یہ تضادات کا وقت نہیں

ایک ایسے وقت میں جب احتیاط اور پھونک پھونک کر قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے اس کی اہمیت اس لئے بھی دوچند ہو جاتی ہے کہ عوام کے اعصاب پر سوار کرونا وائرس کا خوف اجتماعی خوف کی فضا کا باعث بن رہا ہے اور وہ اس حوالے سے بہت حساس ہوتے جارہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور اطلاعات کے مختلف مستند وغیرمستند خاص طور پر منفی پراپیگنڈے کی صورتحال میں حکومت کے ذمہ دار عناصر اور میڈیا پر معروضیت اور حقائق کی جو مزید بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور احتیاط وحددرجہ احتیاط کے تقاضے بڑھ گئے ہیں، خیبر پخونخوا کے محکمہ صحت کے مختلف ذرائع اور مختلف رپورٹوں کے اعداد وشمار میں تضاد غیرسنجیدگی اور غیرذمہ دارانہ طرزعمل کا جو نمونہ پیش کر رہے ہیں اس کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ سرکاری طور پر تین مختلف ذرائع کی رپورٹوں کی اولاً ضرورت ہی نہیں تھی پھر بھی اگر شوق فرمانا ضروری تھا تو کم ازکم اعداد وشمار میں تو فرق نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ہم سمجھتے ہیںکہ صوبائی حکومت میں مشیر اطلاعات کے علاوہ کسی کی ذمہ داری نہیںہونی چاہئے کہ وہ سرکاری اعداد وشمار اور صورتحال کی سرکاری رپورٹ جاری کرے۔ جہاں تک میڈیا سے معلومات شیئر کرنے کا تعلق ہے محکمہ صحت کو اس حد تک ہی رہنا چاہئے اور سرکاری طور پر جو رپورٹ جاری کی جائے وہ مشیر اطلاعات ہی جاری کرے اور اسی کو سرکاری رپورٹ کا درجہ دیا جائے۔ کرونا وائرس کے بحران کے موقع پر بعض وزراء اور مشیروں کا بازاروں کا دورہ اور آٹا بحران بارے اقدامات کا تاثر بھی دخل درمعقولات ہی کے زمرے میںآتا ہے، یہ وزیرخوراک اور محکمہ خوراک یا پھر ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں جس میں اپنی ذمہ داریوں اور دائرہ عمل میں کام پر توجہ کی بجائے دوسروں کے دائرہ اختیار میں عمل دخل کی سعی کی جاتی ہے۔ بہرحال اس مجموعی صورتحال سے قطع نظر ایک ایسے وقت جب ہر ایک کی توجہ صحت کے شعبے پر مرکوز ہے اور کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے حوالے سے متضاد اعداد وشمار پیش ہونے سے اس امر کو تقویت ملتی ہے کہ صورتحال کے تقاضوں کو سمجھنے اور حالات کی نزاکت کے ادراک کا فقدان ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو اس حوالے سے ایک واضح پالیسی وضع کر کے اس پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ہدایت کرنی چاہئے تاکہ آئندہ جگ ہنسائی کی نوبت نہ آئے۔
ازسرنو غور کی ضرورت
تبلیغی اجتماع سے آنے والوں، ایران سے آنے والے زائرین اور بیرون ملک سے آنے والوں کو اگر محدود کیا جاتا یا پھر یہ افراد دوسروں کو محفوظ رکھنے کی خاطر چند دن خود کو قرنطینہ میں رکھتے تو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وباء کی صورتحال آج سے کہیں بہتر ہوتی۔ بہرحال حکومت اور افراد دونوں ہی کے غیرذمہ دارانہ کردار کا نتیجہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب بھی عدم احتیاط اور ارتکاب غفلت بلکہ مجرمانہ طور پر بے احتیاطی ہو رہی ہے۔ تبلیغ کی منفعت اور اس کا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہونے میں شک کی گنجائش نہیں، حالات کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس عمل کی عارضی روک تھام برائے تحفظ مسلم کی جس انداز میں ضرورت تھی اس ضمن میں مذہبی طبقے کا عدم تعاون اور وائرس کے پھیلاؤ میں مدد گار ہونے کا جو تاثر پھیل رہا ہے اور لوگ کنارہ کش ہونے کے علاوہ زائرین ومبلغین کے حوالے سے جو سوچ اپنانے لگے ہیں اس میں کسی کو الزام دینے کی بجائے اس سارے عمل کو وباء کی روک تھام تک معطل کرنے کا فیصلہ کر لینا چاہئے۔ مردان میں کورونا وائرس کی تصدیق کا معاملہ ہو یا بارہ کہو اور بنوں کے علاوہ تبلیغ کی بابرکت محنت سے واپس آنے والوں کا اس وائرس کا شکار ہونا اور بعض کی اس سے موت ایسی صورتحال نہیں جسے الزام قرار دیا جا سکے، یہ بھی کوئی پراپیگنڈہ نہیں کہ زائرین کا قرنطینہ میں رہے بغیر آبادی سے میل جول بھی صورتحال کی خرابی کا بڑا سبب بنا۔ اس قسم کی صورتحال ان عناصر کے باعث دین ومذہب کے حوالے سے مثبت نہیں جس کی ذمہ داری محولین پر عائد ہو یا نہ ہو لیکن یہ صورتحال قابل توجہ امر بہرحال ہے۔ بہتر ہوگا کہ یہ اعمال وقتی طور پر معطل کئے جائیں اورکرونا وائرس سے خود کو اور دوسروں کومحفوظ رکھنے کی کوشش وذمہ داریوں کا مظاہرہ کیا جائے اور دوسروں کیلئے خطرہ بننے سے گریز کیا جائے۔