آرمی چیف کے احکامات

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کوئی بھی خطرہ ایک ذمہ دار اور پرعزم قوم کو شکست نہیں دے سکتا اور یہ چین نے کرکے دکھا دیا ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کو سول انتظامیہ کی امداد تیز کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کورونا وائرس سے قوم کی حفاظت کے عمل کو مقدس فریضہ کے طور پر انجام دیں گے۔ پاک فوج قومی کوشش کا حصہ ہوتے ہوئے اس ذمہ داری کو ادا کرے گی۔ جنرل باجوہ نے یہ احکامات وزیراعظم عمران خان سے ملاقات اور وبائی صورتحال پر گفت وشنید کے بعد جاری کئے۔ انہوں نے کہا کہ انفرادی نظم وضبط اور باہمی تعاون تمام اداروں کی کوششوں کو یکجا کرے گا اس میں ہی قوم کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انفرادی حفاظتی اقدام اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ انفرادی طور پر کورونا وائرس سے اپنا بچاؤ کرنا درحقیقت اجتماعی حفاظت کی بنیاد ہے۔ پہلے انفرادی طور پر ایک ذمہ دار شہری بننا ہے تاکہ اجتماعی سطح پر حکومتی اداروں کی کوششیں کامیاب ہوسکیں۔ آرمی چیف نے جن باتوں کی جانب اشارہ کیا ہے وہ اپنے اندر عام لوگوں کیلئے بھی اپنی ذمہ داریوں کی جانب ایک پیغام ہے۔ وہ جو سیانوں نے کہا ہے کہ قطرہ قطرہ بہم شود دریا' یعنی قطرہ قطرہ مل کر دریا کی صورت اختیار کرتا ہے تو کسی بھی امتحان سے عہدہ برآ ہونے اور مشکلات سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششیں تب رنگ لاتی ہیں کہ ہر شخص انفرادی طور پر اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ایک دوسرے سے تعاون کرے یعنی ادارے تب مقاصد کے حصول میں کامیاب ہوسکتے ہیں جب ہم سب مل کر ان اداروں کیساتھ تعاون کریں۔ جہاں تک پاک افواج کے سول اداروں کیساتھ تعاون کا تعلق ہے' پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کسی بھی مصیبت کی گھڑی میں پاکستان کی بہادر افواج ہمیشہ ہر اول دستے کے طور پر سینہ سپر رہی ہے' خواہ وہ سیلاب ہوں' زلزلے ہوں یا دوسری کوئی آفت یا آزمائش کی گھڑی' بہادر اور جری افواج کی کارکردگی ہر ایسے موقع پر نمایاں رہی ہے۔ اب جبکہ ملک وقوم کو ایک اور امتحان کا سامنا ہے تو ایسے موقع پر پاک فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کیلئے تیار رہنے کا حکم یقینا قومی اُمنگوں کے عین مطابق ہے اور اُمید ہے کہ ماضی کی اپنی شاندار روایات کو برقرار رکھتے ہوئے آرمی کے جوان اس وباء پر قابو پانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
غیرذمہ دارانہ طرزعمل
کورونا وائرس سے دنیا کے ڈیڑھ سو سے زائد ممالک میں پھیلنے والی تباہی کے پیش نظر حفاظتی اقدامات اُٹھانے میں عوامی سطح پر جس تعاون کی توقع کی جاتی ہے انتہائی افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی قوم کا طرزعمل عدم تعاون پر مبنی اور انتہائی غیرذمہ دارانہ ہے۔ اس کے نظارے گزشتہ کچھ دنوں کے دوران نہ صرف غیرملکوں سے واپسی کا سفر اختیار کرکے وطن واپس آنے والوں میں دیکھے گئے ہیں کہ انہوں نے متعلقہ بارڈرز یا ایئرپورٹس پر چیکنگ اور قرنطینہ کے اقدامات کو غیرضروری سمجھتے ہوئے کسی نہ کسی طور جان چھڑانے میں کامیابی حاصل کی یا پھر جو لوگ احتیاطی تدابیر کے طور پر ضروری طور پر روکے گئے انہوں نے تنگ آکر ان پابندیوں کو توڑا اور یوں وہ دوسرے لوگوں کیلئے بھی خطرہ بن گئے ہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز نہ صرف سکھر قرنطینہ سنٹر سے زائرین نے باہر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کیا بلکہ مردان منگا کے رہائشیوں نے لاک ڈاؤن توڑ کر احتجاج کیا۔ یہ صورتحال نہ صرف انتہائی غیرذمہ دارانہ ہے بلکہ قابل تشویش بھی۔ اس لئے کہ قرنطینہ میں رکھے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ خدانخواستہ ہر شخص میں کورونا وائرس کی علامات پائی جاتی ہیں تاہم اگر ان میں سے ایک دو افراد بھی کورونا کیریئر ثابت ہوئے تو نہ صرف ان کی اپنی جان کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں بلکہ وہ آگے اس وباء کو پھیلانے کا باعث بھی بن سکتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو ان کیخلاف سخت اقدامات اُٹھانے کی ضرورت سے یقینا کسی کو بھی اختلاف نہیں ہوسکتا کیونکہ اس سے پہلے کہ یہ پوری قوم کیلئے کسی مصیبت کا باعث بنیں ان کو زبردستی قرنطینہ سے گزار کر عام لوگوں کیساتھ میل جول کی اجازت دی جانی چاہئے۔ ان کے لواحقین سے بھی یہی گزارش کی جاسکتی ہے کہ ایسے افراد سے دور رہیں اور ان کو علاج معالجے کے عمل سے گزارنے کے بعد ہی ان سے روابط رکھیں تاکہ دوسرے لوگ بھی محفوظ رہ سکیں۔
گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالنے کا مطالبہ
چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمن ملک نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے صدر کو لکھے گئے ایک خط میں پاکستان کا نام گرے لسٹ سے خارج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے گرے لسٹ میں ہونے کی وجہ سے پہلے ہی پاکستان کی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے جبکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے پاکستان کی معیشت کو لاحق خطرات کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں کورونا وائرس کسی بھی ریاست کے کنٹرول سے باہر ہوسکتی ہے۔ ان خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایف اے ٹی ایف پاکستان کا نام گرے لسٹ سے فوری طور پر خارج کردے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) پہلے ہی کورونا وائرس کو وبائی مرض قرار دے چکی ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کیلئے گرے لسٹ میں ہوتے ہوئے کورونا وائرس کیخلاف جنگ کرنا مشکل امر ہوگا۔ اس لئے سینیٹر رحمن ملک کے اس مطالبے پر ایف اے ٹی ایف کے صدر کو ہمدردانہ غور کرنا چاہئے تاکہ پاکستان کی معیشت کو جو مشکلات درپیش ہیں ان سے پاکستان کو چھٹکارا ملے اور وہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے چینلجز سے آسانی سے نمٹ سکے۔ یہ کسی ملک کا انفرادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کا اجتماعی مسئلہ ہے اس لئے دنیا کو اجتماعی طور پر اس سے عہدہ برآ ہونا پڑے گا' مگر اقتصادی طور پر مشکلات کا شکار کوئی ملک دباؤ میں رہتے ہوئے وباء کا مقابلہ کرنے کی تاب کیسے لا سکتاہے؟