وباکی صورتحال میں ڈاکٹرز کی رائے علما کی رائے پر مقدم ہے،علما کانفرنس اعلامیہ

پشاور : کرونا وبا سے متعلق عوامی آگاہی کے بارے میں علما کانفرنس، کانفرنس میں جید علام کی شرکت علما نے اسلام اور قرآن کی روشنی میں وبا کے پھیلاو کے سدباب پر اسلامی تعلیمات بیان کی. جب کوئی وبا آجایے تو اسلام نے اس کا مقابلہ کرنے کو کہا ہے، آج کے جمعہ کے خطبہ میں چار سو علما نے مساجد کے زریعے عوام کو آگاہ کیا.

جامعہ دارلعلوم حقانیہ کے مہتممین نے ویڈیو پیغامات کے زریعے عوامی آگاہی پھیلائی، احتیاطی تدابیر کا نچوڑ نکال کر اس کے پیغامات بناکے آیمہ اور خطبا حضرات کو پہنچا دی گئی ہیں.وباکی صورتحال میں ڈاکٹرز کی رائے علما کی رائے پر مقدم ہے.عوامی آگاہی پر آج جمعہ کے خطبے میں بیایات کے زریعے عوام کو آگاہ کردیا گیا ہے. کرونا ایک وبا ہے جس سے انسانی جان کو خطرہ ہے.

ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت بچانے کے مترادف ہے، دستیاب اسباب کو مدنظر رکھتے ہویے احتیاطی تدابیر کو اپنانا ہے.اللہ کی طرف سے امتحان ہے اور اللہ سے ہی رجوع کرنا ہے،میڈیکل سائنس کے تمام جدید وسائل کو بروئے کار لایا جائے.خطبا اور آیمہ حضرات آن لائن خطبے دیں.

تمام علما مصیبت کی اس گھڑی میں عوام کیساتھ ہیں ،احتیاطی تدابیر اپنانے پر تمام علما متفق ہیں.وبا کا کوئی دین کوئی مسلک نہیں ہے، لہذہ سب اس کیخلاف ایک ہوجائیں.اسلامی تعلیمات میں اپنے آپ کیساتھ دوسروں کو بچانا بھی لازم ہے
پشاور : دوسروں کو بچانے کیلئے اپنے آپ کو دوسروں سے دور رکھیں. خطبے مختصر اور احتیاطی تدابیر کی تاکید پر مبنی ہو.
علما کا مزید کہنا تھا کہ قوم اس مشکل کی گھڑی میں احتیاط سے کام لے،اسلامی تاریخ میں وبا کی کئی مثالیں موجود ہیں، اس وبا سے بھی اسی طرح نمٹا جاسکتا ہے.مزدور اور غریب عوام کو زکوات اور صدقات دیں.ایسے حالات میں زخیرہ اندوزی کرنا اسلامی تعلیمات کیخلاف ہیں.سلام کرنا ہاتھ ملانے سے کہیں بہتر ہے.وبا میں جان بحق ہونے والے افراد شہید کا رتبہ رکھتے ہیں.

میڈیا کو فعال کردار کرنا ہوگا، علما لاوڈ سپیکر اور مساجد کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی آگاہی پیغامات جاری کریں.
عوام دوسروں کو بچانے کی خاطر بے جا سفر اور ہجوم سے گریز کریں، کرونا کیخلاف اللہ کی بارگاہ میں کھڑا ہونا ہوگا
شریعت جدید سائنس، توکل اور میڈیکل کے خلاف قطعی نہیں ،ہردور کے موجودہ اسباب کو استعمال میں لانا تعلیمات کا حصہ ہے علما کے بیانات.