ایف آئی اے انکوائری رپورٹ میں جہانگر ترین سمیت اہم حکومتی اور سیاسی شخصیات چینی اور آٹے بحران کی ذمہ دار قرار

اسلام آباد: پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی رپورٹ میں ملک میں ماضی قریب میں پیدا ہونے والے چینی کے بحران کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس بحران سے فائدہ اٹھانے والوں میں تحریک انصاف کے اہم رہنماؤں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کے قریبی رشتہ دار کے بارے میں کہا گیا کہ انھوں نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے اس بحران سے فائدہ اٹھایا۔

حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہٰی کو بھی چینی بحران سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے فروری کے مہینے میں ایف آئی اے کو ملک میں چینی اور آٹے کے بحران سے متعلق مکمل تفتیش کر کے رپورٹ جمع کروانے کے احکامات صادر کیے تھے۔ ایف آئی اے نے تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں سے تحقیقات کے بعد یہ رپورٹس تیار کی ہیں۔

ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیا کی سربراہی میں چھ رکنی انکوائری کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ حکومتی شخصیات نے سرکاری سبسڈی حاصل کرنے کے باوجود زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹ میں کہا گیا گیا سیاسی شخصیات کا اثر و رسوخ اور فیصلہ سازی میں اہم کردار ہونے کی وجہ سے انھوں نے کم وقت میں زیادہ سبسڈی حاصل کی اور بہت ہی کم وقت میں زیادہ سے زیادہ منافع بھی یقینی بنایا۔

جہانگر ترین نے 2018 کے عام انتخابات کے بعد تحریک انصاف کی حکومت سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا تھا اور کئی آزاد ارکان کو اپنے ذاتی جہاز میں بٹھا کر عمران خان سے ملاقات کے لیے بنی گالا لے کر آتے اور جاتے رہے تھے۔

خسرو بختیار وفاقی کابینہ میں شامل ہیں اور ان کے پاس وزارت تحفظ خوراک اور تحقیق کی وزارت ہے۔ وہ عمران خان کے ساتھ اکثر اہم میڈیا بریفنگز میں بھی نظر آتے ہیں۔ ان کے ایک بھائی مخدوم ہاشم جواں بخت پنجاب کابینہ میں شامل ہیں اور صوبائی وزیر خزانہ ہیں۔

حکومتی اتحاد میں شامل مسلم لیگ ق کے رہنما مونس الہٰی سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کے بیٹے ہیں۔

کمیشن رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد جہانگیر ترین نے ٹوئٹر پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ انھیں تین ارب روپے کی ملنے والی سبسڈی میں سے ڈھائی ارب کی سبسڈی مسلم لیگ ن کے گذشتہ دور میں دی گئی جب وہ اپوزیشن میں تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میری کمپنیوں نے 12.28 فیصد چینی برآمد کی اور یہ مارکیٹ کا 20 فیصد تک بنتا ہے جبکہ برآمدگی ’پہلے آئیں پہلے پائیں‘ کی بنیاد پر کی گئیں۔

مونس الہیٰ نے مقامی میڈیا پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم انھوں نے یہ وضاحت بھی دی کہ ان کا رحیم یار خان ملز میں بلاواسطہ شیئرز ہیں لیکن ملز انتظامیہ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔

جبکہ وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ خسرو بختیار کا ابھی تک مؤقف سامنے نہیں آیا۔

انکوائری کمیشن رپورٹ کے مطابق سبسڈی اور برآمدات کی اجازت حاصل کرنے والی دیگر شوگر ملز میں ہنزہ شوگر ملز، انڈس شوگر ملز، فاطمہ شوگر ملز، حسین شوگر ملز، شیخو شوگر ملز، نون شوگر ملز، جوہر آباد شوگر ملز اور ہدیٰ شوگر ملز شامل ہیں۔