طلبہ کیلئے متبادل تدریسی انتظامات کی ضرورت

کورونا کی صورتحال کے باعث سکولوں، کالجوں اور جامعات ومدارس کی بندش کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں، اس سے پیدا شدہ صورتحال میں تعلیم وتعلم اور امتحانات کے متاثر ہونے سے تعلیمی شعبے میں ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کہ طالب علموں کو جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال کر کے متبادل طریقے سے تحصیل علم کا موقع دیا جائے۔ ایسا صرف ان علاقوں اور ان طالب علموں کی حد تک ہی ممکن ہے جنہیں انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہو اور ظاہر ہے ایک محدود طبقے کو ہی یہ سہولت میسر ہے، بہرحال یہ ایک بہتر متبادل ضرور ہے جس پر پشاور کے ایک معروف نجی سکول نے عمل شروع کر دیا ہے جبکہ بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی کی جانب سے بھی ممکنہ حد تک جدید ذرائع کو بروئے کار لاکر طالبات کو ٹاسک دینے اور ان کی رہنمائی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی جانب سے بھی اس حوالے سے اقدامات کا عندیہ دیا گیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اگر صوبائی اور وفاقی سطح پر سرکاری ٹیلی ویژن پر باقاعدہ پروگرام شروع کرے اور نجی ٹیلی ویژن چینلز کے مالکان سے بھی فی چینل ایک گھنٹے کی کلاس لیکچر نشر کرنے کیلئے بات چیت کرے تو مختلف چینلز پر مختلف جماعتوں کی ملک گیر کلاسوں کا انعقاد ممکن ہوگا۔ ریڈیو پاکستان سے لیکچرز کا اہتمام کیا جا سکتا ہے جبکہ انہی پروگراموں کو یوٹیوب پر اپلوڈ کر کے طلبہ کو سہولت دی جا سکتی ہے، اس ضمن میں حکومت اگر موبائل کمپنیز سے رابطہ کر کے ان کو طالب علموں کیلئے فری ایپ اور نیٹ کی مفت یا رعایتی پیکج کی فراہمی ممکن بنائے تو طلبہ کی تعلیم کا حرج نہ ہوگا۔ حکومت کو ایسی پالیسی مرتب کرنی چاہئے کہ آن لائن، ٹی وی، ریڈیو اور دیگر ذرائع ابلاغ میں تدریس کے عمل کو باقاعدہ کلاس رومز اور کریڈٹ آورز کا متبادل قرار دیکر سکول، کالج اور جامعات کھلنے پر امتحانات کے انعقاد کا طریقہ طے کرے تو طالب علموںکا قیمتی وقت ضائع نہ ہوگا۔ اس وقت طالب علموں کی پڑھائی کو متاثر ہونے سے بچانے کیساتھ ساتھ ان کو گھروں میں رہنے کیلئے ان کو تدریسی وغیرتدریسی صحت مند سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کیلئے اقدامات کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ ذہنی دباؤ کا شکار نہ ہوں اور تعلیمی ماحول سے بھی زیادہ دوری محسوس نہ کریں۔
بے وقت لوڈشیڈنگ وکم وولٹیج کا مسئلہ
فیز6 حیات آباد کے مکینوں کا لوڈشیڈنگ، بجلی کے کم وولٹیج اور بجلی کی آنکھ مچولی کے باعث درپیش مشکل پر احتجاج فطری امر ہے۔ مکینوں کے اس استدلال کا پیسکو حکام کے پاس شاید ہی کوئی جواز ہوگا کہ بجلی بلوں پر دیئے گئے نمبر اور مرکز شکایات کے نمبر مسلسل مصروف رکھے گئے ہیں، موبائل نمبر بھی بند کر دیا گیا ہے۔ حیات آباد سب ڈویژن ٹو یا پھر پیسکو محکمۂ تعلقات عامہ کی جانب سے بجلی بندش اور کم وولٹیج کی وجوہات اور اس کے ٹھیک کرنے اور مسئلہ کے حل کی مدت بارے کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ امر واقع یہ ہے کہ حیات آباد میں بجلی بلوں کی سوفیصد وصولی اور بجلی چوری نہیں ہوتی علاوہ ازیں اس موسم میں بجلی کا استعمال بھی اتنا نہیں کہ سسٹم پر لوڈ پڑے۔ پیسکو مرمت وبحالی کا بھی کوئی کام نہیں کر رہی ہے، ایسے میں بجلی کی طویل بندش اور کم وولٹیج کا کوئی جواز نہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب لوگ کورونا وائرس کے باعث گھروں سے دفتری امور سرانجام دینے پر مجبور ہیں، بچوں کے گھر سے باہر جانے پر پابند ی کے باعث درون خانہ ان کی تفریح کا انتظام ضروری ہوگیا ہے، بجلی کی بندش سے اس سارے عمل کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔ پیسکو چیف کو اپنے محکمے کے اس مجرمانہ غفلت کا فوری نوٹس لینا چاہئے اور بجلی کی بحالی میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ اگر ناگزیر حالات ہوں تو بجلی بند کرنے کی اطلاع اور بجلی کے آنے کے وقت سے صارفین کو آگاہ کیا جائے۔
تمام یوٹیلیٹی بلز کی تاریخ ادائیگی میں توسیع کی جائے
ایک جانب لوگوں کی آمد ورفت اور سرگرمیاں محدود کرنے کی سعی جاری ہے تو دوسری جانب بجلی وگیس کی ادائیگی کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا اقدام سمجھ سے بالاتر امر ہے۔ صرف یہی نہیں پانی کے بلوں کی ادائیگی کے بھی نوٹس بھیجے جا رہے ہیں۔ حیات آباد میں پی ڈی اے پانی کے بلوں کی وصولی پر مصر ہے جن کی آخری تاریخ گزرنے والی ہے، کسی کی گزر چکی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بجلی وگیس، پانی اور دیگر جملہ محصولات وغیرہ قسم کی ادائیگیوں کی مدت جاری صورتحال کے خاتمے اور صورتحال کے معمول پر آنے تک بڑھائی جائے اور تاخیر سے ادائیگی پر جرمانہ کا مروج طریقہ کار معطل کرنے کا سرکاری طور پر اعلان کیا جائے۔