افغانستان امن عمل۔۔ اب آگے کیا ہے؟

کیا یہ تمام سیاسی انتشار، ابتر ہوتی سیکورٹی صورتحال اور آئے روز بڑھتے فرقہ وارانہ حملے کیا کم تھے کہ اب افغانستان کے لوگوں کو کرونا وائرس جیسے وبائی مرض کے ممکنہ خطرے سے بھی نمٹنا ہوگا جو ایران یا پاکستان سے آنے والے متاثرہ افراد کے ذریعے پھیلنے کا خدشہ ہے؟
بہرحال ہم وہاں کی صورتحال کا ایک الگ زاوئیے سے بھی تجزیہ کر سکتے ہیں۔ صدر اشرف غنی کی حلف برداری کی تقریب میں عالمی برادری کے کئی نمائندے شریک ہوئے تھے۔ یہ اس بات کا ایک اشارہ تھا کہ عالمی برادری اور افغانستان کے کئی رہنما انہیں ہی صدر تسلیم کرتے ہیں۔ ان نمائندوں اور مقامی قیادت کی جانب سے عبداللہ عبداللہ کی تقریب میں شرکت نہ کرنا اس بات کو مزید مستحکم کر دیتا ہے۔ اس قبولیت کی خاموش حمایت ہمیں امریکہ اور طالبان کے مابین ہونے والے معاہدے کی توثیق کیلئے منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کے اجلاس میں بھی محسوس ہوئی تھی۔
طالبان کے پاس یہ یقین کرنے کیلئے خاصی مضبوط وجہ ہے کہ امریکہ اپنے پاس قید پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو ان ایک ہزار افغان فوجیوں کے بدلے رہا کر دے گا جو طالبان کے زیرتحویل ہیں۔ طالبان نے اس سلسلے میں اشرف غنی کی جانب سے مجوزہ قیدیوں کی رہائی کی سکیم پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جس کے تحت پندرہ سو قیدیوں کی رہائی طالبان اور افغان مذاکراتی وفد سے گفتگو کے آغازکے پہلے اور یہ مذاکرات شروع ہونے کے بعد سے ہر دو ہفتوں کے بعد پانچ سو قیدیوں کی رہائی تجویز کی گئی تھی۔ اس مجوزہ سکیم میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ رہا ہونے والے قیدی اپنے دوبارہ جنگ یا لڑائی میں شامل نہ ہونے کا تحریری عہدنامہ بھی جمع کرائیں گے۔ دلچسپ بات یہ کہ اس وقت اس پر عدم اطمینان کا اظہار کرنے کے باوجود طالبان نے معاہدے پر دستخط کے وقت اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔
مگر طالبان کیوں ایسی شرط کو قبول کریں گے؟ وہ غیر ملکی افواج کے انخلاء کیساتھ معاشی امداد کے بھی طلبگار ہیں جس کی بدولت افغان افواج ایک لمبے عرصے تک کیلئے حفاظت پر مامور رہ سکیں گی۔ افغان افواج کی کارروائیاں جاری وساری رکھنے کیلئے امداد کے دو راستے موجود ہیں۔ پہلا ذریعہ افغان نیشنل آرمی ٹرسٹ فنڈ اور لا اینڈ آرڈر ٹرسٹ فنڈ ہے اور دوسرا افغانستان حکومت کا وہ عہد ہے جس کے تحت انہوں نے ہر سال پانچ کروڑ ڈالر دینے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اہمیت کا حامل وہ امریکہ افغان فنڈ برائے سیکورٹی فورسز ہے جو امریکہ اور افغانستان کے معاہدے کے تحت چلایا جاتا ہے اور اس کے ذریعے افغانستان کی افواج کو ہتھیاروں اور اخراجات کیلئے امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس فنڈ کے تحت پہلے سالانہ4.9ارب روپے کی امداد دی جاتی تھی مگر اب اس کے استعمال میں کرپشن کی نشاندہی کے بعد کچھ کٹوتی کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ صدر اشرف غنی نے بھی اس افغان نیشنل دیفنس اینڈ سیکورٹی فورسز کے موجودہ6.5ارب ڈالر میں سے ایک ارب ڈالر کی کٹوتی کی تجویز دی ہے۔ یہ وہ رقم تھی جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے 2024 تک ہر سال دستیاب کرنا لازم تھا۔
طالبان کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ہوتے ہوئے 2024 تک اس قدر امداد امریکی افواج کی غیرموجودگی میں برقرار رکھنا عملی طور پر ممکن نہیں ہوگا۔ البتہ وہ اسے تب تک جاری رکھوانا چاہتے ہیں جب تک کہ ممکن ہو سکے اور اس کیلئے قیدیوں کی رہائی سے متعلق کوئی سمجھوتا کرنا کوئی بڑی قیمت نہیں۔
ہم جس قدر بھی پراُمید ہو جائیں، زلمے خلیل زاد کی اس پیش گوئی پر یقین نہیں کر سکتے کہ افغانستان کے اندرونی فریقوں کے مابین مذاکرات جنگ بندی کے فوراً بعد شروع ہو کر سو دنوں کے اندر اختتام پذیر بھی ہوجائیں گے۔ افغان امور کے ماہر بانیٹ روبن کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے تحت لگائی جانے والی پابندیوں کے باعث دوحہ یا اوسلو میں ان وفود کی ملاقات کرانا نہایت مشکل ہوگا اور ہمیں اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ ایسے مذاکرات میں کسی قسم کی آن لائن سرگرمیوں سے زیادہ ضروری فریقوں کا آمنے سامنے آکر بات کرنا ہے کہ ایسی ملاقاتوں میں اصل حل راہداریوں میں چلتے، غیررسمی مکالموں میں نکلتا ہے ناکہ پرتکلف میٹنگز میں۔
مگر اب یہ سوال بھی یہاں اپنی جگہ موجود ہے کہ اس سب میں ڈاکٹر عبداللہ اور ان کے حمایتی کس جگہ کھڑے ہیں۔ زلمے خلیل زاد کے مطابق انہیں عبداللہ عبداللہ کے خدشات سے کوئی مسئلہ نہیں اور وہ انتخابات میں ہونے والے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں مگر وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت کی نازک صورتحال کو دانشمندی سے سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ایک خودمختار امریکہ اور اپنے پاؤں پر کھڑا افغانستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب اس بات پر یقین کرنا خاصا مشکل نظر آتا ہے کہ اس ساری صورتحال میں ڈاکٹر عبداللہ اور ان کے حامی خود کسی قسم کی کارروائی سے باز رہیں گے۔ اس طرح ہمیں1996 جیسی صورتحال کا ایک مرتبہ پھر سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس میں افغانستان کے بیشتر علاقوں پر طالبان اپنا قبضہ قائم کر چکے تھے مگر تاجکوں اور ازبکوں کی نمائندہ، عالمی طور پر منظور شدہ حکومت ایک شمالی اتحاد تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
زلمے خلیل زاد نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہا کہ ہم نے طالبان کو افغان حکومت کیساتھ مذاکرات کیلئے میز پر بیٹھنے پر رضامند کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ طالبان کو پاکستان سے نکال کر اس ملاقات کا حصہ بنایا جس میں سعودیہ، متحدہ عرب امارات اور امریکہ شامل تھا اور یہ پاکستان ہی تھا جس نے طالبان کو افغان حکومت کیساتھ مذاکراتی میز پر لانے اور اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ کیا اس سب کا یہ مطلب ہے کہ پاکستان اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے طالبان کو عبداللہ عبداللہ اور ان کے گروہ سے متعلق ایک لچکدار رویہ اپناکر رضا مند کر لے گا؟ یہ بات مشکل نظر آتی ہے مگر ناممکن نہیں۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)