ہنگامی حالات سے نمٹنے کے تقاضے

پاکستانی حکومتوں کے بارے میں ایک عام تاثر یہ موجود ہے کہ یہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور ایک مرتبہ پھر وفاقی وصوبائی حکومتوں کے کرونا وائرس کی وبائی صورتحال کے بارے میں فیصلوں اور اقدامات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر ملک میں ہنگائی حالات پیدا ہو جائیں تو ان حالات سے ٹھوس منصوبہ بندی اور سمجھ بوجھ سے نمٹنے کی صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ قوت فیصلہ کی کمی اور ٹھوس منصوبہ بندی کیساتھ اس وقت پورے ملک میں جس قسم کے یکساں اور مربوط اقدامات کی اشد ضرورت ہے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے الگ الگ رویئے اور اقدامات نظر آتے ہیں، یہاں تک کہ اب اس بارے بھی ابہام ہے کہ فیصلہ سازی کا حتمی اختیار اور فیصلہ کس کے ہاتھ میں ہے۔ وزیراعظم نے کرونا وائرس کی صورتحال کے خطابات کے تسلسل میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن کا امکان مسترد کیا جبکہ عملی طور پر کرفیو کی صورت سے کم درجے کی پابندیاں بڑی سڑکوں کی حد تک موجود ہیں۔ کاروبار روزگار معطل ہو چکے ہیں، مزید سخت اقدامات کی وکالت ہو رہی ہے اور دنیا میں سخت اقدامات سے گریز کے نتائج کے حوالے دیئے جارہے ہیں، اس کے باوجود لاک ڈاؤن کے مضرت رسانیوں پر بحث جاری ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہم ادھورے اقدامات اور سختی کے باوجود آبادی کے ایک بڑے حصے کے عدم تعاون کے باعث خدا نخواستہ وائرس کے پھیلاؤ کا تدارک نہ کر پائیں گے۔ لاک ڈاؤن ہے یا نہیں، صوبائی حکومتوں کے اقدامات اور وزیراعظم کے اعلانات میں مماثلت ومخالفت تلاش کئے بغیر اس وقت کی صورتحال میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام مریضوں کے علاج معالجے کے بعد سب سے بڑے دو مسائل ہیں، ایک یہ کہ پابندیوں کے معاشرے کے کمزور معاشی حالات رکھنے والے طبقے پر اثرات اور دوم اشیائے خوردنی واشیائے صرف کا بحران اور قیمتوں میں اضافہ وذخیرہ اندوزی۔ بدقسمتی سے ذخیرہ اندوز اور انسانیت سے عاری افراد ہر معاشرے میں موجود ہیں، پاکستان میں ان کی شرح اضافی قرار دینے کی کافی گنجائش ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران ذخیرہ اندوزوں نے کھانے پینے کی اشیاء مہنگی کردی ہیں، وزیراعظم ہر خطاب میںذخیرہ اندوزوں کو تنبیہہ پر اکتفا کرتے ہیں، تازہ خطاب میں بھی وہ ایسا کرنا نہ بھولے، وزیراعظم کے اشارہ ابرو پر ملک بھر میں ذخیرہ اندوزوں، ناجائز منافع خوروں اور مہنگائی کے ذمہ داروں کیخلاف سخت ترین اقدامات ہونے چاہئے تھے لیکن ایسا نہ ہونے پر وزیراعظم کے اعلانات ”تو وت مار” کے مصداق بن کر رہ گئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں تو آٹا بحران بھی سر اُٹھانے لگا ہے، حکومت کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ ایڈوکیٹ جنرل عدالت کو آگاہ کرتے ہیں کہ صوبے میں آٹا بحران کی وجہ پنجاب سے آٹا لانے پر پابندی ہے جبکہ حکومتی ترجمان کا بیان ہے کہ پنجاب سے آٹا لانے پر کوئی پابندی نہیں۔ صوبائی حکومت اشیائے خوردنی اور آٹا کی قلت وعدم دستیابی کی صورتحال تسلیم کرنے پر ہی تیار نہیں تو اقدامات کا سوال ہی بے معنی ہے۔ مہنگائی اور قیمتوں میں خودساختہ اضافہ کرنے والوںکیخلاف کارروائی تو دور اذکار کی بات ہے، بہرحال وزیراعظم کو صورتحال کا ادراک نظر آتا ہے اور وہ باربار تنبیہہ کر رہے ہیں، تنبیہہ تو انہوں نے پرسکون حالات میں بھی آٹا چینی مافیا کو کی تھی لیکن وہ باز آنے والے نہیں تھے اور وہ باز نہیں آئے تھے، اب بھی یہی صورتحال ہے۔ وزیراعظم یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ حالات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور بھرپور منصوبہ بندی کیساتھ کوئی قدم اُٹھائیں گے لیکن اب تک جتنی مرتبہ خطاب کیا ہے اس کا لب لباب یہی ہوتا ہے کہ آپ نے ڈرنا نہیں لڑنا ہے بجائے اس کے کہ حکومت بھی یہی فارمولہ اپنائے عملی صورتحال یہ ہے کہ حکومت یا صوبائی حکومتیں عملاً کچھ نہیں کر رہی ہیں، صرف اعلانات اور زبانی جمع خرچ ہورہے ہیں۔ وزیراعظم ہزاروں نوجوان بھرتی کرنے کو مسئلے کا حل سمجھ رہے ہیں جو گھر گھر کھانا پہنچائیں گے حالانکہ ضرورتمند خود سڑکوں کے کنارے ڈیرے ڈال چکے ہیں جبکہ حکومت کے پاس ابھی اعداد وشمار بھی نہیں اور نہ ہی کوئی ٹھوس منصوبہ بندی اور حکمت عملی موجود ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پاک فوج سول انتظامیہ کی مدد کو آچکی ہے اور ایک منظم فورس اور نیٹ ورک موجود ہے تو پاک فوج کے جوانوں اور اضلاع کی انتظامیہ کی موجودگی میں غیرسرکاری اور غیرتربیت یافتہ نوجوانوں کا ہجوم اکٹھا کرنے کی حاجب ہی کیا ہے؟ علاوہ ازیں یونین کونسل ایک ایسا ادارہ ہے جس کے پاس ایک ایک فرد کے بارے میں معلومات ہوتی ہیں، ان کی مدد سے ضرورت مندوں کا تعین بھی کیا جاسکتا ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت کے اس ضمن میں تیاریوں اور اقدامات کا طریقہ کار اس طرز کا طے ہونا خوش آئند ہے جس کے بعد امداد کی تقسیم کے عمل کی شفافیت پر کڑی نظر رکھنے کے عمل پر بالخصوص توجہ دینے کی ضرورت باقی رہ گئی ہے۔ وزیراعظم نے ریلیف فنڈ کا قیام کر کے اس میں عطیات دینے کی جو اپیل کی ہے اور آمدنی کا سوال نہ اُٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے حالیہ سالوں میں جو صورتحال رہی حکومت اور تاجر وکاروباری طبقے اور خاص طور پر سرمایہ داروں کے درمیان بعد کی جو کیفیت موجود ہے اس تناظر میں اس اپیل کا مثبت جواب خاصا مشکل نظر آتا ہے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عطیات دینے میں بخل کا خدشہ ہے بلکہ مخیرحضرات کی اکثریت حکومت کے لمبے چوڑے طریقہ کار اور تاخیر کے علاوہ عدم اعتماد کے باعث فوری طور پر عوام کی مدد کرنے والی نیک نام تنظیموں پر زیادہ اعتماد کریں گے بلکہ دیکھا جائے تو یہ عمل پوری طرح سے جاری ہے اور حکومت ابھی فورس بنانے اور امداد کی تقسیم کا طریقہ کار طے کرنے میں مصروف ہے۔ حکومت کو جو بھی کرنا ہے مزید تاخیر کی گنجائش نہیں، عام آدمی نے خاک ہو جائیں گے تم کو خبر ہونے تک کانعرہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ حکومت امدادی رقم کی تقسیم کیساتھ ساتھ اشیائے خوردنی کی قلت اور خاص طور پر آٹا بحران سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات کرے۔ خیبر پختونخوا میں آٹا بحران کے دنوں میں سرکاری ریٹ پر آٹا دینے کی جو منصوبہ بندی کی تھی اس پر پوری طرح عمل کرنے سے آٹا بحران کو شدید ہونے سے روکا جاسکے گا۔