اپنے سے یہ حالات سنور کیوں نہیں جاتے

گلیاں ہوں سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے جیسے مصرعوں کی اہمیت کا اندازہ ہونے لگا ہے،مگر صدیوں کہی ہوئی یہ بات بھی اپنی انتہائوں کو چھوتی نظر آرہی ہے کہ صاحبان کے دل کی کیفیت تو یہی تھی کہ گلیاں خالی ہوں اور صرف مرزا جٹ ہی گلیوں میں چلتا پھرتا نظر آئے،مگر اس کورونا نے تو پوری دنیا کو ان خالی گلیوں میں تبدیل کردیا ہے جہاں شاید انگریزی زبان کے اس مشہور سائینٹفک افسانے کی کیفیت کا اظہار کیا گیا ہے اور ایک ایسی دنیا کا تصور پیش کیا گیا جہاں کسی کو گھر سے باہر آنے کی اجازت نہیں ہوتی،بلکہ ہر شخص کو گھر میں بیٹھے بیٹھے ہی اس کی ضرورت کی ہر چیز مہیا ہوجاتی ہے ،ایسے میں ایک سرپھرا روبوٹس اور مشینوں سے کنٹرول کی جانے والی صورتحال سے تنگ آکر گھر سے باہر نکل آتا ہے مگر تھوڑی ہی دیر میں ایک خالی موٹر کار سائرن بجاتے ہوئے اس کے قریب آجاتی ہے اور گاڑی کے اندر لگے ہوئے لوئوڈ سپیکر سے اسے گاڑی میں بیٹھنے کا حکم ملتا ہے۔The Pedestrian کے نام سے لکھی جانے والی اس کہانی میں جس دور کا تذکرہ کیا گیا ہے ممکن ہے وہ دور آج نہیں تو آئندہ تین چار دہائیوں میں آہی جائے،فی الحال تو مرزا یار(کرونا وائرس) ہی دنیا بھر میں شہروں، بازاروں اور گلیوں کو خالی کر کے انسانوں کو گھروں تک محدود کرنے میں مصروف ہے،اور اب تو پاکستان میں بھی انسانوں کی نقل وحرکت کو مختلف پابندیوں میں جکڑنے کی حکمت عملی پر عمل ہونے لگا ہے ،بازاروں کو شام7بچے تک بند کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے،تقریبات پر پابندیاں لگا کر پہلے شادی ہالوں اور شاپنگ مالز کی بندش کے احکامات صادر کئے گئے جبکہ شادی ہالز کی انتظامیہ کی جانب سے اس پر احتجاج بھی کیا گیا ،تاہم انسانی سلامتی کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے اس لئے کہ جس طرح ایران کے بارڈر تفتان کے راستے کورونا سے متاثرہ لوگوں کی آمد کے حوالے سے خبریں سامنے آرہی ہیں اس نے تشویشناک صورتحال جنم دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے ،اور اب تقریباً چاروں صوبوں میں کورونا کے مشتبہ مریضوں کے بارے میں اطلاعات نے فکر مندی کی کیفیت پیدا کردی ہے،ہمارے ایک کرم فرما پروفیسر ڈاکٹر اسحاق وردگ نے صورتحال کو ایک تازہ شعر میں یوں واضح کیا ہے کہ
بازارہیں خاموش تو گلیوں پہ ہے سکتہ
اب شہر میں تنہائی کاڈر بول رہا ہے
وہ جو چندروز پہلے انتظامیہ کی جانب سے شہر میں ٹریفک کے نظام کو درست کرنے کیلئے غیر رجسٹرڈ رکشوں کے خلاف کریک ڈائون کا فیصلہ سامنے آیا تھا رکشہ ڈرائیوروں نے اس پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا تھا،تازہ صورتحال میں جوتبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے اس نے رکشہ ڈرائیوروں کے احتجاج کو اگرچہ پیچھے کی طرف دھکیل دیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ دوسرے اضلاع سے لا کر پشاور میں رکشوں کی جو بھر مار کی گئی تھی اس سے فی الحال اہل پشاور کی جان چھوٹ گئی ہے،یعنی دیگر اضلاع کے رکشے واپس اپنے علاقوں تک پہنچ چکے ہیں،البتہ اس کیفیت نے پشاور میں چلنے والے رکشہ ڈرائیوروں کی سوچ کو دولخت کردیا ہے،ایک طبقہ وہ ہے جو صورتحال سے''ناجائز''فائدہ اٹھاتے ہوئے یعنی رکشوں کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے اب زیاہ کرایہ مانگ رہے ہیں،جبکہ دوسرا وہ طبقہ ہے جو سواری دستیاب نہ ہونے کے کارن کم کرائے کو بھی غنیمت جانتے ہوئے صبر شکر کر کے جو بھی ملے لے لیتا ہے اس صورتحال سے ہمیں روزانہ گزرنا پڑتا ہے ہم صبح گھر سے اپنے دفتر نشترہال جاتے ہوئے اگرچہ گلی سے باہر آجاتے ہیں تو چند مخصوص رکشہ والوں کے ساتھ بہ آسانی اور مقررہ کرائے کے عوض سفر کرتے ہیں،تاہم اگر ان میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو کسی اجنبی رکشہ ڈرائیور کے ساتھ مول تول کی نوبت آجاتی ہے ،گزشتہ روز بھی یہی ہوا کہ جب ہم نے کرایہ کا پوچھا تو آگے سے جواب آیا،جتنے زیادہ دیں کم ہیں،اسی طرح واپسی پر جو رکشے آتے ہیں ان کے ڈرائیورز ڈیڑھ گنا کرایہ طلب کرتے ہیں،البتہ جب ہم نے ایک رکشے والے سے کہا کہ جناب ہم تو ہر روز آنے اور جانے کیلئے اتنی رقم دیتے ہیں تو اس نے مسکرا کے کہا،بیٹھ جائیں،اب تو صورتحال اتنی دگر گوں ہوگئی ہے کہ سواری مشکل سے ملتی ہے،لوگ گھروں میں قید ہوگئے ہیں،یہی کیفیت رہی تو ہم غریب لوگ کیسے اپنے بچوں کو پالیں گے؟اب تو پابندیاں مزید بڑھ رہی ہیں،بات غلط تو نہیں تھی کہ اس مہلک بیماری نے تو پوری دنیا کو لاک ڈائون کرنا شروع کردیا ہے۔محبوب خزاں نے غالباً ایسی ہی صورتحال کے حوالے سے کہا تھا
اخبار میں روزانہ وہی شور ہے،یعنی
اپنے سے یہ حالات سنور کیوں نہیں جاتے
ترقی یافتہ ممالک اگر لاک ڈائون کر رہے ہیں تو ان کے ہاں سوشل سیکورٹی کا مضبوط اور مربوط نظام کام کر رہا ہے اور لوگوں کوروز گار مل جاتا ہے،جبکہ بے روزگاری الائونس سے بھی استفادہ کرنے والوں کو کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا،انہیں مقررہ اداروں سے گزارہ الائونس کے ساتھ ساتھ صحت انشورنس کی سہولیات دستیاب ہوتی ہیں،مگر مسئلہ تو ہم جیسے ترقی پذیر(ترقی پذیر؟)اور غریب ممالک کے باشندوں کا ہے،جنہیں اگر روزانہ کے حساب سے مختانہ نہ ملے تو ان کے گھروں میں فاقے ڈیرے ڈالے ہوتے ہیں۔پشاور ہی کو لے لیں،روزانہ صبح کے وقت شہر ،صدر،یونیورسٹی ٹائون اور بعض دوسرے مقامات یعنی گھنٹہ گھر،گل بہار سینما چوک،صدر میں فورہ چوک وغیرہ میں مخصوص مقامات پرراج،مزدور،ترکھان ،چونا گر وغیرہ کے جتھے نظر آتے ہیں،اگر کوئی ضرورتمندآکر انہیں کام پر لگا دے تو دیہاڑی لگ جاتی ہے ورنہ بے چارے بے نیل ومرام خالی ہاتھ گھروں کو واپس جانے پر مجبور ہوتے ہیں اور اگر حکومت کے اقدامات کی وجہ سے شہر اسی طرح''لاک ڈائون'' ہوتے رہے تو ان لوگوں کا کیا بنے گا؟اگرچہ رازق تو اللہ ہی ہے اور وہی مہربان بھی ہے اس لئے''گھبرانا نہیں''کہ بقول میر تقی میر
حال بد گفتنی نہیں لیکن
تم نے پوچھا تو مہربانی کی