کچھ کڑوے سچ

اس سے کون انکار کرے گا کہ این ڈی ایم اے کے سربراہ نے وزیراعظم عمران خان کی موجودگی میں دی گئی (چند دن قبل) پریس بریفنگ میںکہا تھا ''ان کا ادارہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے طبی عملے کا حفاظتی سامان منگوا رہا ہے اور یہ 5اپریل تک فراہم کر دیا جائے گا'' یہ بات 20مارچ کے اردگرد کی گئی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم نے 15جنوری سے ہی صورتحال کا ادراک کر لیا تھا تو پھر ضروری سامان کیوں نا منگوایا گیا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ ان سطور میں عرض کیا تھا کہ ''این ڈی ایم اے نامی ادارے کا کوئی مؤثر کردار نہیں رہا'' یہ بابو لوگوں کا بڑی تنخواہوں والا ادارہ ہے۔ 15جنوری کو حالات کا ادراک ہو چکا تھا تو سب سے پہلے اس کی تنظیم نو ہونی چاہئے تھی، ہنگامی حالات اور خصوصاً موجودہ صورتحال میں کردار ادا کرسکنے والی کسی شخصیت کو اس کا سربراہ مقرر کیا جاتا، جنرل افضل اچھے افسر اور سولجر ہوں گے مگر جب وہ گفتگو کر رہے ہوتے ہیں تو زبان دل کی رفیق نہیں ہوتی، چہرے کے تاثرات کچھ اور گفتگو کچھ اور ہوتی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر ظفر مرزا عین ممکن ہے کہ طب کے شعبہ میں اعلیٰ کارکردگی رکھتے ہوں مگر موجودہ حالات میں ان کی انتظامی صلاحیتوں کو دیکھ سُن کر ہر شخص سر پکڑے بیٹھا ہے، ابھی کل (جمعرات کی شام) انہوں نے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بتاتے ہوئے حقائق کے برعکس یہ فرما دیا کہ وہ 2500زائرین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے، دو گھنٹے بعد ان کا وضاحتی بیان آیا کہ 2500 کے ٹیسٹ ہوئے اور 520متاثر نکلے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ انہوں نے حقائق کے برعکس بات کی ہو، قبل ازیں وہ تفتان بارڈر پر قائم خیمہ بستی کو قرنطینہ مرکز کے طور پر پیش کر کے جو دعوے کرتے رہے وہ سوفیصد غلط نکلے، ان کی مبہم باتوں اور دعوؤں سے ملک کے اندر گمبھیر مسائل پیدا ہوئے۔ مثال کے طور پر گزشتہ شام انہوں نے جو اعداد وشمار بتائے انہیں لیکر سوشل میڈیا پر طوفان کھڑا کر دیا گیا۔ کیا وہ اس معاشرے کے ایک فرد کی حیثیت سے سماج کی ذہنی بلوغت اور اس میں موجود زہریلے تعصبات سے واقف نہیں تھے؟ حکومتی ریکارڈ کے مطابق ہفتے تک ملک میں اب تک کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 1398ہوگئی ہے، ان میں 497کا تعلق پنجاب سے ہے، 440کا سندھ سے، خیبر پختونخوا کے180، گلگت بلتستان کے107، اسلام آباد میں 39 اور آزاد کشمیر میں دو مریض ہیں۔ نماز باجماعت اور جمعہ نماز کی ادائیگی کے حوالے سے علماء تقسیم ہیں، جامعہ ازہر، نجف اشرف، ریاض یونیورسٹی، قم المقدس جیسے اہم مذہبی مراکز کے علاوہ مراکش، اُردن، فلسطین، القدس کے مفتی اعظم اور بعض مسلم ریاستوں کی حکومتیں مشاورت کے بعد نماز باجماعت، جمعہ اور دیگر عباداتی تقریبات کو موجودہ حالات میں معطل کر چکی ہیں۔ صدر مملکت نے جامعہ ازہر سے فتویٰ منگوا لیا تو پھر کیا مجبوری تھی کہ ریاست اور حکومت نے حالات کے مطابق اپنی اتھارٹی منوانے کی بجائے مذہبی رہنماؤں کی منتیں اور ترلے کئے؟ اسلام کو دین فطرت کے طور پر پیش کرنے والے مختلف الخیال مذہبی رہنماؤں میں سے چند نے فطرت سے متصادم راستہ کیوں اپنایا، کیا حکومت اتنی ہی بے بس ہے۔ مفتی منیب اور ان کے ہم خیالوں کو سوچنا چاہئے وہ چاند کے مسئلے پر تو فرماتے ہیں کہ ریاست کی پیروی واجب ہے اور اب وباء کے موسم میں اپنی رائے منوانے پر بضد ہیں یا انہیں معلوم نہیں کہ کویت، سعودی عرب، ایران اور دیگر ممالک میں حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے عبادات ونماز پر جو پابندیاں ہیں ان میں بھی یہ کہا گیا ہے کہ مساجد کا عملہ نماز باجماعت ادا کر لے، باقی ماندہ نمازی گھروں میں نماز ادا کریں۔ عوام کو موجودہ حالات میں ریلیف دینے کے اعلانات کے حوالے سے یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے معمولات زندگی درہم برہم ہوئے، اب لاک ڈاؤن چل رہا ہے، حکومت یوٹیلٹی بلوں میں تین ماہ کیلئے 50فیصد رعایت دے اور بقیہ رقم اعلان کے مطابق اقساط میں وصول کرے۔ دیہاڑی دار طبقے کے افراد کو 15000 روپے ماہوار امداد دے، 3ہزار کی امدادی رقم کچھ بھی نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ملک کی مصروف سیاسی جماعتیں اے این پی، مسلم لیگ( ن)، ق لیگ، پیپلپز پارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم اپنی جماعتوں میں مرکزی اور مقامی سطح پر ریلیف کمیٹیاں قائم کریں، ان تمام جماعتوں میں انگنت کروڑ پتی، ارب پتی وکھرب پتی افراد ہیں وہ آگے بڑھ کر ہم وطنوں کی مشکل وقت میں مدد کریں۔ ان جماعتوں کو کسی تاخیر کے بغیر بہبود فنڈز قائم کرنے اور ریلیف کمیٹیوں کو نچلی سطح پر منظم کر کے عملی اقدامات کرنا ہوںگے۔ حکومتوں کو جو کرنا ہوگا وہ کریں گی لیکن اس وقت ہر صاحب حیثیت کو اپنے حصے کا کردار ادا کرنے میں پہل کرنا ہوگی۔ مغرب سے سماجی بہبود اور حقوق نسواں، جمہوریت کا فروغ وغیرہ کیلئے فنڈز لینے والی این جی اوز بھی دو قدم آگے بڑھیں، مکرر عرض کرتا ہوں سیاسی جماعتوں کو وارڈ (محلہ) کی سطح پر ریلیف کمیٹیاں بنا کر کام کرنا ہوگا تب ہی ہم اس مشکل دور سے نکل پائیں گے۔ اس وقت طبی ضرورتوں کے سامان کی بھی اہمیت ہے، یہ سامان سو فیصد ضرورت کے مطابق حکومت منگوائے اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے حکومت کیساتھ سیاسی جماعتیں، این جی اوز اور دوسرے مخیر حضرات بھی اپنا کردار ادا کریں تاکہ حق زندگی ادا ہوسکے۔ ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا مشکل ترین حالات گزر ہی جاتے ہیں مگر ان حالات میں بے نوا طبقات کا سہارا بننے والے ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ آئیے آگے بڑھئے اور معاشرے کے کچلے ہوئے طبقات کے سروں پر دست شفقت رکھئے۔