ضروری اقدامات میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے

قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندرحیات خان شیرپائو نے ملک بالخصوص خیبر پختونخوا میںکرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں پیشگی منصوبہ بندی نہیں کی، کرونا وائرس کے حوالے سیاست نہیںکرنا چاہتے مگر اس ضمن میں حکومت کی کوتاہیوں کو منظرعام پرلانے کی بہرحال ضرورت ہے۔ دریں اثنا ہمارے نیوز رپورٹر کے مطابقخیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سٹیج ون سے براہ راست سٹیج تھری میں داخل ہونے کی وجہ سے صوبائی حکومت کیلئے مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔ اس صورتحال میں محکمہ صحت کی جانب سے حفاظتی سامان کی فہرست بھی کم پڑگئی ہے جبکہ ملک بھر میں کرونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے میڈیسن مارکیٹوں میں سینی ٹائزر اور این نائنٹی فائیو ماسک بھی نایاب ہوگئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں اب تک کرونا وائرس کے پھیلائو کی صورتحال بظاہر اتنی سنگین نہیں لیکن جس قسم کی صورتحال کی نشاندہی ہورہی ہے اس سے اچانک اور شدید نوعیت کے وباء کے سامنے آنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ صوبے میں کرونا وائرس کا ایک مرحلہ پھلانگ کر اگلے مرحلے میں نموداری اس امر کا غماز ہے کہ صوبے میں اس وباء سے نمٹنے اور اس کی روک تھام کیلئے اقدامات میں غفلت برتی گئی یاپھر انتظامات ہی سرے سے ناکافی تھے۔ سندھ حکومت کے اقدامات اور عوام کو آگاہی دینے کے حوالے سے جس طرح قصبات اور گائوں تک میں لوگوں کو خبردار کرنے اور ان کو خود حفاظتی یقینی بنانے کی تلقین ہورہی ہے یا پھر سرکاری سطح پر جو مختلف اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں اور فیصلے سامنے آرہے ہیں کیا وجہ ہے کہ پنجاب، بلوچستان اور پختونخوا میں وہی اقدامات اُٹھانے میں تاخیر ہورہی ہے۔اس سے ایک تشویشناک صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایک ایسا مرض جس کی روک تھام اور علاج دونوں ہی نہایت مشکل اور ناممکن کی حد تک ہو، اس حوالے سے جتنے سخت اور مشکل اقدامات لئے جائیں گے اس سے لوگوں کو تو بہر حال وقتی تکلیف کا احساس ہو لیکن ان کی زندگیاں بچانے کیلئے اور صحت کیلئے ناگزیر اقدامات میں مزید تاخیر نہیں کی جانی چاہیے۔ حکومت کے بتدریج اقدامات کا مقصد اگر سخت عوامی ردعمل کا خوف ہے تو یہ مصلحت پسندی بے جا ہے جو مناسب نہیں۔
قیدیوں کا معاملہ
خیبرپختونخوا میں وکلاء ہڑتال کے باعث ضمانت کی درخواستوں پرسماعت نہ ہوسکی جس کی وجہ سے قیدیوں کو مزید دن جیل میں کاٹنی پڑے گی۔ ہڑتال کے باعث معمولی نوعیت کے جرائم میں قید ملزمان کی ضمانت درخواستوں پربھی پیش رفت نہ ہونے سے ان کا قانونی حق متاثر ہورہا ہے۔دوسری جانب جیلوں میں قیدیوںکے داخلے کے تسلسل سے قیدیوں کے کرونا وائرس سے متاثر ہونے کا امکان بڑھ رہا ہے۔ حکومت نے جس طرح دیگر شعبوں میں ہنگامی اقدامات کئے ہیں اسی طرح قیدیوں کے تحفظ اور معمولی نوعیت کے قیدیوں کی رہائی اور سزا معافی کے اقدامات کو بھی جلد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
مضر صحت اشیاء کی فروخت روکنے پر توجہ دی جائے
ایک ایسے وقت میں جبکہ صحت کے حوالے سے معاملات پر پوری توجہ دینے کا ماحول ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جہاں آلودہ پانی سے سیراب سبزیوں کی تلفی کی گئی وہاں ہر قسم کے مضر صحت اشیاء کیخلاف سخت مہم کی ضرورت ہے جن کے کھانے سے لوگوں کی صحت متاثر ہورہی ہے۔ خاص طور پر بچوں کیلئے تیار کردہ خوردنی اشیاء میں جس طرح حفظان صحت کے اصولوں کی پامالی کی جاتی ہے اس ضمن میں وقتاً فوقتاً ناکام مہم چلتی رہتی ہے لیکن جاری صورتحال میں مزید غفلت کی گنجائش نہیں۔ہمارے تئیں صوبے میں بڑے پیمانے پر مضر صحت اشیاء تیار ہو کر مارکیٹ میں کھلے عام بک رہی ہیں حاص طور پر بچوں کیلئے تیار ہونے والی اشیاء کی جو صورتحال ہے وہ نہایت تشویشناک اور توجہ طلب ہے۔ جس بیمار بچے کو بھی ڈاکٹر کے پاس لے جایا جائے ڈاکٹر کی سب سے پہلی بات ان مضر صحت اشیاء سے بچوں کو محفوظ بنانے کی ضرورت پر زور دینا ہوتا ہے۔ ان اشیاء کے استعمال سے بچوں میں طرح طرح کی بیماریاں پھیل رہی ہیں مگر اس کے باوجود مارکیٹ میں ان اشیاء کی فروخت کا نوٹس نہیں لیا جاتا۔ خیبر پختونخوا فوڈ اتھارٹی کا قیام ہوا ہے گو کہ ادارہ عملہ کی تقرری کے مراحل میں ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان سے پرزور گزارش ہے کہ وہ سب سے پہلے اس امر پر توجہ دے تاکہ سب سے پہلے معصوم بچوں کو ایسی اشیاء کے استعمال سے ہر ممکن طور پر بچایا جاسکے جو مضر صحت ہوں۔
کرے کون۔۔۔؟
گزشتہ روز کی اشاعت میں صفحہ 2پر اندرون شہر خریدوفروخت کے مرکز اور مصروف ترین مارکیٹ کریم پورہ بازار میں تین تین ٹرانسفارمروں کے نیچے اور ساتھ پول پر جس طرح بجلی کے بے ہنگم اور ننگی تاروں کے جال کی تصویر شائع ہوئی ہے اُس پر مزید کسی تبصرے کی ضرورت نہیں، ساتھ ہی بجلی کے میٹر جس بے ہنگم انداز میں لگائے گئے ہیں اُس سے ایسا لگتا ہے کہ پیسکو حکام اور اہلکاروں کو عوام کے تحفظ کا کوئی احساس ہی نہیں، یہ صرف کسی ایک علاقے کی صورتحال نہیں بلکہ صوبے میں ہر جگہ تقریباً یہی صورتحال ہے۔ آئے روز حادثات کے خطرات میں اضافہ ہونا فطری امر ہے، پیسکو حکام کے پاس اتنے وسائل اور عملہ تو موجود ہے، لائن مین ٹیلیفون کا ریسور نیچے رکھ کر کمپلینٹ آفس میں گپے ہانکتے رہتے ہیں، اُن سے روزانہ کی بنیاد پر کسی ایک کھمبے میں لٹکتے تاروں اور میٹروں کو محفوظ طریقے سے لگانے کا کام لیا جائے تو مہینے کے اندر اندر یہ مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔مگر کرے کون؟۔