کون اچھا ہے کون برا

بحرانی صورتحال میں انسانیت کے بیک وقت لطیف اور بھیانک ترین پہلو سامنے آتے ہیں۔ حالیہ کرونا وائرس کے بحران نے بھی یہی واضح کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ہم سب ایک دوجے سے مختلف ہونے کے باوجود بھی کتنے ایک سے ہیں۔ وباء کے شروع کے دنوں میں جب چین کا شہر ووہان بند پڑا تھا، وہاں سے ہمیں ایسے ویڈیوز دیکھنے کو ملیں جو تباہی کا منظر پیش کرنے کیساتھ ساتھ اُمید افزا بھی تھیں کہ ان میں اپنے گھروں میں بند شہری اپنی کھڑکیوں میں کھڑے ہو کر وہ گیت گا رہے تھے جن کی آواز اس وہشت زدہ شہر کی گلیوں کا سکوت چیرتے جا رہی تھیں ۔ ہم ایسا ہی منظر اٹلی کی خوف میں ڈوبی گلیوں میں بھی دیکھتے ہیں جہاں گھروں میں بند شہری ہر طرح کی صوتحال سے نمٹنے کے عزم کیساتھ اپنے گھروں کی کھڑکیوں میں کھڑے ہو کر، سازوں کی سنگت میں اُمید اور حوصلے کے گیت گا کر اپنی ساتھی شہریوں کو حوصلہ دے رہے تھے۔
اس کے بعد ہمارے پاس تسلیم اور ندیم کی مثال ہے جو بھارتی شہر کیرالا میں ایک فارمیسی چلا رہے ہیں۔ یہ جوڑا سرجیکل ماسک صرف اس لئے نقصان پر بیچ رہا ہے تاکہ وہاں رہنے والے لوگوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔ اس صورتحا ل میں جہاں کچھ لوگ حفاظتی سامان مہیا کر کے خدمت سرانجام دے رہے ہیں وہیں کچھ لوگ اس سے مختلف انداز اپنا کر بہتری کیلئے کارفرما ہیں۔ معلومات تک رسائی کی اہمیت سمجھتے ہوئے طبیبوں کے ایک گروہ نے کرونا سے متعلق تقریباً بتیس ہزار تحقیقی مقالہ جات تک مفت رسائی کیلئے جنگ لڑی جو اس سے پہلے صرف قیمت ادا کر کے ہی دستیاب ہوتے تھے۔ پھر وہ لاتعداد ڈاکٹر، محققین اور طبی عملہ بھی خراج تحسین کا مستحق ہے جو اپنی پرواہ کئے بغیر دن رات متاثرہ افراد کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ یہ وہ ہیرو ہیں جن کی دنیا احسان مند ہے۔
مگر دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جو لوگوں کے خوف سے بھی فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک جوڑا وینکوور سے تعلق رکھتا ہے جس نے وبا شروع ہوتے ہی آس پاس کے سٹورز سے سرجیکل ماسکس کا تمام ذخیرہ خرید کر اسے آن لائن مارکیٹ پلیس ایمازون پر ناجائز شرح منافع پر فروخت کرکے ستر ہزار ڈالر کا منافع اینٹ لیا۔ ایسے واقعات کے بعد ایمازون اور ای بے نے وائرس سے متعلقہ کئی اشیاء کی ناجائز طور پر فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔ فیس بک نے بھی ایسی اشیاء کے اشتہارات پر پابندی لگا دی ہے جو کسی بھی طرح اس وبائی مرض سے بچانے کا دعوہ کرتی ہوں۔
یہ اس وجہ سے بھی کیا گیا تھا کیونکہ اس صورتحال سے ناجائز فائدہ اُٹھانے والے جعل سازوں نے فیس بک پر ایسی دوائیں اور تیل فروخت کرنے کیلئے تشہیر شروع کر دی تھی جس میں کرونا سے بچاؤ اور علاج کے جھوٹے دعوے کئے گئے تھے اور یہ سلسلہ صرف پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں ہی جاری رہا۔ عالمی سطح پر معروف ٹی وی مبلغ جم بیکر اور سازشی دانشور ایلکس جونز نے بھی ایسے مرکبات اور ٹوٹھ پیسٹ بیچنے کیلئے اشتہارات بنوائے جن پر انہیں متعدد قانونی نوٹس بھی دئیے جا چکے ہیں۔
آپ کو دنیا بھر سے اس نازک صورتحال میں بھی واہیات ترین کہانیاں سننے کو ملیں گی جن سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں ایسے گھٹیا رجحانات کس قدر سراہے جاتے ہیں۔ ایسے ہی رجحانات میں سے ایک مثال ہمیں بھارت میں دیکھنے کو ملی جہاں بھارتی مہاسبھا نے اپنی عقل اور بدھی کا ثبوت دیتے ہوئے کرونا کے علاج کیلئے ایک ایسی تقریب کا انعقاد کرایا جہاں شرکا کو اس مرض سے بچنے کیلئے گائے کا پیشاب پینے اور گوبر سے بھرے تالاب میں نہانے کی ترکیب دی گئی جس پر خوب عمل بھی کیا گیا۔ اب ایسا کرنے سے کرونا سے بچاؤ ہو نہ ہو البتہ سماجی فاصلہ اختیار کرنے میں ضرور مدد ملے گی کہ کوئی بھی ذی شعور آدمی کسی ایسے فرد سے دور ہی رہنا پسند کرے گا جو گوبر میں نہا کر آیا ہو۔
اس ساری صورتحال میں وہ لوگ بھی شدید مذمت کے قابل ہیں جو اپنی جہالت یامذموم مقاصد کیلئے سنسنی پھیلانے اور جھوٹی خبروں کے پرچار میں مصروف ہیں۔ ہمیں آئے دن سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر اس وبا سے بچاؤ کیلئے لہسن یا بلیچ پینے جیسے کئی بے تکے اور خطرناک ٹوٹکے وصول ہوتے ہیں۔ خاص کر یونیسیف جیسے ادارے سے منسوب کر کے یہاں ایسی معلومات کو فروغ دیا جا رہا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس دستاویز کو یونیسیف کے جانب سے مسترد کرنے کے باوجود یہ ذرائع ابلاغ پر موجود ہے اور اس کو بظاہر نہایت ذمہ دار لوگ بھی آگے پھیلاتے نظر آتے ہیں۔
یہ تمام جھوٹی خبریں اور دعوے بہت سے لوگوں کے جانی اور مالی نقصان کا سبب بن رہے ہیں۔ خبر ہے کہ ایک چینی عورت کی حالت اس وقت تشویشناک ہوگئی جب اس نے کرونا سے بچاؤ کی خاطر کسی جھوٹی خبر پر عمل کرتے ہوئے دو کلو لہسن کھا لیا اور ہسپتال پہنچ گئی، اسی طرح بھارت کے پولٹری تاجروں میں یہ افواہ زور پکڑ گئی کہ کرونا وائرس گوشت خوری کے باعث جنم لیتا ہے اور ایسے میں چکن کھانا مزید بیماری یا انفیکشن کا سبب بنتا ہے۔ انہی افواہوں کی جکڑ میں آکر وہاں کے پولٹری تاجروں نے اپنے پاس موجود تمام ہی سٹاک کو ضائع کر کے لاکھوں کا نقصان کر لیا۔ ان پولٹری تاجروں میں سے ایک تو ایسا تھا جو لگ بھگ اپنے پاس چھ ہزار چوزوں کو زندہ جلا ڈالنے پر مجبور ہوگیا۔
بلاشہ بحرانی صورتحال میں ہی انسان کا اصل کردار افشا ہوتا ہے اور موجودہ وقت ہم پر یہ خوب ظاہر کر رہا ہے کہ ہم میںسے کون کتنا اچھا ہے اور کون برا۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)