کرونا میں کیا کرناہے ؟

حرف سے دوستی کا تعلق تو تین دہائیوں پر محیط ہے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ دیرینہ تعلق بھی معطل ہوجاتے ہیں ۔ کالم نگاری کا چسکا بھی چھٹتی نہیںہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی کے مصداق عجیب ہے ۔کچھ منصبی ذمہ داریاں اور مکان کی تعمیر نے کالم اور دیگر تحریروں سے دوررکھا ۔ کروناکے بحران نے تحریک دی کہ واپس اپنے قارئین کی طرف جایا جائے ۔ مکان کی تعمیر پر کالموں کی ایک کتاب بھی لکھی جاسکتی ہے ۔فی الحال تو کرونا پر ہی لکھوں گا کہ یہی ایک موضوع ہے جو پوری دنیا میں پھیلاہوا ہے ۔گھروں میںآئیسولیٹ ہونے سے لے کر دنیا جہان کی خبروں تک عجیب عجیب تماشے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ انتہائی مصروف زندگی میں اچانک تعطل آنے کی وجہ سے کچھ عجیب سی ذہنی کیفیت کاسامناہے۔ گھرکو قرنطینہ بنانے کے بعد یہی ذریعہ بچتا ہے کہ بندہ کتاب پڑھ لے یا سوشل میڈیا کی کھڑکی میں جھانک لے ۔ ٹی وی تو عرصہ ہوا دیکھنا چھوڑ رکھا ہے اس لیے ٹی وی سے پھر دوستی کرنے کی تب و تاب نہیں ہے ۔ سوشل میڈیا پر چین میںجاری کرونابحران کے بارے میں جب جانکاری ہونے لگی ۔ مغربی میڈیا اس وقت چین کو لتاڑنے کے موڈ میں تھا اور عام طور پر یہی سمجھا جارہا تھا کہ بس یہ معاملہ چین تک ہی محدود رہے گا۔ شایدکوئی اس وقت یہ سوچ سکتا ہوکہ چین جیسی صورتحال بہت سے ملکوںمیںپھیل سکتی ہے اورکرونا کسی عفریت کی طرح چہار سو پھیل جائے گا۔چین کے بعد ایران اور اٹلی کرونا کے دیزاسٹر سے بنردآزما ہیں جبکہ دیگر ممالک کی حکومتیں بھی اپنے تئیںاس خطرناک اور لاعلاج وائرس سے اپنے عوام کو بچانے کی کوششوںمیںمصروف ہیں ۔ ہماری وفاقی اورصوبائی حکومتیں اپنی پوری کوشش کررہی ہیں کہ اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جائے ۔ظاہر ہے کہ یہ وائرس بڑی آسانی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیل سکتا ہے۔ سماجی فاصلہ ہی ایک حل ہے کہ جس سے مزید لوگوںکواس وائرس سے بچایا جاسکتا ہے ۔ ہم عادی ہیںہر معاملے میںحکومتوں کوموردالزام ٹھہرادیتے ہیںلیکن اس کرونا بحران نے قوم کو بھی ایکسپوز کیا ہے کہ ہم ایک انتہائی غیرسنجیدہ قوم ہیں ۔ سوشل میڈیا پر صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہم اس ممکنہ ڈیزاسٹرکوبہت ہی لائٹ لے رہے ہیں ۔ کوئی احتیاط کے طور پر منہ پر ماسک لگالے یا ہاتھ ملانے سے انکار کردے تو اسے ایمان کی کمزوری کا طعنہ دیا جاتا ہے ۔حالانکہ اس احتیاط میں بھلا ایمان کہاں سے آگیا ۔اسلام میںتو کھانا کھانے سے پہلے بھی ہاتھ دھونے کی ہدایت ہے۔اسی لیے کہ ہاتھ پر لگے بیکٹیریا کھانے کے ساتھ ہمارے اندر نہ چلے جائیں ۔ صفائی کوکیوں نصف ایمان کہا گیا ہے اسی لیے کہ گندگی انسانی صحت اور ماحول کے لیے مضر ہوتی ہے ۔ یہاں تک کہ جن جن چیزوں کو حرام قراردیا گیا ہے وہ انسانی صحت کے لیے مضر ہیںاسی کو تو احتیاط کہتے ہیں ۔ توکل ایک بہت بڑی قوت کا نام ہے لیکن یہ قطعی توکل نہیںکہ ایک تباہ کن چیز سے خود کو نہ بچایا جائے ۔ اللہ نے انسان کو اس دنیا میں اسی لیے بھیجاکہ وہ دین کو اختیار کرے اور دین کے دائرے میںمحتاط زندگی گزارتے ہوئے اپنی عاقبت سنوارے ۔انسان کی زندگی ، انسان کا جسم خود اللہ کی امانت ہے اور ہر انسان نے مڑکر اسی کے پاس جانا ہے لیکن اپنی زندگی اور اپنے جسم کی حفاظت بھی انسان کا فرض بن جاتے ہیں ۔ بے شک یہ وباء اللہ کا امتحان ہے اور امتحان میں شعور ہی کوبروئے کار لاکر ہی پاس ہوا جاسکتا ہے ۔ ہمارے ہاںخداجانے شعور کہاں گیا ؟ ہم کیوں غیرسنجیدہ رویے کا شکارہیں۔بے شک یہ امتحان کی گھڑی ہے ۔زندگی اور موت کا سوال ہے ۔ خاص طور پر غریب اور دیہاڑی دار لوگون کے لیے تودوہرا امتحان ہے ایک طرف بیماری لگنے کا خطرہ اوردوسری جانب بے روزگاری ۔اور بے روزگاری کا مطلب فاقہ ۔۔اور فاقہ بھی تو موت ہی ہے ۔ میں بڑے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم ایک قومی المیہ سے گزر رہے ہیں مگر ہم بالکل بھی سیریس نہیں ہیں ۔ قومی المیے میں قومیں شانہ بشانہ کھڑی ہوجاتی ہیں ۔ یہ موقع بھی قوم کو ایک ساتھ کھڑے ہوجانے کا ہے ۔ اور اس میں کرنا بھی کیاہے بس اتنا کہ خود اور اپنے گھر والوںکو اپنے گھروں تک ہی محدود کرنا ہے اور اس میںبھلا کیا دشواری ہے ۔ کرلو۔ کچھ دن اپنے بچوں کے ساتھ گزارلو۔ گھر کی کچھ چیزیں ہی ٹھیک کرلو۔کوئی دیوار چونا کرلو،پینٹ کرلو۔کوئی پنکھا کوئی استری ہی ٹھیک کرلو۔اور نہیں تو کوئی کتاب ہی پڑھ لو ۔ قرآن پڑھ لو۔گھرسے بلا ضرورت باہر نہ نکلیں۔ سودا سلف لینا ہو تو قریبی دکاندارسے خریدلیں ۔ بہتر یہی ہے کہ اگر دکاندار کے ساتھ قرض کھاتا نہیںتو اسے کچھ رقم ایڈوانس دے دیں تاکہ کرنسی نوٹوں کا لینا اور دینا کم ہوجائے کیونکہ کرنسی نوٹ بھی اس وباء میںکیریر کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ضروری اشیاء ایک ساتھ گھر لے آئیں تاکہ بار بار بازار نہ جانا پڑے ۔ باقی معاملات حکومت پر چھوڑدو کہ وہ کیسے داخلی راستوں پر پہرہ دیتی ہے اور کیسے وائرس کے شکار مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہے ۔ بے اللہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے ۔رہا سوال کہ ہم اس بحرانی کیفیت میں اپنا سماجی فریضہ کیسے ادا کرسکتے ہیں تو اس میںاتناعرض کرسکتا ہوںکہ بس اپنے اردگرکے ان کم آمدنی کے لوگوں کو تلاش کرلیں ۔ انہیں راشن پہنچادیںیا مالی مدد کردیںکہ وہ بھی قرنطینہ کی سہولت حاصل کرلیں ۔یوں آپ کی سماجی خدمت بھی ہوجائے گی اور کسی کا چولہا بھی جل جائے گا ۔ یہ وقت بے شک مشکل ہے لیکن ہر رات کے بعد سحرضرور پھوٹتی ہے ۔اللہ تمام انسانیت پر رحم و کرم فرمائے آمین۔