پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ

آج کل کرونا وائرس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، اخبارات کرونا کی خبروں سے بھرے ہوئے ہیں یوٹیوب پر نت نئی ویڈیوز کرونا کیخلاف مناسب تدابیر اختیار کرنے کے حوالے سے چل رہی ہوتی ہیں، دنیا بھر میں اس سے جو ہلاکتیں ہوئی ہیں ٹی وی چینلز پر ان کے اعداد وشمار چل رہے ہوتے ہیں، یوں کہئے ہم سب کو کرونا ہوگیا ہے! ماہرین نفسیات کا یہ کہنا ہے کہ مریض کیساتھ اس کی بیماری کے حوالے سے زیادہ باتیں نہ کی جائیں تو بہتر ہے تاکہ اس کے ذہن کو کچھ اور سوچنے کا بھی موقع ملے اور وہ تھوڑی دیر کیلئے ہی سہی اپنی بیماری کے چنگل سے آزاد ہو جائے۔ ہم بھی تھوڑی دیر کیلئے کرونا کو اپنے حال پر چھوڑ کر کچھ اور باتیں کرتے ہیں، ادھر ادھر کی باتیں آپس کی باتیں! آج کل سب چھوٹے بڑے چھٹیاں منارہے ہیں، طلبہ کیلئے راوی چین ہی چین لکھتا ہے میٹر ک کا امتحان ابھی شروع ہی ہوا تھا نویں جماعت کا ایک پرچہ ہوا اور پھر امتحان کی گاڑی رک گئی، ہم نے بہت سے طالب علموں سے بات چیت کی مختلف قسم کا ردعمل دیکھنے میں آیا کچھ کا کہنا تھا کہ ہم نے امتحانات کیلئے بھرپور تیار ی کی تھی لیکن سمجھ نہیں آرہی کہ اب کیا کریں، ایک بے یقینی کی سی کیفیت ہے، اب پڑھنے کو جی نہیں چاہتا، کچھ طالب علم یہ کہہ رہے تھے کہ ہم نے تو امتحان کی تیاری ہی نہیں کی تھی اب قدرت کی طرف سے ایک موقع ملا ہے، اب بھرپور تیاری کریں گے ویسے ہمارا ذاتی خیال تو یہی ہے کہ جنہوں نے پہلے تیاری نہیں کی امتحان کی اہمیت کا ادراک نہیں کیا انہوں نے اب کیا تیاری کرنی ہے؟ اللہ کرے ہمارا خیال غلط ہو یہ طالب علم ٹھیک ہی کہہ رہے ہوں، ویسے بھی کہتے ہیں اگر صبح کا بھولا شام کو گھر آجائے تو اسے بھولا نہیں کہتے! وہ خواتین جو ملازمت کرتی ہیں اب گھروں میں قید ہو کر رہ گئی ہیں، ان کیلئے گھروں میں پابند ہو کر بیٹھ جانا مشکل ہوتا ہے اس لئے یہ اپنے لئے گھر سے باہر نکلنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ نکالتی ہیں۔ یہ بہانہ ضروری شاپنگ کا بھی ہوتا ہے اور کسی رشتہ دار مریض کی عیادت کا بھی ہوسکتا ہے اور کچھ اور بھی! ویسے ان کی خدمت میں عرض ہے کہ چھٹیوں کا مقصد ہی یہ ہے کہ گھر بیٹھا جائے، جس طرح سکول کالج میں دوسرے لوگوں سے میل ملاپ ہوتا رہتا ہے اسی طرح بازاروں میں شاپنگ کے دوران بھی یہی کچھ ہوتا ہے بلکہ بازاروں میں کچھ زیادہ ہی بھیڑ ہوتی ہے۔ اب ٹی وی پر بچوں کیلئے ہلکا پھلکا درس وتدریس کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اگر خواتین بچوں کو اس طرف مائل کریں تو کچھ دیر کیلئے ہی سہی بچوں کا وقت قیمتی ہو سکتا ہے۔ طالب علموں کیلئے ایک مشورہ یہ بھی ہے کہ وہ روزانہ دو تین گھنٹے مطالعے کیلئے ضرور نکالیں اس دوران وہ آنے والے امتحانات کی ہلکی پھلکی تیاری کرتے رہیں جب امتحان کی تاریخ معلوم نہ ہو تو تیاری کرتے وقت ذہن پر کوئی دباؤ نہیں ہوتا باقی کا وقت دوسرے کاموں میں صرف کیا جاسکتا ہے۔ لڑکیاں ان چھٹیوں سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے گھر کے کام کاج میں اپنی ماؤں کا ہاتھ بٹا سکتی ہیں، کھانا پکانا یقینا ایک دلچسپ کام ہے انہیں اس میں دلچسپی لینی چاہئے اور اسی بہانے کھانے پکانے کی تراکیب سیکھی جاسکتی ہیں۔
آج کل بازار میں دس روپے کی روٹی بک رہی ہے جس کا وزن نہ ہونے کے برابر ہے، بہت سی خواتین اب گھروں میں ہی روٹیاں پکارہی ہیں، آٹا گوندھنا ورزش کی ورزش بھی ہے اور کام کا کام بھی! ہماری بیٹی نے تو ان چھٹیوں میں اپنی ماں سے پراٹھے پکانا سیکھ لیا ہے، کوکنگ کے حوالے سے اکثر ایک بات کی جاتی ہے کہ کھانے پکانے کی ترکیب اور طریقہ اپنی جگہ لیکن سب کے اپنے اپنے ہاتھ کی لذت ہوتی ہے، کھانا لذیذ ہو تو کھانے والے اُنگلیاں چاٹتے رہ جاتے ہیں اور پھر یہ وہ کام ہیں جو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر لڑکیوں کو کرنے پڑتے ہیں! کل ہم ایک مریض کی عیادت کیلئے ان کے گھر تشریف لے گئے تو وہاں دو چھوٹے چھوٹے بچے ماسک پہنے اپنے سامنے کتابیں پھیلائے کاپیوں پر کچھ لکھ رہے تھے، ہمیں دیکھتے ہی وہ لکھنا پڑھنا چھوڑ کر ہمارے پاس آبیٹھے ہم نے ایک بچے سے اس کے پسندیدہ مضمون کے حوالے سے پوچھا تو اس نے کہا ریاضی میرا پسندیدہ مضمون ہے، انگریزی اسے پسند نہیں تھی! جب ہم نے اسے انگریزی کی اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ بیٹا ہمارے یہاں یہ دفتری زبان ہے، میڈیکل، انجنیئرنگ، پولیٹیکل سائنس، فلاسفی، سوشیالوجی، باٹنی اور دوسرے بہت سے مضامین کی زبان ہے اور پھر ہمارے یہاں (C.S.S) جسے مقابلے کا امتحان کہتے ہیں انگریزی میں اعلیٰ درجے کی مہارت حاصل کئے بغیر پاس کرنا ناممکن ہے! ہماری اس ننھے طالب علم سے تھوڑی دیر کی ملاقات اس کیلئے اس لئے بھی فائدہ مند ثابت ہوئی کہ اس نے ہمارے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ انگریزی کے مضمون میں اب دلچسپی لے گا۔ ہم نے اسے اُردو انگریزی میں لکھی ہوئی چھوٹی چھوٹی کہانیاں پڑھنے کا مشورہ بھی دیا! کہتے ہیں ضرورت ایجاد کی ماں ہے، اگر بچوں بوڑھوں اور خواتین کو گھر بیٹھنا پڑ گیا ہے تو گھر بیٹھنے کے اس وقت کو مفید اور منافع بخش بھی بنایا جاسکتا ہے۔ یقینا یہ چند ہفتوں کی بات ہے ہمیں اللہ کریم سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہئے، وہ اپنے بندوں پر ہمیشہ مہربانیاں کرتا رہتا ہے، اس کے فضل وکرم کی کوئی انتہا نہیں ہے بس اس کے سامنے سرجھکاتے رہنا چاہئے، بقول اقبال:
پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ!