یوٹرن ناگزیر ہے

بھلا وہ کون لوگ ہیں جو وزیراعظم عمران خان کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کی مخالفت کرنے پر اُکسا رہے ہیں؟ میرے خیال میں اور میرے پاس یہ رائے قائم کرنے کیلئے خاصے مضبوط دلائل موجود ہیں، یہ ہمارے ملک کے صنعتکار ہیں جو حکام بالا کو ایسے فیصلے لینے پر قائل کر رہے ہیں۔ پر اب جب سے فوج کی طرف سے بھی لاک ڈاؤن کی حمایت دیکھنے کو مل رہی ہے تو یہی صنعتکار اپنے کہے سے پیچھے ہٹتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں تو اشرافیہ کے اس طبقے کیلئے اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر مقدم رکھنا معمول بن چکا ہے۔
مثال کے طور پر اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کو ترتیب دیتے وقت انہی صنعتکاروں نے ٹیکسٹائل برآمدکنندگان کیلئے ترجیحی اور رعایتی نرخوں پر قدرتی گیس کی دستیابی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تھا اور تب ان کی جانب سے یہ جواز گڑھا گیا تھا کہ ایسی رعایت دینے سے ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے میں مدد ملے گی جس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں اضافہ اور غربت میں کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے اس بات کو زیربحث ہی نہیں آنے دیا کہ پہلے سے ہی محدود ہوتے قدرتی گیس کے ذخائر تک رعایتی نرخوں پر رسائی انہیں کئی گنا زیادہ پیسہ بنانے میں مدد دے گی۔ ظاہری بات ہے اگر یہ بات سامنے آجاتی تو وہ حکومت سے اس ضمن میں کوئی رعایت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو پاتے اور آج تک وہ حکومت کو سبزباغ دکھا کر گیس اور توانائی کے شعبوں میں رعایتیں بٹور رہے ہیں۔ ہم میں سے وہ لوگ جو معیشت کی کچھ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں اور جو عمران خان کے اقتدار سنبھالنے سے اب تک ان کے روئیے کا مشاہدہ کر رہے ہیں، بخوبی جانتے ہیں کہ کشیدہ حالات میں عمران خان کیلئے بڑے فیصلے لینا کس قدر مشکل رہا ہے۔ وہ اکثر ایسے فیصلے کرنے سے بھی کتراتے ہیں کہ جن کے فوری نتائج تو شاید اتنے موافق نہ محسوس ہوتے ہوں البتہ طویل مدتی مثبت نتائج کیلئے یہ فیصلے ناگزیر ہوتے ہیں۔ وہ ایسے فیصلوں کے وقت اپنی عقل یا ماہرین کے مشورے کی بجائے ان سرگوشیوں پر زیادہ کان دھرتے ہیں جن میں ان آراء کیخلاف ان کے اپنے ڈر اور خوف کی بازگشت سنائی دے رہی ہوتی ہے۔ مثال کے طور آئی ایم ایف کے پروگرام کو حتمی شکل دینے کیلئے کئی آوازیں حکومت پر زور ڈالتے ہوئے اسے یہ باور کرا رہی تھیں کہ یہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے اور معیشت کی اس ڈوبتی نیا کو بچانے کیلئے یہی موزوں ترین متبادل ہے مگر نومبر سے جون تک حکومت بضد رہی کہ وہ خود سے بنایا گیا کوئی ریلیف پروگرام لیکر آئیں گے اور گزشتہ برس فروری اور مارچ تک حکومت اس غلط فہمی کا شکار رہی کہ چین، متحدہ عرب امارات اور سعودیہ سے آنے والے پیسوں سے ہی وہ اس ڈوبتی کشتی کو بچانے میں کامیاب ہو جائے گی اور اس کے بعد اسے کسی معاشی پروگرام کی ضرورت نہیں پڑنے والی۔ حکومت کی اس ڈھٹائی، فیصلہ نہ لینے کی صلاحیت کے سبب ملک کو چھ ارب ڈالر کا نقصان پہنچا اور اس کے بعد اسد عمر کو چلتا کر کے ایک ایسے عارضی اور آزاد پیشہ ور کو معیشت کی بھاگ دوڑ سونپ دی گئی جس نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کیلئے ایک لمحہ بھی تاخیر نہ کی۔ یہ پوری کہانی دہراتے ہوئے میرا خون کھول رہا ہے کہ کس طرح ہم نے اپنی ڈوبتی معیشت کو زندہ رکھنے کیلئے اس قدر ڈھٹائی اور ظالمانہ انتظار کے بعد یہ فیصلہ کیا جبکہ اسی دوران عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے ٹاک شوز مباحثوں میں درست اعداد وشمار پر پردہ ڈالنے، حقائق سے روگردانی کرنے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا سلسلہ زور وشور سے جاری رہا۔ اس تمام مرحلے میں یہ ارب پتی سرمایہ دار ہی تھے جنہوں نے اس پروگرام کو اپنانے کے بارے حکام کو ڈرائے رکھا جبکہ وہ جانتے تھے کہ ان حالات میں یہ ناگزیر ہو چکا تھا۔ یہی سب آج دوبارہ ہو رہا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ پھر حکومت کسی قسم کے سخت مگر فوری طور پر ناگزیر فیصلے لینے سے کترا رہی ہے کہ یہاں کے کرتا دھرتا ایک مرتبہ پھر گمران کن مفاد پرستوں کے نرغے میں ہیں۔ حکو مت، جو اس وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے لاک ڈاؤن کی ببانگ دہل اور متواتر مخالفت کر چکی تھی، جلد ہی یہ سمجھ گئی ہے کہ فوج کی حمایت کیساتھ، صوبوں کے لاک ڈاؤن کی جانب بڑھنے کے بعد وہ تمام آوازیں جو اسے اس کی مخالفت پر اُکسا رہی تھیں، خاموش ہو گئی ہیں۔ اب ایسی صورتحال میں یوٹرن لینا اس لئے بھی مشکل ہو گیا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں اسی تاخیر کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے آئی ایم ایف پروگرام لینے میں تاخیر سے معیشت کو ہونے والے نقصان کا ذمہ دار حکومت کی کج فہمی اور سستی کو ٹھہرایا گیا تھا۔ اس وقت مرکزی قیادت یہی اُمید کر رہی ہے کہ عوام چند ہی دنوں میں لاک ڈاؤن سے تنگ ہوکر حکومت کی بات کو وزن دینے لگ جائیں گے۔ اگر اس کے بعد اچانک وائرس سے متاثرہ لوگوں کی ہسپتال آمد اور انتہائی نگہداشت کی ضرورت میں اضافہ ہوگیا تو وہ لاک ڈاؤن کی تمام مشکلات کو یکسر بھول جائیں گے۔ حالات جس ڈگر پر پڑ چکے ہیں، وزیراعظم کیلئے ایسے میں یوٹرن لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ان کی یہ بات بلکل ٹھیک ہے کہ لاک ڈاؤن کرنے سے غریب عوام کو سب سے زیادہ نقصان ہوگا مگر وقت کا تقاضا یہی ہے کہ صوبوں کے بازو مضبوط کئے جائیں جو پہلے ہی تحفظ پروگراموں، صحت کی سہولیات اور تشخیصی اہلیت بڑھا کر اس اُفتاد سے نمٹنے کیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہے رہیں۔ ان تمام تر کاوشوں کیساتھ لاک ڈاؤن کر کے ہی انہیں مؤثر بنایا جاسکتا ہے۔ اس لئے اس معاملے میں وزیراعظم کو ہی آگے بڑھ کر قیادات اپنے ہاتھ میں لینا ہوگی اور ایسے اقدامات اور فیصلے لینا ہوں گے جن سے صوبوں کی کاوشوں پر پانی پھرنے سے بچایا جا سکے۔
(بشکریہ: ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)