جواس سال تعمیراتی شعبے میں سرماریہ کاری کرے گاان سےذریعہ آمدن نہیں پوچھاجائے گا- وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کا تعمیرات کے شعبے کے لیے پیکج کااعلان،وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زراعت کاسیکٹرمکمل طورپرکھلا ہوا ہے، مال بردارٹرانسپورٹ کوبھی کھلا رکھا ہے. .تعمیراتی سیکٹر کھلنے سے معیشت کا پہیہ چل سکتا ہے.14اپریل سے تعمیراتی سیکٹر کھل جائے گا جوبھی کنسٹرکشن کرے گا اس سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ پیسہ کہاں سے آیا، فیصلہ کیا ہے کنسٹرکشن سیکٹر میں فکس ٹیکس کررہے ہیں. ہم سے 10ملین لوگ رابطہ کرچکے ہیں جنہیں پیسےچاہییں، سندھ میں گندم کی کٹائی شروع ہوچکی ہے.

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نیا پاکستان ہاوَسنگ کے لیے 30ارب روپے کی سبسڈی دے رہیں،کنسٹرکشن میں اگر 100روپے ٹیکس ہوگا تو90روپے معاف کردیں گے. گھر بیچنے پر کیپیٹل گین ٹیکس نہیں لگے، تعمیراتی سیکٹرمیں پیسےلگانےوالوں سےآمدن کےذرائع نہیں پوچھےجائیں گے. صوبوں کے ساتھ مل کرٹیکس چھوٹ بھی دیں گے.

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ اشیائےخورونوش کی فراہمی یقینی بنائی جائے، اشیا ئےخورونوش کی قلت نہیں ہونےدی جائے گی.پاکستان میں ایک طرف کوروناہےدوسری طرف بھوک ہے،مغرب میں ایک طرف کوروناہےاوردوسری طرف معیشت ہے. ہمارےملک میں ایک طرف کورونا ہےاور دوسری طرف غربت ہے،لاک ڈاؤن کامیاب تب ہوگا جب ہر جگہ لاگوہوگا، اگرہم لاک ڈاون کرتےہیں توکیاہم غریبوں کی بنیادی ضروریات پوری کرسکیں گے.

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ چین نےووہان کو دومہینے بند رکھا اورلوگوں کے گھروں میں کھانا پہنچایا،قوم فیصلہ کرےکہ اس وائرس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے، لوگوں میں مایوسی بڑھتی جارہی ہے.