دتہ خیل آپریشن’ قربانیوں کا نیا باب

ضلع شمالی وزیرستان میں دتہ خیل کے قریب دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹ آپریشن کے دوران پاک فوج کے ایک افسر سمیت 4جوانوں کی شہادت نے دہشت گردوں کی باقیات کے خاتمہ کے لئے سیکورٹی اداروں کے عزم صمیم کو دو چند کیا ہے۔ حکومت اور عوام کو اپنے ان جانبازوں پر فخر ہے جنہوں نے عالمی سازش کے تحت پاکستان میں دہشت گردی کے لئے منصوبہ بندی میں مصروف دہشت گردوں کے ٹھکانے پر کارروائی کرتے ہوئے سات دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے ساتھ ان کے ٹھکانے سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کرلیا اس کارروائی کے دوران وطن عزیز کے چار فرزندوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے پرامن پاکستان کے قیام کے لئے مسلح افواج کی قربانیوں میں ایک نئے باب کا اضافہ کیا۔ پاکستانی عوام اپنے ان بہادر سپوتوں پر فخر کرتے ہیں جنہوں نے ہم وطنوں کے آج اور آئندہ نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لئے اپنی قربانی پیش کی۔
یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن کا نا مناسب فیصلہ
ملک کے چند دیگر حصوں کی طرح خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے یہ شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ روز مرہ ضرورت کی اشیاء اور ادویات کے ساتھ ماسک کی قیمتیں غیر معمولی طور پر بڑھا دی گئی ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ گزشتہ روز یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن نے حکومت کے ریلیف پیکج کی موجودگی کے باوجود گھی’ دالوں اور د یگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ غور طلب امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے وعدوں بعض ترجمانوں کی صبح و شام تردیدوں کے باوجود یوٹیلٹی سٹورز پر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافہ کیسے اور کس کے حکم پر کیا گیا؟ یہ ادارہ ہمیشہ سے حکومت کے ریلیف پیکج پر ہی شہریوں کو سستے داموں اشیائے ضرورت فراہم کرتا ہے مگر اب ایسا لگتا ہے کہ اس ادارے کا انتظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جو یوٹیلٹی سٹورز کو نجی شعبوں کے سپر سٹورز کی طرز پر چلانے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہیں۔ یہ معاملہ محض قابل افسوس نہیں بلکہ فوری اقدامات کا متقاضی ہے۔ وفاقی حکومت کسی تاخیر کے بغیر قیمتوں میں اضافے کے لئے بدھ کے روز یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کی طرف سے جاری کئے جانے والے قیمتوں میں اضافے کے نوٹس کو واپس کروائے بلکہ چاروں صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کھلی مارکیٹ میں منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے حوالے سے پچھلے چند دنوں کے دوران سامنے آنے والی شکایات کے ازالے کے لئے بھی موثر اقدامات کرے تاکہ شہری کسی نئے مسئلہ سے دوچار نہ ہونے پائیں۔
مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کی آباد کاری کا نیا منصوبہ
بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے آئینی دفعہ 370 کی منسوخی اور مقبوضہ کشمیر میں جاری لاک ڈائون کے بعد بھارت کی مرکزی حکومت نے اپنے زیر قبضہ وادی اور جموں میں ہندو مہاجرین کو شہریت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے آئندہ بجٹ میں اس مذموم مقصد کے لئے 679 کروڑ روپے رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان مودی سرکار اور آر ایس ایس کی اس ہندو توا کے عزائم کا حصہ ہے جس میں ماضی میں آئین کی دفعہ 370 رکاوٹ تھی۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان آبادی کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے بھارتی عزائم دیرینہ ہیں۔ آر ایس ایس اور دوسری انتہا پسند تنظیمیں ہمیشہ سے مقبوضہ کشمیر میں ہندوئوں کی آباد کاری کو ہی مسئلہ کے بہترین حل کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں۔ مجموعی آبادی کا تقریباً نصف حصہ خط غربت سے نیچے رکھنے والے بھارت کی حکومت اپنے کمزور طبقات پر توجہ دینے کی بجائے اسلحہ کے انبار لگاتے چلے جانے کے ساتھ اب کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کے منصوبہ پر 6ارب 79کروڑ روپے صرف کرے گی۔ اقوام متحدہ اور دوسری عالمی طاقتوں کو کسی تاخیر کے بغیر نہ صرف کشمیریوں کی نسل کشی کے سلسلے کو بند کروانا چاہئے بلکہ بھارت کے اس حالیہ اعلان کا بھی نوٹس لینا چاہئے جو سلامتی کونسل کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے موجود قرار دادوں سے متصادم ہے۔