اٹارنی جنرل نے جیلوں سے قیدیوں کی رہائی اور ضمانتوں بارے تجاویز جمع کرا دی

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان میں جیلوں سے قیدیوں کی رہائی کا معاملہ کے پیش نظر اٹارنی جنرل نے جیلوں سے قیدیوں کی رہائی/ضمانتوں بارے تجاویز جمع کرا دیں.تجویز میں کہا گیا کہ خواتین اور بچوں پر تشدد میں ملوث انڈر ٹرائل ملزمان کو ضمانت پر رہائی نہیں ملنی چاہیے، ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا انڈر ٹرائل قیدیوں کو ضمانت پررہائی ملنی چاہیے ،اگر ان کے جرم کی سزا تین سال سے کم ہے،تین سال تک سال سزا کے جرم میں قید انڈر ٹرائل خواتین اور بچوں کو ضمانت پر رہا کیا جائے، ایسے سزا یافتہ قیدی جو سزا پوری کر چکے ہیں لیکن جرمانہ ادا نہیں کر سکتے انہیں رہا کر دینا چاہیے،تجویز کے مطابق ایسی خواتین اور بچے جو 75 فیصد سزا مکمل کر چکے ہیں انہیں رہا کر دیا جانا چاہیے، ایسے قیدی جو بچوں اور خواتین پر تشدد میں ملوث نہیں اگر ان کی سزا 6 ماہ سے کم رہ گئی ہے تو انہیں رہا کیا جائے، ایسی خواتین اور بچے جن کی سزا ایک سال سے کم رہ گئی ہے انہیں بھی رہا کیا جائے۔