تعمیرات کے شعبے کیلئے مراعات، مقاصد ونتائج

وزیراعظم کی طرف سے تعمیرات کے شعبے پر خصوصی توجہ اس امر کا غماز ہے کہ حکومت سمجھتی ہے کہ یہی شعبہ ملک میں تعمیر وترقی کی رفتار کو برقرار رکھنے کا سبب بن سکتی ہے۔ تعمیراتی شعبے میں پیسہ لگانے والوں کا ذریعہ آمدن نہ پوچھنا ایک ایمنسٹی سکیم ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کڑوا گھونٹ پی کر بھی جائز وناجائز ذرائع سے رقم کمانے والوں سے حالات کے باعث سمجھوتہ پر مجبور ہوگئی ہے۔ اس وقت کرونا وائرس کے باعث ملک جس صورتحال سے دوچار ہے ان حالات میں خصوصی اقدامات کے بغیر صورتحال سے نمٹنے کی مساعی ممکن نہیں، توقع کی جاسکتی ہے پیکج پر عملدرآمد سے تعمیراتی شعبے پر پچھلے کچھ عرصے سے چھایا جمود ختم ہوگا اور جب تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا تو اس سے صرف نہ ریئل سٹیٹ سیکٹر میں اُٹھان پیدا ہوگا بلکہ یہ چالیس پچاس کے قریب صنعتوں کو چلانے اور لاکھوں افراد کو روزگار دلانے کا سبب بھی بنے گا اور معیشت کا پہیہ رواں ہوگا۔ گھر فروخت کرنے والوں پر کیپٹل گین ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ بھی صائب ہے جس سے جائیداد کی خرید وفروخت کا منجمد ہوتا کاروبار پھر سے شروع ہوگا، سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی لانے میں بھی سوچ بچار حوصلہ افزاء ہے۔ توقع ہے کہ صوبے اس پر رضامندی ظاہر کریں گے۔ نیا پاکستان سکیم کیلئے تیس ارب کی سبسڈی کا اختصاص بھی تعمیراتی شعبے کے فروغ کا سبب بن سکتا ہے، البتہ تعمیرات کے شعبے پر فکسڈ ٹیکس عائد کرنا شاید مناسب نہ ہوگا، اس سے تعمیراتی اخراجات میں اضافہ ہوگا، حکومت اس کو اگر اس وقت تک مؤخر کرے کہ مراعاتی پیکج سے فائدہ اُٹھا کر جب شعبے میں تیزی آئے اور بلڈرز وکاروباری طبقہ فکسڈ ٹیکس ادا کرنے کے قابل ہو جائے تو اس کا نفاذ کیا جائے۔ وزیراعظم کے اعلانات واقدامات سے جہاں توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں وہاں علاوہ ازیں کے دیگر امور کا بھی جائزہ ضروری ہے۔ ہمارے تئیں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ملک میں معیشت کے جام پہئے کو حرکت دینے کیلئے تعمیرات کے شعبے میں جائز وناجائز رقم سے سرمایہ کاری کرنے کیلئے مراعات کی پیشکش ایک اچھی کوشش ضرور ہے لیکن اس سے زیادہ بہتر توقعات وابستہ نہ کرنے کی ایک سے زائد وجوہات موجود ہیں، جس میں سرفہرست حکومت اور سرمایہ کاروں کے درمیان اعتماد کا فقدان، سیاسی انتشار، نیب کا کردار ورویہ اور سب سے بڑھ کر غیریقینی کی وہ صورتحال ہے جس کے باعث سرمایہ کاروں نے اپنا پیسہ محفوظ بنانے کیلئے چھپانا اور ملک سے باہر لیجانا شروع کیا، اس کی ابتداء پانامہ پیپرز کے سامنے آنے کیساتھ ہی ہوئی، اس کے بعد نیب کے ہراساں کئے جانے کے اقدامات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی بھی منصوبے کی کامیابی کا انحصار ماحول اور حالات پر ہوتا ہے، مراعات سے راغب ہونے کا مرحلہ بعد میں آتا ہے، وزیراعظم کے اعلان کی کامیابی کا تقاضا ہے کہ حکومت پہلے ایسی فضا پیدا کرے جس میں اعلان شدہ مراعات سے فائدہ اُٹھانے کی نوبت آسکے۔ جہاں تک وزیراعظم کی جانب سے تعمیرات پر ٹیکسوں میں کمی، کیپٹل گین اور ودہولڈنگ ٹیکس معاف اور ذریعہ آمدن کے عدم استفسار جیسی مراعات اور سہولتوں کا تعلق ہے، اگر یہ خصوصی حالات کے اقدامات نہ ہوتے اور بار بار مطالبات کے بعد حکومت سرمایہ کاروی کے مطالبے تسلیم کر کے ایسا کرتی تو ان کے فوری نتائج سامنے آنے کی توقع تھی۔ ایک ایسے وقت جب ایک جانب لاک ڈاؤن کے باعث اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وائرس کے خوف سے لوگ گھروں سے نکلنے کی ہمت نہیں کر پاتے محض اقدامات سے فائدہ اُٹھانے کیلئے فوری طور پر سرگرمی سے جواب متوقع نہیں، اس وقت محنت کشوں کو فاقہ کشی سے بچانے کیلئے جن فوری اقدامات کی ضرورت ہے، وزیراعظم کے اس اعلان کا جتنا بھی مثبت جواب ملے اور جتنا جلد ملے اس کے ثمرات سے استفادے میں وقت لگنا فطری امر ہوگا۔ تعمیرات کے سیکٹر میں مراعات کے موقع پر نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم کیلئے تیس ارب روپے کی سبسڈی کو بعض عناصر مثبت انداز میں نہیں لے رہے ہیں، بہرحال اس وقت حکومت کے پاس بھی زیادہ مواقع اور وسائل نہیں اس موقع پر اگر ہر قسم کے تضادات سے بالاتر ہوکر قوم بقاء کی جنگ لڑنے کیلئے متحد ہو تبھی کامیابی کا امکان ہے۔ قوم کی بقاء کا تقاضا ہے کہ حکومت کے ہاتھ مضبوط کئے جائیں، سیاسی اختلافات سے لیکر کاروباری مفادات سمیت ہر قسم کے تضادات کو ایک طرف رکھنا ہوگا۔ وسعت قلبی کا مظاہرہ کرنا ہوگا، معیشت کے پہئے کو رواں رکھنے اور حکومتی مراعات سے استفادے کا تقاضا یہ ہے کہ سرمایہ کار اسے مراعات سمیٹنے اور کاوربار کے فروغ کا موقع نہ جانیں۔ حکومت کو اس امر پر بھی توجہ کی ضرورت ہے کہ اس کے اقدامات ومراعات بلڈرز مافیا کی جیت بن جائے، حکومت نجی تعمیراتی شعبے کیساتھ ساتھ بلکہ اس سے زیادہ سرکاری شعبوں میں تعمیراتی کاموں کی انجام دہی پر بھی توجہ دے اور ساتھ ہی ساتھ ایسے شعبوں کی طرف بھی توجہ دے جن کو مراعات دینے سے تعمیرات کے شعبے سے کہیں زیادہ فوائد وثمرات کا حصول ممکن ہے۔