بندک بندھا

سوشل میڈیا ہے یا الیکٹرانک یا پھر پرنٹ میڈیا سبھی کرونازدہ ہی نظر آرہے ہیں کیونکہ اس میں اڑنگ بڑنگ ہوئے جارہی ہے۔ سادہ لوح عوام کو سمجھ ہی نہیں پڑ رہی ہے کہ ہو کیا رہا ہے اور کیا ہونے والا ہے۔ پنجاب اور سندھ سے تو اطلاع مل رہی ہے کہ بندش فعالیت (lock down) سے پولیس ڈنڈا گھمانے میں طاق ہو گئی ہے، جو کوئی بھی بندش فعالیت کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ ایسا ڈنڈا گھماتی ہے کہ خلاف ورزی کرنے والے کو نانی یاد آجاتی ہے، نہ صرف یہ کہ وہ ڈنڈا گھما کر تابڑتوڑ ہڈیاں پسلیاں ایک کر رہی ہے بلکہ ڈنڈے کے زور پر ڈنڈ بھی پلواتی ہے، اس پر ستم ظریفی یہ کہ پولیس سوشل میڈیا سے بھی پوری طرح مستفید ہو رہی ہے۔ انسانی مرغوں کی ویڈیو اس طرح جاری کر رہی ہے کہ جیسے کہ آسکر ایوارڈ جیت کر آرہی ہو، نوجوانوں کا سر اس طرح منڈوا رہی ہے کہ کورنا وائرس کی وحشت تو اُڑن چھو ہو جاتی ہے البتہ منڈے سر کے نقوش کی دوچند ہو جا تی ہے۔ کیا بندش فعالیت کی سزا کا پولیس کے پاس اختیار ہے، اس بارے میں حکام ہی بتا سکتے ہیں تاہم ایک بات تسلیم ہو گئی ہے کہ پولیس جہاں کی بھی ہو اس کو اپنے اختیارات کا سوا استعمال آتا ہے۔ ایسا سندھ یا پنجاب پولیس ہی کا رنگ نہیں ہے کئی ممالک سے بھی پولیس گردی کی ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سب ہی ایک ہی مکتبہ فکر کے تربیت یافتہ ہیں، بھارت میں پولیس کی روک تھام بھی اسی انداز میں جاری ہے، وہاں کی ویڈیوز دیکھ کر تو وحشت سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ دشمن سے گتے بازی ہورہی ہے۔ مغربی دنیا کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ وہ بڑے دھڑے اور ڈھٹائی سے دعویدار ہیں کہ دنیا کی مہذب قوم صرف مغربی دنیا کے باسی ہیں لیکن سپین جو کسی زمانے میں اسلامی اقدار کا اعلیٰ نمونہ ہوا کرتا تھا وہاں بھی مشرقی دنیا سے زیادہ بھیانک مناظر دیکھنے میں آئے۔ سپین کی پولیس گلی گوچہ وامصار میں تنی کھڑی ہے اور وہاں سے جو بھی پچاس سال سے زائد عمر کا کوئی بزرگ گزرتا ہے موقعہ پر موجود پولیس انہیں طعام دہن جان کر چیل کوؤں کی طرح جھپٹ پڑتی ہے اور تین تین پولیس اہلکار بزرگ ناتواں کو اس طرح اُٹھا کر پولیس گاڑی کی طرف اُچھال دیتے ہیں جس طرح پاکستانی فاسٹ بولر باؤنس مارتے ہیں، پولیس کی ایسی چابک دستی صرف پاکستان یا بھارت یا پھر سپین میں نہیں بلکہ یہ سنہرے نظارے سویڈن، جر منی، امریکا، عرب ممالک کے علاوہ ایران میں بھی ریکارڈ ہو رہے ہیں، گویا سب ہی ایک رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ اس میں پولیس بچاری کا بھی کیا قصور ہے، کہتے ہیں کہ جیسی روح ویسے فرشتے عوام ہی تو یہ موقعہ فراہم کررہی ہے اگر عوام سنبھل جائے تو کسی کو ان سوئنگ یا باؤنس کرنے کا کیا موقعہ ہاتھ آئے گا، حکومتوں کی جانب سے جو بھی اقدامات ہو رہے ہیں وہ عوام کی بہتری کیلئے ہو رہے ہیں، حیرت کی بات ہے کہ احساس ذمہ داری کا فقدان اس طبقہ میں بھی نظر آیا ہے جن کے بارے میں تصور ہے کہ یہ سنجیدہ طبقہ ہے، قانون کا پابند مؤثر طور پر ہے ان میں تبلیغ کرنے والے بھی شامل ہیں، گمان تھا کہ صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے جماعت اپنی سرگرمیاں معطل کر دے گی مگر معلوم ہوا ہے کہ ان کو اپنے مرکز کی جانب سے نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جس میں ایک یہ ہدایت بھی شامل ہے کہ ایک ٹھکانے دوسرے ٹھکانے کی طرف بڑھنے کیلئے پیدل سفر کریں اور مشن جاری رکھیں۔ بہرحال عوامی تعاون اور عوامی احساس ذمہ داری کے بغیر کامیابی ناممکن ہے۔ پولیس یا قانون نافذ کرنے والوں کا رویہ اپنی جگہ لیکن عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ یہ تک لے دے کی جا رہی ہے کہ مسجدیں بند نہیں کریں حالانکہ مسجدوں کی بندش کا معاملہ نہیں ہے بلکہ عارضی طور پر بھیڑ بھاڑ سے بچنے کا معاملہ ہے، انسانی جان کا بچانا بھی فرائض میں سے ہے لیکن کچھ عمدہ قسم کے دانشور مشورہ دے رہے ہیں کہ لوگ فرض نماز مسجد میں ادا کریں اور باقی سنت ونفل نمازیں گھر جا کر ادا کرلیں۔ اب ان سے پوچھا جائے کہ فرض نماز کی کندھے سے کندھا جوڑ کر صف بندی میں نماز ادا کی جاتی ہے جب جڑ کر کھڑے ہوگئے تو باقی نماز فاصلہ کر کے پڑھنے سے کیا فائدہ؟۔ حضور کریمۖ کی طرف سے بارش کی مشکلات سے بچاؤ کی غرض سے نماز باجماعت ادائیگی کی عارضی معطلی کی روایت موجو د ہے، یہ تو وباؤ سے بچاؤ کی تجویز ہے۔ اس بلا کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ چین کے شہر ووہان میں پہلی بار نمودار ہونے والے وائرس سے19ہزار سے زائد ہلاکتیں اور4لاکھ 35 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک ہزار چھ سو ستر ہوچکی ہے اور اکیس افراد کے جاں بحق ہونے کی سرکاری تصدیق موجود ہے۔ کورونا ہے کیا اس بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکی، جب اس کا چرچا ہوا تو کہا گیا کہ یہ کتے بلیاں کھانے سے لگا، پھر کہا گیا کہ چمگادڑ سے پھیلا، ساتھ ہی کہا گیا کہ نہیں درمیان میں ایک لاپتہ جانور کا بھی کردار ہے تاہم کئی سائنسدانوں نے اس کو مسترد کر دیا لیکن اس کیساتھ ہی اسرائیل کی خفیہ تنظیم موساد کی بھی پراسرار سرگرمیاں شروع ہونے کی خبریں گرم ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے اپنی خفیہ ایجنسی کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ دنیا بھر سے کہیں سے بھی، کسی بھی ذرائع سے اور کسی بھی طریقے سے وینٹی لیٹرز، فیس ماسک اور طبی عملے کیلئے حفاظتی لباس کا انتظام کریں۔ اسرائیل میں30مارچ کی شام تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر4ہزار347تک جا پہنچی تھی جبکہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر16تک جاپہنچی تھی۔
کورونا وائرس ایک بار جسم میں داخل ہونے کے بعد یہ خلئے کو ایک وائرس فیکٹری میں تبدیل کر دیتا ہے، یعنی یہ وائرس دیگر خلیات کو متاثر کرتا ہے اور یہی سلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے۔اس لئے اس جا ن لیوا موذی وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر بہت ہی ضروری ہیں۔اس کیلئے ہڑبونگ کی ضرورت نہیں ہے۔