حکومتی اقدامات میں عوامی تعاون کی ضرورت

دوسرے صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی پانچ افراد سے زائد کی نماز باجماعت پر پابندی کا فیصلہ کرنے میں صوبائی حکومت کی سوچ بچار اور اتفاق رائے کے حصول میں تاخیر کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے حالانکہ سندھ کے جید علمائے کرام نے ابتداء ہی میں اس کی گنجائش کا فتویٰ دیکر تعاون کا فیصلہ دیا تھا۔ مسلم ملک اور اس ملک میں جس کا قیام ہی دین اسلام کے نام پر ہو وہاں دین کے نہایت اہم اور دن میں پانچ بار دہرائے جانے والے رکن کی طرز ادائیگی کے حوالے سے فیصلہ حکومت اور علمائے کرام کیلئے یقیناً بڑا ہی مشکل فیصلہ تھا، دوسری جانب عوام کیلئے بھی اسے ذہنی طور پر قبول کرنا اور اس پر عملدرآمد نہایت مشکل ہے، حکومتی پابندیوں کے باوجود اس کی خلاف ورزی ہوتی رہے گی۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں حکومت ایک حد سے آگے جاکر سختی بھی نہیں کر سکتی لیکن دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو سندھ کے علمائے کرام اور خاص طور پر جامعہ ازہر کے فتویٰ کے بعد نمازیوں کی ایک بڑی اکثریت اس پر عملدرآمد شروع کر چکی تھی۔ اوسطاً نصف کی تعداد میں نمازی گھروں ہی پر نماز ادا کرنے لگے تھے، حکومت کے فیصلے کے بعد باقی نمازیوں کے بھی گھر میں نماز کی ادائیگی سے اجتماعات محدود کرنے کی راہ ہموارہوگی۔ ہم سمجھتے ہیںکہ حکومت نے نماز باجماعت پر ہرگز پابندی نہیں لگائی ہے اور نہ ہی یہ اس کا مقصد ہوسکتا ہے حکومت کو افراد کے اجتماع کو محدود کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے جس کا مقصد سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہ کرونا وائرس سے زیادہ سے زیادہ لوگوںکو محفوظ رکھا جا سکے اور اس کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے جتنا بھی ممکن ہوسکے عوامی اجتماعات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے پابندی عائد کئے جانے کے بعد یہ شرعی طور پر بھی علمائے کرام اور آئمہ حضرات کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس حکمنامہ کی پابندی کریں۔ مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی فرض کفایہ ہے جو پانچ افراد کی نماز باجماعت ادائیگی سے پورا ہو جاتا ہے، باقی اہل محلہ گھروں پر اپنے بچوں کیساتھ باجماعت نماز کی ادائیگی کر کے باجماعت نماز کا ثواب حاصل کر سکتے ہیں اور مسجد کی فضیلت وثواب کی بھی مالک کائنات سے اس لئے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ عذر یعنی دوسرے مسلمانوں اور خود اپنے آپ کو ایک غیرمرئی خطرے سے محفوظ رکھنے کیلئے کوشاں ہیں۔ یہ صورت اگر نہ ہوتی اور حکومت پابندی نہ لگاتی تو وہ پہلے کی طرح باقاعدگی کیساتھ مسجد جا کر نماز باجماعت کی ادائیگی کا احسن فریضہ خوش اسلوبی سے اور حسب معمول نبھاتے رہتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس کی روک تھام میں کردار کی ادائیگی انسان اور انسانیت کو خطرے اور اس کی جان بچانے کا فریضہ ہے جو شرعی اخلاقی اور اب قانونی طور پر ہر شہری پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت کی پابندیوں کا اطلاق اقلیتی برادری رضاکارانہ طور پر ہی اختیار کر چکی ہے، حالات کو قابو میں لانے کی مساعی کے طور پر اسے اختیار کرنے کی جو ذمہ داری بطور اکثریت ہم مسلمانوں پر عائد ہوگئی ہے اس کی پابندی اور اسے کامیاب بنانے کی ذمہ داری اب دینی فریضہ سمجھ کر ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مساجد میں پانچ افراد کی نماز باجماعت کے فیصلے کے بعد حکومت کی عوامی اجتماعات اور پانچ افراد سے زائد کے اکٹھ کی روک تھام میں اب سخت اقدامات میں انتظامیہ کو ذرا بھی نرمی نہیں کرنی چاہئے، امدادی رقم لینے والوںکی قطاروں اور بنکوں کے باہر ہجوم کی عدم روک تھام انتظامیہ کی ناکامی اور لاک ڈاؤن کو لاحاصل بنانے کا باعث امر ہے۔ سول انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج بھی تعینات ہے ایسے میں پابندی پر عملدرآمد کوئی مشکل امر نہیں۔ صورتحال اس امر کا متقاضی ہے کہ فوج اور پولیس مشترکہ گشت شروع کرے، کھیلوں کے میدان اور یہاں تک کہ سڑکوں کے کنارے لوگوں کے اکٹھے بیٹھنے پر بھی پابندی کا اطلاق عملی طور پر کیا جائے۔ جب تک مزید سخت اقدامات نہیں کئے جائیں گے بتدریج اختیار ہونے والے اقدامات کے بہتر نتائج برآمد نہیں ہوں گے۔ عوام کو اس امر سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے کہ جس قدر وہ حکومتی اقدامات کی پابندی میں تعاون کریں گے اور کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام میں اپناکردار ادا کریں گے لاک ڈاؤن میں نرمی اور اس کے خاتمے کے اقدامات کی اس کے تناسب سے نوبت آئے گی۔