قیادت کا بحران

عمران خان مضبوط اعصاب کے مالک، بڑے کرکٹر، کامیاب کپتان اور لیڈرشپ کی صلاحیت سے مالامال ہیں، مگر پہلے ذرا تاریخ کا آئینہ دیکھ لیتے ہیں۔ 1947کے بعد کا پاکستان دیکھیں تو بڑے بڑے سیاسی قد کاٹھ کے لوگوں کے نام ملتے تو ہیں، مگر وہ جو مشکل گھڑی میں ملک کو قیادت فراہم کر سکے ایسے نام خال خال ہی ملیں گے۔ لیاقت علی خان، قائداعظم کی رحلت کے بعد کچھ عرصہ قیادت فراہم کرنے میں کامیاب رہے مگر ملک کو دو سال کی مقررہ مدت میں آئین دیکر ڈومینین سے مکمل طور پر آزاد جمہوریہ یا مکمل خودمختار ریاست نہیں بنا سکے۔حسین شہید سہرور دی بڑے رہنما تھے مگر اپنوں کی ریشہ دوانیاں، نوکر شاہی کی سازشیں اور شیخ مجیب کا دبدبہ انہیں لے ڈوبا، شیخ مجیب بطور پاکستانی سیاستدان اعلیٰ پائے کے لیڈر مانے جاتے تھے، مگر سیاستدان کیسے تھے، اس پر بہت سے لوگوں کو اس وقت بھی تحفظات تھے، انہوں نے چھ نکات پر لچک دکھا کر متحدہ پاکستان کا وزیراعظم بننے کے بجائے بنگلہ دیش کا بانی بننا، غدار کا لیبل لگنا اور پھر اپنوں کے ہی ہاتھوں قتل ہوجانا پسند کیا۔ ایوب خان نے دس سالہ حکومت کی، ملک میں صنعتی ڈھانچہ کی بنیاد رکھی، ملکہ برطانیہ سے لے کر امریکی صدر کینیڈی اور ان کی اہلیہ جیکولین تک کے دوست ٹھہرے مگر ان کی تمام کامیابیاں ان کے جاتے ہی ہوا میں تحلیل ہوگئیں!ایسے وقت میں جب پاکستان اپنے مشرقی بازو کے کٹ جانے کے سانحہ سے دوچار ہوچکا تھا، ذوالفقار علی بھٹو نے کرچی کرچی جوڑ کر قوم کو اکٹھا کیا اور پھر اپنی قیادت کے زور پر زخم خوردہ پاکستان کو عالمی برادری کی پہلی صف میں لا کھڑا کیا۔ تھرڈ ورلد بلاک تو بنایا ہی مگر عرب ملکوں سے اپنی قیادت تسلیم کرائی، ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی بیٹی بینظیر ہوں یا داماد آصف علی زرداری اور یا ہوں نواز شریف، ان سب نے مشکل وقت میں قیادت تو فراہم کی مگر اس سطح کی نہیں جو ذوالفقار علی بھٹو کا خاصہ تھی۔عمران خان کو بھی تاریخ نے زبردست موقع دیا، دباؤ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت تو ان میں کسی شک وشبہ سے بالا تھی، مگر 2018 کے الیکش کا ڈول ڈالا تو ہر شعبہ میں ماہرین کی جو ٹیم ان کے پاس تھی اس کا عشر عشیر بھی کسی اور کو دستیاب نہیں تھا، پاکستان کو مالی مشکلات سے دوچار کرنے والوں سے لے کر عالمی شہرت کے حامل بہترین معاشی ماہرین، دفاعی اور سیاسی تجزیہ کار، تبدیلی کے خواہشمند حوصلہ مند نوجوان، پی ایچ ڈی اسکالرز، مولانا طارق جمیل سے مفتیان عظام پاکستان تک، کون تھا جو ان کیساتھ نہیں تھا اور تو اور اسٹیبلشمنٹ پر بھی ان کی حمیات کا الزام لگا اور پھر جب عمران خان اقتدار میں آئے تو پاک فوج نے اپنی ذمہ داری محسوس کی، معیشت سے لے کر سفارتی تنہائی سے نکالنے میں حکومت کو ہر ممکن مدد دی، امریکہ سے تعلقات ٹھیک کرائے، افغان طالبان اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات شروع اور کامیاب کرائے، سعودی عرب سے کریڈٹ پر تیل کی سہولت لے کر دی، ایران سے تعلقات کو بہتر بنائے، مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اُٹھانے میں مدد دی اور ساتھ ساتھ معیشت کی بہتری کیلئے بھی پاک فوج اور اس کے سپہ سالار نے بقول شاعر
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اُتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
والا کردار ادا کیا۔ میڈیا خاص طور پر ممتاز اینکر حضرات عوام کی ڈھارس بندھاتے رہے، مگر عمران خان کسی بحران میں وہ ناکر سکے جس کی توقع تھی۔ معاشی معاملات میں وہ ''میں ہوں ناں'' کہتے آگے بڑھے، کچھ کامیابی بھی سمیٹی، مگر پھر وہ عالمی سیاست کیساتھ ساتھ مقامی سیاسی بساط کو سمجھنے میں ناکام رہے، احتساب کا نعرہ بلند کیا تو ایسا کہ نیب اور دیگر اداروں کو ہی متنازعہ بنا دیا مگر اُمید جو ان سے تھی وہ پھر بھی بندھی رہی۔اب ایک اور بڑا امتحان سر پہ ہے، دو ماہ ہونے کو آئے، کرونا وائرس نے دنیا میں تباہی مچا رکھی ہے، ہر حکومت اپنے لوگوں کو قیادت فراہم کر رہی ہے مگر عمران خان کو قوم سے خطاب یاد بھی آیا تو اس وقت جب 50روز گزر چکے تھے اور کرونا چین، بھارت، امریکہ فرانس، اسپین، برطانیہ، اٹلی اور ایران سے ہوتا ہوا پاکستان میں پنجے گاڑ چکا، لیکن وزیراعظم اور ان کی ٹیم وہ نا کرسکی کہ جس کی توقع تھی، وزیراعلیٰ سندھ اور بلاول بھٹو نے چین سے بحران کا آغاز ہوتے ہی تیاری شروع کر کے وفاقی حکومت کو ''ویک اپ'' کال دی مگر خواب خرگوش زیادہ موثر رہے، سوتی ہوئی وفاقی حکومت ذرا دیر سے جاگی، ابھی تک وفاق کی حکومت میں شامل بزرجمہروں کی توجہ کارکردگی کے بجائے مخالفین کو کچلنے، گندہ کرنے اور انہیں ناکام ثابت کرنے پر ہی مرکوز ہے۔رہے مخالفین تو ان کا حال بھی کچھ مختلف نہیں، سوائے بلاول بھٹو کی پیپلز پارٹی اور اس کی سندھ حکومت کے کوئی میدان میں نہیں، ن لیگ ذاتیات کی سیاست اور الزام تراشی میں اُلجھی ہے، تو اے این پی بھی غائب ہے، مولانا بھی چپ ہیں، محمود خان اچکزئی غائب ہیں تو اختر مینگل بھی کہیں نظر نہیں آرہے، پارلیمنٹ چھٹی پر چلی گئی ہے اور راوی ملک میں بے چینی ہی بے چینی لکھنے پر مجبور ہے۔