیں، بشرطیکہ وہ حقدار ہوں اور اعتراضات دور کریں۔
ہر بدھ کو شائع ہونے والے اس کالم کیلئے قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔