کورونا صورتحال اور مزید اقدامات

وطن عزیز میں کرونا وائرس کاپھیلائو جاری ہے، پختونخوا میں انیس لاکھ خاندانوں کو تین ماہ کا وظیفہ دینے اورلاک ڈائون میں توسیع کااعلان کردیا گیا۔ پانچ سو ریپڈ رسپانس ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میںگھروں تک پہنچیں گی۔ ہیلتھ سٹاف کی مزید مدد اور ضرورت پڑنے پر تجربہ کار اور سبکدوش افراد کیساتھ دیگر پیشہ ور عملہ روزانہ کی اجرت پررکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے گڈز ٹرانسپورٹ ہنگامی طور پر چلانے کی اجات دیدی جبکہ ہنگامی حالت کیلئے ٹائیگرفورس بنانے کا بھی اعلان کیا۔جہاں حکومت اقدامات پہ اقدامات کئے جارہی ہے اور بیرون ملک سے امدادی سامان بھی ملنا شروع ہوگیا ہے وہاںصورتحال اب تک نہ حکومت کے قابو میں آتی دکھائی دے رہی ہے اور نہ ہی حکومت کے پاس طبی سازوسامان بلکہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کے بنیادی ولازمی تحفظ کا سامان تک دستیاب نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے حسب دستور اس موقع کو بھی حزب اختلاف کو لتاڑنے کا موقع گردان کر اس کی ذمہ داری سابق حکمرانوں پر ڈال دی ہے جو کسی حد تک درست بھی ہے، خود وزیراعظم کے منصب پر آنے اور خیبرپختونخوا میں سات آٹھ سال کی حکمرنی کے دور میں صحت کے شعبے میں کیا انقلابی اقدامات کئے، اس حوالے سے اگر جائزہ لیا جائے توکیا موجودہ اور کیا سابقہ سارے ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہی نکلتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز ہی میں نہیں دنیا بھر میں صحت اور انسانی بقاء کیلئے وسائل صرف کرنے کی اب ضرورت کہیں بڑھ گئی ہے، دنیا میں فرانس کے بعد علاج معالجہ کی سہولتوں کا حامل اٹلی دوسرا ملک ہے لیکن اس وباء پر قابو پانے میں اٹلی کی ناکامی کا خود وزیراعظم نے پرنم آنکھوںکیساتھ اعتراف کیا ہے، بنابریں اس صورتحال بارے میں صحت کی سہولیات کی موجودگی وعدم موجودگی خارج ازبحث ہونے کے باوجود بھی بہرحال طبی سہولیات اور ضرورتوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی سب سے بڑی ضرورت ونٹیلیٹرز ہیں جس کی شدید کمی ہے، میوہسپتال لاہور کے مریض کو اس سہولت کے نہ ہونے پر طبی عملہ نے اس سے جس طرح کا سلوک روا رکھا اور اس کا انتقال ہوگیا وہ لمحہ فکریہ ہے، اسی طرح لنڈیکوتل کے مریض کو رپورٹ آنے سے قبل ہی کلیئر قراردے کر بھجوانا اور کوروناٹیسٹ مثبت آنے پران کے پورے گائوں کو سیل کرنے کی نوبت تفتان بارڈر سے لیکر ملک کے مختلف ایئر پورٹس پر باہر سے آنے والوں کی سکریننگ کے بغیر گھروں کو جانے کی اجازت اور تھرمل گن کے ذریعے درجہ حرارت کے معائنے کو سکریننگ قرار دے کر نو لاکھ افراد کی سکریننگ کا دعویٰ جیسی غلطیوں کی گنجائش نہ تھی مگر ایسا ہو چکا۔ حکومتی اداروں سے اگر اس طرح کی غلطیوں کا ارتکاب نہ ہوتا تو آج شاید صورتحال اس سے کہیں بہتر ہوتی، بہرحال ہم کرونا وائرس کے پھیلائو اور خطرناک صورت اختیار کرنے کے تیسرے درجے کے دور سے گزر رہے ہیں جس میں اب مزید غلطیوںکی گنجائش نہیں۔جس بے سروسامانی کے عالم میں ہمارے ڈاکٹروں نے مریضوں کے علاج معالجے میں بساط بھر کردار ادا کیا ہے بلکہ بساط سے بڑھ کر خدمات انجام دی ہیں اور ایک نوجوان ڈاکٹر نے جان تک قربان کردی، وہ پوری قوم کیلئے حوصلے کا باعث امر ہے۔ ہمارے ڈاکٹر ز اور طبی عملہ صد خراج تحسین کے مستحق ہیں لیکن پولیس کے نوجوان سے ان کو سیلوٹ کرنے اور سفید پرچم لہرا کرپوری قوم کا ان کو خراج تحسین پیش کرنے سے زیادہ ضروری امر یہ ہے کہ ان کو حفاظتی سامان جلد سے جلد فراہم کیا جائے۔ درحقیقت حکومت میںآنے اور حکومتوں کا حصہ رہنے والی جماعتوں کا کوئی ایسا ونگ نہیں جوسخت حالات میں عوام کی خدمت اور مددکیلئے آگے آئیں۔ وقت پڑنے پر الخدمت، کالعدم جماعت الدعوة، ایدھی ٹرسٹ، سیلانی ٹرسٹ، چھیپا اور دیگر غیرسرکاری تنظیمیں ہی میدان عمل میں نظر آتی ہیں۔ زلزلہ زدگان کی امداد سے لیکر متاثرین سیلاب کی مدد تک جو بھی قومی بحران آیا انہی تنظیموں کی کارکردگی قابل رشک رہی ہے، جہاں تک سوشل ویلفیئر کے سرکاری ادارے، این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے جیسے سرکاری اداروں کی کارکردگی کا سوال ہے یہ ادارے فنڈز اور وسائل کے ضیاع اور مستحقین کو سرکاری وبیرون ملک سے ملنے والی امداد کی غیرمنصفانہ تقسیم اور خرد برد ہی کی شہرت رکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے ٹائیگر فورس کی تشکیل کا جو اعلان کیا ہے اولاً یہ نام ہی متنازعہ ہے، دوم یہ کہ پٹواری سے لیکر کمشنر تک کی سرکاری مشینری کے پرزوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے اور سوم یہ کہ اس کی تشکیل وفعالیت کے عمل میں کہیں مستحقین تریاق ازعراق آمدہ شود، مارگزیدہ مردہ شود کے مصداق نہ بن جائیں۔ ہمارے تئیں یہ وقت تجربات کی بجائے خدمات کا ہے، اس موقع پر جذبہ ایثار اور خدمات کیلئے شہرت رکھنے والی تنظیموں سے ہی استفادہ کیا جائے اور ان کے فعال نظام اور خاص کر تجربے سے کام لیا جائے تو عوام کی بہتر خدمت ومدد ہو سکے گی۔این ڈی ایم اے،پی ڈی ایم اے،ضلعی انتظامیہ ڈویژنل انتظامیہ ،ممبران پارلیمان، ٹائیگر فورس جیسے سرکاری چھتری تلے فورس کی احسن کارکردگی یقینی نہ ہونے کی اگرچہ کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن حکومت اس ضمن میں جو بھی اقدامات اُٹھائے اس کے نقاد ہونے کے باوجود اس اقدام کی کامیابی کیلئے ہر سطح پر دست تعاون دراز کرنے کی ضرورت ہے۔ اس نازک موقع پر حکومتی اقدامات کا جائزہ اور مناسب تنقید برائے اصلاح ہونی چاہئے، حکومت کو بھی اس قسم کے معروضات کو محض تنقید سمجھ کر نظر انداز کرنے کی بجائے اصلاح کے پہلوئوں پر توجہ دینی چاہئے تاکہ ایک ایسی قومی فضا بن جائے جس میں یکجہتی ہو۔ ٹائیگر فورس کو سیاسی نقطہ نظر سے پاک اور جذبہ خدمت کا حامل بنانے کیلئے معاشرے کے تمام طبقات اور اس شعبے میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں کو چننے اور ان کومناسب گائیڈ لائن دے کر فیلڈ میںبھیجنے کی ضرورت ہوگی۔ اس امر پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ شہری دفاع کے رضا کاروں کی موجودگی میںاس سے کام لینے کی بجائے مزید کسی فورس کے قیام کی کس قدر ضرورت ہے۔رضاکاروں کی ٹیمیں بنانے کی بجائے اچھی شہرت کے حامل فلاحی تنظیموں کے پہلے سے فیلڈ میںموجود تجربہ کار رضا کاروں اور ان کی ٹیم ورک کے تجربات سے فائدہ اُٹھانے کیلئے مشترکہ مساعی اختیار کرنی چاہئے تاکہ ورک فورس وسعت اختیار کرنے کیساتھ ساتھ اس قابل ہو کہ ضرورت کے وقت احسن طریقے سے خدمات انجام دے سکے۔ یہ تجویز مناسب ہے کہ ڈیم فنڈ کا پیسہ کورونا فنڈ میں تبدیل کیا جائے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوںسے ہر بار توقعات وابستہ کرنا حقیقت پسندانہ امر نہیں، اس وقت وہ خود اس طرح کی صورتحال کا شکار ہیں کہ خود ان کو مدد کی ضرورت ہے۔ملک کے مخیر حضرات اور بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو ایثار وہمدردی کی مثال قائم کرنی چاہئے، وزیراعظم اس کی ابتدا کریں تو زیادہ مناسب ہوگا۔