کورونا ہرگز مذاق نہیں ہے

کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں جو غلطی چین سے بوکھلاہٹ میں ہوئی ہم نے وہ غلطی دانستہ طور پر کی ہے، ابتدائی طور پر جب چین کورونا کے مریض سامنے آنا شروع ہوئے تو اس مسئلہ کو سنجیدہ نہیں لیا گیا بلکہ اسے چھپانے کی کوشش کی گئی، چین میں کورونا کا آغاز کچھ اس طرح ہوا کہ گزشتہ سال کے اختتام پر وسطی چین کے صوبے خوبے کے دارالحکومت ووہان میں کئی لوگوں کو گلے میں شدید تکلیف کیساتھ تیز بخار کی شکایت ہوئی۔ مقامی ڈاکٹروں نے اسے نزلہ زکام سمجھ کر نظرانداز کر دیا۔ کچھ طبی ماہرین نے اس زکام کو ایک خاص طریقے کا نمونیا قرار دے کر علاج شروع کیا، لیکن ''مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی'' ایک چینی ماہرِ وبائی امراض ڈاکٹر لی وینلیانگ نے سب سے پہلے اس نزلے کو ایک خوفناک متعدی مرض کا آغاز قراردیا، لیکن اس بات پر کان دھرنے کے بجائے چینی حکومت نے افواہ سازی اور عوام کو خوفزدہ کرنے کے الزام میں34سالہ ڈاکٹر لی کو گرفتار کر لیا۔ دوسری طرف مرض بڑھتا رہا اور ہزاروں افراد ہسپتال پہنچ گئے۔ متاثرین کے لعاب دہن، بلغم اور خون کے تفصیلی تجزئیے پر ان مریضوں کے خون میں ایک مخصوص جرثومے کی علامات پائی گئیں جسےCOVID-19 یا نوویل کورونا وائرس کہتے ہیں۔ لفظ کورونا کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ خوردبینی تجزئیے کے دوران اس جرثومے کے جزئیات تاج (کراؤن) کی شکل میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ڈاکٹر لی کا خدشہ درست ثابت ہونے پر انہیں رہا کر دیا گیا اور شکوہ شکایت کئے بغیر ڈاکٹر لی مریضوں کے علاج میں جت گئے۔ اس جرثومے نے ڈاکٹر لی کو نہ چھوڑا اور7فروری کو اس فرض شناس ڈاکٹرکی موت واقع ہوگئی۔ چین سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی وبا اب دنیا کے 192ملکوں میں پھیل چکی ہے اور تادم تحریر اس سے متاثر مریضوں کی تعداد5لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور21ہزار سے زیادہ افراد اس مرض سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ چین نے بظاہر اس وبا پر قابو پا لیا ہے اور اب ان عارضی ہسپتالوں کو بند کر دیا گیا ہے جہاں اس وائرس کے مریضوں کا علاج ہورہا تھا۔ تاہم عالمی ادارہ صحت نے تاریخی تناظر میں چین سے احتیاطی سرگرمیاں جاری رکھنے کی درخواست کی ہے کہ اس وبا کی تجدید خارج ازامکان نہیں جسے طبی اصطلاح میں relapesکہتے ہیں۔ چین کے بعد اس جرثومے نے ایران کو اپنا ہدف بنایا جہاں صورتحال بدستور بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے۔ 27ہزار افراد اس جرثومے سے متاثر ہیں اور لگ بھگ 2ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ ملک کی نائب صدر اور بہت سے وزراء اور ارکانِ پارلیمان بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔ مشہور عالمِ دین اور ایران فقہا کونسل کے سینئر رہنما آیت اللہ ہاشم بطحائی سمیت12رہنما اس مرض میں جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ13سرکردہ قائدین بسترِ مرگ پر ہیں۔ چین اور ایران کے بعد اب کورونا وائرس کا ہدف اٹلی نظر آرہا ہے جہاں اب تک 7ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں جبکہ 80ہزار کے قریب لوگ کورونا سے متاثر ہو ئے ہیں۔
کورونا وائرس سے بیماری وموت کا خوف تو اپنی جگہ، لاک ڈاؤن اور پابندیوں نے زندگی خاصی مشکل کردی ہے۔ لوگوں نے خوف کے پیش نظر دکانیں خالی کر دی ہیں اور اکثر جگہ غذائی اجناس اور اشیائے ضرورت کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ موقع پرست، دکانوں سے اشیا خرید کر آن لائن اسے بیچ کر بھاری منافع کما رہے ہیں۔ اس خوف وہراس سے دیہاڑی پر کام کرنے والے شدید مشکل میں ہیں جن کا روزگار ختم ہوگیا ہے۔ ٹیکسوں میں رعایت، بیماری میں تنخواہ کیساتھ چھٹی اور سرکار کی طرف سے تمام امدادی مراعات برسرروزگار لوگوں کیلئے ہیں، سرکار نے دیہاڑی دار طبقے کیلئے جس پیکج کا اعلان کیا ہے اس میں دووقت کی روٹی کا انتظام کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ مغربی دنیا میں نسبتاً بہتر طرزحکمرانی اور سماجی خدمات کے مؤثر نظام کی وجہ سے کاروبار کی وقتی تالابندی سے پیدا ہونیوالی پریشانیاں سرکاری وظائف اور مراعات نے عام لوگوں کیلئے کسی حد تک قابل برداشت بنادی ہیں، لیکن پاکستان میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں چنانچہ عام لوگوں کی زندگی بے حد مشکل بن چکی ہے۔ کورونا جس خطرناک حد تک پھیل رہا تھا لاک ڈاؤن کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں تھا اسلئے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ ہم اپنے آس پاس کے مستحق لوگوں کا خیال رکھیں اور مشکل میں ان کا ساتھ دیں۔ کچھ لوگ تاحال کورونا کو ایک مذاق سمجھ رہے ہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے گریزاں ہیں، انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ جس تیزی کیساتھ کورونا دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اس پھیلاؤ کی بڑی اور اہم وجہ متاثرہ لوگوں کا دوسرے علاقوں کا سفر کرنا یا دیگر لوگوں کیساتھ میل ملاپ ہے،اگر متاثرہ شخص نے احتیاط نہ برتی تو اپنی لاپرواہی یا غفلت کی وجہ سے دوسروں کیلئے بھی موت کا سبب بن سکتا ہوں۔ امریکہ میں الرجی وانسدادِ وبائی امراض کے ڈائریکٹر اور کورونا وائرس کیخلاف بنائی گئی صدر ٹرمپ کی ٹاسک فورس کے اہم رکن ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے بہت دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ''لوگوں کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری زندگی اب ویسی نہیں رہے گی جیسی کورونا وائرس سے پہلے تھی''۔ مردان کے گاؤں منگا میں کورونا کے متاثرین کی جو معلومات سامنے آرہی ہیں اور جس بڑے پیمانے پر ایک گاؤں متاثر ہوا ہے اس میں بھی بنیادی طور پر ایک شخص ہی ذمہ دار ہے جس نے بیرون ملک کا سفر کیا اور احتیاط برتنے کی بجائے لوگوں کو دعوتوں پر بلا کر ان کیساتھ میل ملاپ کرتا رہا، نتجیہ یہ نکلا کہ اس کے قریبی رشتہ داروں کیساتھ ساتھ اس سے ملنے والے اکثر لوگ کورونا سے متاثر ہوگئے، حکومت کی ساری توجہ شہروں کو محفوظ بنانے میں ہے جبکہ گاؤں دیہات کی طرف شہروں سے بھی زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔