وزیرسائنس وٹیکنالوجی کا قابل غور بیان

وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری کی جانب سے غیررجسٹرڈ شدہ کٹس کے استعمال کے حوالے سے انتباہ کی این ڈی ایم اے کی جانب سے تردید کافی اسلئے نہیں کہ وفاقی وزیر حکومت کا اہم حصہ اور ذمہ دار عہدے پر فائز ہیں، ان سے یہ توقع نہیں کی کہ وہ بلاسوچے سمجھے اور اپنی وزارت کے ماہرین کی مشاورت کے بغیر کوئی بیان جاری کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزیر کے بیان کا کوئی نہ کوئی سنجیدہ پس منظر ہوگا اس لئے بجائے اس کے کہ اسے نظرانداز کیا جائے یا ایک اوسط عہدیدار کے بیان پر صادر کیا جائے اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ چین سے آنیوالے طبی آلات کا معیار کیا ہے اور اس کا استعمال کس حد تک محفوظ ہے۔ وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی کے بیان کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ جاتی ہے کہ بعض یورپی حکومتوں نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے چین کی طرف سے بنائے گئے ساز وسامان لینے سے انکار کردیا ہے۔ سپین، ترکی اور ہالینڈ کے مطابق ہزاروں ٹیسٹنگ کٹس اور طبی ماسک، غیرمعیاری اور ناقص ہیں۔ ہالینڈ کی وزارت صحت کے مطابق ماسک کی فٹنگ میں مسئلہ تھا اور کے فلٹرز ٹھیک طرح سے فعال نہیں تھے حالانکہ ان کی کوالٹی کی سند دی گئی تھی۔ سپین کی حکومت کو بھی اسی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا بعض کٹس مریضوں کو وائرس ہونے یا نہ ہونے کا پتہ چلانے میں ناکام رہیں۔ ترکی کا بھی کہنا ہے کہ چینی کمپنیوں سے منگوائی گئی ٹیسٹنگ کٹس درست نتائج نہیں دے رہی تھیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ تین لاکھ پچاس ہزار ٹیسٹ ٹھیک تھے۔ ایسے میں وفاقی وزیر کی جانب سے اس امر کا اظہار بلاوجہ نہیں کہ غیرتصدیق شدہ کٹس کے استعمال کا مطلب کئی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ بنابریں ضروری ہوگیا ہے کہ چین سے آمدہ آلات کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکسان سے تصدیق کے بعد امپورٹ کی جائے اور اس کے استعمال کی اجازت دی جائے۔ چینی طبی آلات کے معیار کے حوالے سے مختلف ممالک کے ماہرین کی آراء کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اس حوالے سے جو مسائل اور نقائص سامنے آئے ہیں ضروری نہیں کہ پاکستان کو مہیا کئے گئے آلات اور طبی ساز وسامان بھی معیار اور تحفظ کی کسوٹی پر پورا نہ اُترتے ہوں چونکہ ان طبی آلات وساز وسامان کا براہ راست انسانی جانوں کے تحفظ وعلاج اور بیماری کا پتہ لگانے اور معالجین کے تحفظ کے علاوہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے تدارک کے عمل میں بڑا کردار ہے اس لئے احتیاط کے تقاضوں کو جس حد تک ملحوظ خاطر رکھا جائے مناسب ہوگا۔
صوبائی وزراء وارکان اسمبلی کہاں ہیں؟
صوبے کے محنت کشوں کو امداد کی فراہمی اور ان کو کورونا وائرس سے بچانے کے حوالے سے صوبائی وزیرصحت کی مساعی ان دیگر وزراء کیلئے بھی قابل تقلید مثال ہے جو محکموں کی بندش کے بعد کسی نامعلوم گوشہ عافیت میں ایسے پردہ نشین ہوگئے ہیں کہ بیان بازی کے شوق سے بھی توبہ کرلی ہے۔ صوبائی محکموں میں عملہ کی عدم موجودگی میں اگر سرکاری امور کی انجام دہی معطل ہے تو یہ مسئلہ اپنی جگہ اپنے اپنے محکموں میں کام کرنے کی گنجائش اگر واقعی باقی نہیں تو صوبائی وزراء کی فوج ظفر موج اپنے حلقوں اور دیگر علاقوں میں عوام کی مدد کرنے اور کم ازکم ان کو حفاظتی اقدامات کی پابندی کرنے کی ضرورت کا احساس دلانے کی ذمہ داری پوری کر سکتے ہیں۔ صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی بلکہ حلقوںکی سیاست کرنیوالے اُمیدواروں کے حجرے اور ڈیرے جس طرح سیاسی گہماگہمی اور خصوصاً اتنخابات کے دنوں میں طعام گاہوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو اب کیا امر مانع ہے کہ مشکل وقت میں اپنے اپنے حلقوں کے ضرورت مند افراد کی مدد نہ کی جائے۔ مناسب فاصلہ رکھ کر امداد کی فراہمی اور کھانا دینے کی جس قدر ان دنوں ضرورت ہے شاید ہی پہلے کبھی اس قسم کی ضرورت تھی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کو تمام صوبائی وزرائ، مشیروں اور تحریک انصاف کے ممبران اسمبلی کو اس امر کی ہدایت کرنی چاہئے کہ وہ اس مشکل وقت میں عوام کے حقیقی نمائندوں کا کردار ادا کریں، حزب اختلاف کے ممبران وعمائدین بھی اس حوالے سے خود کو پیچھے نہ رکھیں۔
سٹیٹ بنک کے حکام کی ناکامی
ایک ایسے وقت میں جب کاروبارحیات کی بندش کے باعث بنکوں کا کام متاثر ہوا ہے اور بینکاری کا نظام متاثر ہوا ہے، بنکوں کی جانب سے اشد ضرورت کے تحت صارفین کو مناسب سہولیات، تحفظات اور بخوشی دینے پر توجہ دی جاتی بنک اہلکاروں کی جانب سے بلوں کی وصولی، پنشن کی رقم دینے اور دیگر ضروری خدمات کی انجام دہی میں لیت ولعل قابل برداشت امر نہیں جس کا سٹیٹ بنک کو خصوصی طور پر سخت نوٹس لینا چاہئے۔ ہمارے نمائندوں کی جانب سے تسلسل کیساتھ نشاندہی کے باوجود سٹیٹ بنک کے حکام کا خود کو قرنطینہ میں ہونے کا تاثر دینا حیرت انگیز ہے۔ بعض سرکاری محکموں کیساتھ ساتھ حکومت نے بنک کھلے رکھنے کا جو فیصلہ کیا ہے اس کی وجہ عوام کو مشکلات سے بچانا ہے۔ بنکوں کی جانب سے برانچوں کی بندش اور خدمات سے انکار سٹیٹ بنک کی نگرانی کے عمل کی ناکامی اور کمزور گرفت کا اظہار ہے جس کی گنجائش نہیں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ سٹیٹ بنک کے عمال خواب خرگوش سے بیدار ہوں گے اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے ذریعے بنکنگ کے نظام کو فعال بنائیں گے۔