کرونا’ سب چیزیں مہنگی کرونا

میں یہ نہیں لکھنے والا کہ سب اچھا ہے اور کسی احتیاط کی ضرورت نہیں لیکن یہ بھی نہیں لکھوںگا کہ پریشان ہو جائیں اور وباء کی بجائے پریشانی سے انسانی جانوں کا ضیاء ہو جائے۔ ہمارے ملک میں بیماریوں یا ضروری اشیاء کی ناپیدی سے حالات خراب نہیں ہوتے بلکہ ضرورت سے زیادہ خوف وحراس پھیلانے والوں کی وجہ سے بھگدڑ مچ جانے سے زیادہ نقصانات ہوتے ہیں اور اسی بھگدڑ میں انسانی جانیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں۔ ساری دنیا میں حالات اتنے خراب نہیں لیکن میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا نے دہشت پھیلایا ہوا ہے، سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ چین نے اس وباء پر قابو پا لیا ہے، اب صرف احتیاطی تدابیر اختیار کرنے ہوں گے۔ چین کے ماہرین اپنے تجربہ کو لیکر دوسرے ملکوں کو جارہے ہیں۔ کرونا وائرس بلاشبہ ایک خطرناک وائرس ہے اور اس سے چین سمیت دنیا بھر میں اموات بھی واقع ہوئی ہیں لیکن اگر چین اور ساری دنیا کے اعداد وشمار دیکھے جائیں تو علامات تو بہت سارے لوگوں میں ظاہر ہوئی ہیں مگر خوش قسمتی سے اموات بہت کم ہیں۔ ابھی حال ہی میں نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں آرٹیکل شائع ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ چائنا میں گیارہ سو افراد پر ایک سٹڈی کنڈکٹ (تحقیق) کی گئی اس کے مطابق کل 1.4فیصد لوگ موت کا شکار ہوئے ہیں۔ اسی طرح ایک اور تحقیق شائع ہوئی ہے جو یہ بتاتی ہے کہ کرونا وائرس کی دوقسمیں ہیں ایک ایل ٹائپ اور ایک ایس ٹائپ، 80فیصد کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے لوگوں میں یہ بیماری بہت ہی کم درجے کی ہوتی ہے، پندرہ فیصد افراد میں ذرا زیادہ درجہ کی ہوتی ہے اور صرف پانچ فیصد افراد کو ہسپتال میں داخل کرکے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ان کا علاج ہوتا ہے۔
اب یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ کرونا وائرس، انفلوئنزہ وائرس کی طرح ہوا میں نہیں پھیلتا کیونکہ اس کے جراثیم بہت بھاری ہیں اور بہت جلد یہ نیچے زمین پر یا دوسری چیز کی سطح پر گرجاتی ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ ہوا میں نہیں ہوتا اور عام جگہوں پر سانس لینے سے اس وائرس کے لگنے کا خدشہ نہیں ہوتا یوں اگر ہم میں سے کوئی کسی مریض سے ایک یا دوسو میٹر کے فاصلے پر ہوگا تو اس وباء کے لگنے کا خدشہ ہے لیکن یہ نہیں کہ یہ ہوا میں سے ہوتی ہوئی پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لے، ہاں البتہ یہ جراثیم جب کوئی بھی سطح چاہے وہ زمین کی سطح ہو یا میز کرسی، دروازے کھڑکیوں کی سطح پر لگ کر بیٹھ جاتے ہیں تو اس سطح کو چھونے سے یہ وباء لگ سکتی ہے۔
صرف دو طرح کے لوگوں کیلئے فیس ماسک کا استعمال ضروری بتایا جا رہا ہے، اول وہ لوگ جن کو کھانسی، بخار یا سانس کی تکلیف ہے انہیں چاہئے کہ وہ فیس ماسک ضرور پہنیں اور عوامی مقامات پر جانے سے گریز کریں حتیٰ کہ نماز بھی گھر پر ادا کریں اور اگر تکلیف بڑھ رہی ہو یا پھر شک گزر رہا ہو کہ کرونا وائرس تو نہیں ہے تو ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔
دوسرے وہ لوگ جو گزشتہ چودہ دنوں میں کسی ایسے علاقہ سے پاکستان آئے ہیں کہ جہاں پر یہ وائرس پھیلا تھا مثلاً چین’ ایران، اٹلی، ساؤتھ کوریا وغیرہ تو اس صورت میں یا پھر کسی مصدقہ مریض کیساتھ آپ کا میل جول رہا ہو تو ان صورتوں میں وہی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی یعنی فیس ماسک پہننا ہوگا اور عوامی مقامات جن میں مسجد جانا بھی شامل ہے سے گریز ضروری ہے لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ یہ لوگ فوری طور پر ہسپتال سے رابطہ کریں اور اگر ہسپتال کا عملہ ایسے مریض کو قرنطینہ یا گھر میں رہنے کی ہدایت کریں تو ان کی ہدایت پر ضرور عمل کیا جائے۔
احتیاط میں ایک اور اضافہ آپ یہ بھی کرسکتے ہیں کہ ہاتھ جب بھی دھوئیں صابن سے دھوئیں اس طرح کرنے سے آپ سنت پر بھی عمل کر رہے ہیں اور صاف ستھرا بھی رہیں گے، ایمان بھی مضبوط ہوگا اور برکتوں اور رحمتوں کے بھی حقدار ہوں گے۔ اس کے علاوہ اگر باربار پانی پینے کی عادت بنا لیں تو یہ بھی منہ میں رہنے والے جراثیم کو ختم کرنے میں ممد ومعاون ہوگا کیونکہ ماہرین کے مطابق کرونا وائرس کا جراثیم چارگھنٹے تک انسان کے منہ یا گلے میں رہتا ہے اور اس کے بعد اپنا اثر دکھاتا ہے۔ اگر خدا ناخواستہ کرونا جراثیم گلہ میں موجود ہو تو یوں بار بار نیم گرم پانی پینے سے یہ جراثیم گلے ہی میں ختم ہونے کے زیادہ امکانات ہیں یہاں ہی سے صفائی ہوجائے گی۔ کرونا سے جتنا ڈرایا جا رہا ہے یہ اتنا خطرناک نہیں اور نہ ہی بہت زیادہ احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر طرح طرح کے علاج اور قسم قسم کی احتیاطیں بتائی جارہی ہیں، ان پر عمل کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کرلیں اور دوسری اور بڑی بات کہ فیس ماسک یا ادویات کو ذخیرہ کرنے کی چنداں ضرورت نہیں جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ ذخیرہ اندوزوں کیلئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ ذخیرہ اندوز تو اس طرح کے مواقع کے انتظار میں ہوتے ہیں اور رمضان آنے سے پہلے ہی چیزوں کو سٹور کرلیتے ہیں اور پھر ناپید ہونے کی صورت میں مہنگے داموں بیچ کر غریب لوگوں کو پریشان کرتے ہیں لہٰذا آپ تو پریشان ہوکر غیر ارادی طور سے سب اشیاء ضرورت کو مہنگا مت کرونا۔