نہ کوئی فال نکالی نہ استخارہ کیا

کیا یہ عجیب بات نہیں ہے کہ دنیا میں ہونے والے واقعات کے بارے میں پیشگوئیاں بہت پہلے سے موجود ہیں اور جب بھی کوئی ایک واقعہ رونما ہوتا ہے مغربی ذرائع ابلاغ پر وہ پیشگوئیاں سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں جو برس ہا برس پہلے ناسٹرے ڈیمس، بابا وانگا، جین ڈکسن یا اسی قبیل کی شخصیات نے کی ہوتی ہیں، مگر ایک یہ کورونا وائرس ہے جس کے بارے میں عالمی شہرت کے پیش بینوں میں سے کسی کے ہاں اب تک دکھائی نہیں دیتی، کیونکہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو یقینا مغربی ذرائع ابلاغ پر ان کا خوب چرچا ہورہا ہوتا، اور جو تباہی ہوئی یاجاری ہے اور اللہ بچائے نہ جانے اس کا اختتام کہاں پر ہوگا کیونکہ اب تو اس نظریئے کو بھی شک کے بیانئے میں ملفوف کر دیا گیا ہے کہ گرمی آتے ہی یہ وائرس دم توڑ د یگایعنی یہ ضروری نہیں ہے کہ گرم موسم اس وائرس کو ختم کر دے گا، اگر بابا وانگا اور ناسٹرے ڈیمس یا اور کوئی پیش بین کورنا وائرس کے بارے میں کچھ کہتا تو ظاہر ہے دنیا پہلے سے الرٹ ہوتی اور وائرس کے پھیلنے سے پہلے ہی اس کا توڑ کرلیتی، اینٹی وائرس تیار کر لیا جاتا اور دنیا میں اتنی ہلاکتیں نہ ہوتیں، ایک فلم کے بارے میں البتہ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ ایسی ضرور گردش کر رہی ہے کہ چندبرس پہلے اس فلم میں اسی کورونا وائرس کا تذکرہ کیا گیا تھا، اب وثوق سے یہ بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کہ مذکورہ فلم میں جس وائرس کی بات کی گئی ہے وہ دنیا کو خبردار کرنے کیلئے کسی خاص مقصد کی نشاندہی تھی یا پھر کہانی نویس کے ذہن کی اختراع تھی اور فلم کی کہانی میں بیان کی گئی صورتحال کو محض اتفاقیہ کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے، اتنی بات البتہ ضرور ہے کہ وہ جو گزشتہ کچھ دنوں سے کورونا وائرس کے پھیلنے کے حوالے سے شکوک وشبہات کے ضمن میں سوشل میڈیا پر بعض ”افواہیں” گردش کر رہی تھیں ان کو بالآخر شف شف سے ایک چینی ترجمان نے یہ کہہ کر شفتالو بنا دیا کہ یہ وائرس امریکہ نے پھیلا یا ہے اور کچھ عرصہ پہلے چین کے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ووہان میں امریکہ چین مشترکہ فوجی مشقوں کے دوران امریکی فوجیوں کی وجہ سے وائرس پھیلا، چینی ترجمان نے امریکی انتظامیہ سے بعض سوالات کی وضاحت بھی طلب کی، جس پر صدر ٹرمپ نے غصے میں کورونا وائرس کا نام تبدیل کرتے ہوئے اسے چینی وائرس قرار دیا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کے جوابی الزامات سے چینی ترجمان کے اُٹھائے ہوئے الزامات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور دنیا ان سوالوں کے جوابات کی منتظر رہے گی۔ فضل احمد خسرو نے کہا تھا
مرنے والوں کیلئے ماتم میں سب مصروف ہیں
ہاتھ ظالم کے گریباں پر کسی کا بھی نہیں
بات ہورہی تھی ناسٹرے ڈیمس،بابا وانگا اور اسی قبیل کے دوسرے کرداروں کی جو اپنی پیشگوئیوں کے حوالے سے عالمی شہرت رکھتے ہیں اور جن کے ہاں اورتو کئی عالمی واقعات کا تذکرہ موجود ہے مگر کورونا وائرس کے بارے میں بالکل خاموشی ہے، ایک اور امریکی خاتون ہوا کرتی تھی نام تھا اس کا جین ڈکسن، اس کے بارے میں ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ اگرچہ وہ ستارہ شناسی سے آشنا تھی اور لوگوں کی قسمت کا حال بتایا کرتی تھی مگر بعد میں اسے امریکی سی آئی اے نے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا (حقیقت کیا ہے واللہ اعلم بالصواب) یعنی امریکی سی آئی اے دنیا کے کسی بھی خطے میں کوئی گیم کھیلنا چاہتی تو جین ڈکسن سے اس حوالے سے متعلقہ ملک کے بارے میں پیشگوئی کروا لیتی اور پھر اس ملک میں حالات بگڑنا شروع ہو جاتے، یوں دنیا یہ سمجھتی کہ جین ڈکسن نے تو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا، اس کے مرنے کے بعد اب سی آئی اے کیا ”طریقہ واردات” اختیار کررہی ہے، غالباً جس فلم کا تذکرہ سوشل میڈیا پر کیا جارہا ہے، اب ایسے ٹولز سے کام لیا جا رہا ہے، تاہم دنیا اس نئے طریقہ واردات سے زیادہ باخبر نہیں ہے، اس لئے اب دنیا کو پہلے سے زیادہ چوکنا ہونا پڑے گا۔ یہ بالکل وہی صورتحال ہے جس کا تذکرہ مشہور ادیب میتھیو آرنلڈنے ان الفاظ میں کیا تھا کہ ”اور ہم یہاں اندھیرے میں اس میدان میں بھٹک رہے ہیں کہ جہاں پیش قدمی اور مراجعت کے سمجھ میں نہ آنے والے نعروں کے شور وغل میں ناسمجھ قوتیں برسرپیکار ہیں”۔
مصحفی ہم تو سمجھتے تھے کہ ہوگا کوئی زخم
تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا
چلئے ناسٹرے ڈیمس،بابا وانگا اور جین ڈکسن کی پیشگوئیاں نہ سہی، کم ازکم یہ جو ہر سال ہمارے اپنے چینل ملک بھر کے مشہور ستارہ شناسوں، پامسٹوں اور ٹیلی کارڈ ماہرین کا جمعہ بازار سجا کر ملکی حالات پر تبصرے، پیشگوئیاں اور قسمت کا حال بتانے کیلئے پروگرام نشر کرتے ہیں اس موقع پر وہ ان ماہرین کو اکٹھا کرنے میں کیوں تاجل سے کام لے رہے ہیں؟ اس سلسلے میں مشہور ستارہ شناس ماموں، محمد افضل، آغا بہشتی، سمیعہ خان وغیرہ سے رجوع کر کے اگر کورونا وائرس اور خاص طور پر اس کے پاکستان پر اثرات کے حوالے سے ایک معلومات افزاء پروگرام نشر کریں تو صورتحال کی تھوڑی بہت وضاحت تو ہوسکے گی، آج کل ایک مشہور اینکر سمیع ابراہیم اپنے یوٹیوب چینل پر سیاسی حالات پر تبصرے کیلئے پروفیسر جاوید سے ستاروں کی چال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہیں جبکہ یوٹیوب پر ہی ایک پیر پنجر سرکار کی بھی بہت دھوم ہے اور زنجانی جنتری والے خاندان کے افراد بھی اپنی پوسٹیں شیئر کرتے ہیںجو کرونا وائرس کے حوالے سے خاموش دکھائی دیتے ہیں، سو دیکھتے ہیں کہ ان کی پیشگوئیاں کب سامنے آتی ہیں
نہ کوئی فال نکالی، نہ استخارہ کیا
بس ایک صبح یونہی خلق سے کفارہ کیا