خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

یہود وہنود کے بارے میں ایک قول پر صورتحال متفق علیہ کے زمر ے میں آتی ہے، یعنی جہاں پیسہ ہو وہاں ان کے سارے اصول دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، اسی وجہ سے اُردو زبان میں ہندوؤں کے حوالے سے ایک محاورہ ہے کہ بنئے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے، اس محاورے کے پیچھے جوکہانی ہے یقیناً آپ اس سے واقف ہوں گے اس لئے فی الحال اسے ایک طرف رکھتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور اس بات پر حیرت کا اظہار کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں کہ پاکستان کیساتھ تعلقات میں تناؤ کی وجہ سے بھارتیوں نے تجارت میں اتنا بڑا نقصان برادشت کر کے کیا اُردو کے محولہ بالا محاورے کو غلط ثابت نہیں کر دیا یعنی جب سے کشمیر میں صورتحال کو تبدیل کیا گیا اور پاکستان نے عالمی سطح پر بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنا شروع کر رکھا ہے دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ میں اضافے کے نتیجے میں بھارت نے اپنے ٹماٹروں کو ضائع تو کرنا گوارا کر لیا اور لاکھوں ٹن ٹماٹر ہر سال پاکستان کو فروخت کرکے زرمبادلہ کمانے کی راہ کھوٹی کرنا برداشت کر لیا مگر ان ٹماٹروں سے پاکستانیوں کو محروم ضرور رکھا جبکہ بھارت کے اس اقدام سے پاکستان میں ٹماٹروں کا بحران بھی پیدا ہوا اور قیمت تین سو روپے کلو تک جاپہنچی تھی، اب تو شکر ہے وہ صورتحال نہیں رہی اور ٹماٹروں نے ”آنے والی تھاں” پر پہنچ کر مہربانی کر لی ہے کہ اس وقت گلیوں میں ہتھ ریڑی والے 25 اور 30روپے کلو لال لال ٹماٹر فروخت کرنے کی دہائیاں دے رہے ہیں، تاہم بنئے کے اصول کہاں گئے یعنی فالتو لاکھوں ٹن ٹماٹر ضائع کرکے بنئے کو کیا ہاتھ آیا؟ بقول یاس یگانہ چنگیزی
نشہ خودی کا چڑھا آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا
خیر جانے دیجئے اتنی لمبی چوڑی تمہید کا مقصد تو اپنے ہاں کے کاروباریوں کی توجہ ایک نہایت اہم مسئلے کی جانب دلوانا ہے اور وہ ہے بھارت کیساتھ تجارتی روابط کی بحالی بلکہ اگر اسے ایک سنہری موقع قرار دیا جائے تو کچھ غلط نہیں ہوگا اور یہ اتنا اہم کاروبار ہے کہ بھارتی بنئے اس سودے بازی سے انکار بھی کسی طور نہیں کر سکیں گے بلکہ ممکن ہے پاکستان کے مشکور ہو جائیں یعنی یہ جو بھارتی ہندوؤں نے کورونا وائرس سے جان چھڑانے کیلئے ”کاؤیورین” کا استعمال شروع کر دیا ہے تو کیوں نہ پاکستان اپنے یہاں کے ملک بھر میں پھیلے ہوئے باڑوں میں پلنے والی گائیوں کا یورین اکٹھا کر کے منرل واٹر کی طرح بوتلوں میںبند یا پھر بڑے بڑے ڈرموں میں ڈال کر بھارت برآمد کرنا شروع کر دے، اس مقصد کیلئے حکومت کو بھی زرمبادلہ کمانے کا موقع ملے گا جبکہ یہ ایک نفع بخش صنعت کے طور پر دن دونی رات چوگنی ترقی کرے گی۔ اس سے پہلے بھارتی ہندؤں کا ایک مخصوص طبقہ گائے کے پیشاب کو شراب کے متبادل کے طور پر استعمال کر تے تھے، تاہم جہاں تک گائے کے یورین کا تعلق ہے تو گائے تو ہندوؤں کے نزدیک مقدس ماں کے درجے پر فائز ہے اس لئے بعد میں کسی بہت ہی پہنچے ہوئے گیانی دھیانی نے گائے کے خارج کئے ہوئے ”پانی” کو تقدس کے درجے پر فائز کرتے ہوئے اس کو ہر مرض کی دوا قرار دیا اور اب تو نہ صرف اسے کورونا کا شافی علاج کہا جا رہا ہے بلکہ گائے کے گوبر سے نہانے کو بھی کورونا کے جراثیم کش علاج کے طور پر لیا جارہا ہے اس لئے ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ ہم نے یہ جو آج تک لاکھوں لیٹر کاؤ یورین کو ”پلوں کے نیچے بہہ جانے والے پانیوں” کی مانند جانوروں کے باڑوں میں ضائع کر دیا ہے مزید اس ”عیاشی” سے توبہ تائب ہو کر اسے اکٹھا کر کے بھارت کو برآمد کرنے پر سوچنا چاہئے، اگر اس نفع بخش کاروبار کی اجازت مل جائے تو کئی شعبے فعال ہو سکتے ہیں یعنی اس کاؤیورین کیلئے کئی کمپنیاں وجود میں آسکتی ہیں جو آگے ہر گاؤں اور شہر کے اندر موجود جانوروں کے باڑوں میں اپنے لوگ تعینات کر کے صرف اور صرف خالص کاؤ یورین اکٹھا کرنے پر معقول تنخواہوں کے عوض ان کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں چونکہ ان باڑوں میں گائیوں کیساتھ بھینسیں، بکریاں، بیل وغیرہ بھی بندھے ہوتے ہیں اس لئے یہ کمپنیاں اپنی بوتلوں پر ”خالص کاؤ یورین” کے نعرے بھی چھاپ کر بھارتی ہندوؤں کو یہ یقین دلا سکتی ہیں کہ ان کا بھیجا ہوا ”تحفہ” ہر لحاظ سے خالص اور صحت افزاء ہے اور یہ کہ اس میں کسی دوسرے جانور کے یورین کی ملاوٹ نہیں ہے۔ اسی طرح ایسی کمپنیاں بھی وجود میں آسکتی ہیں جو ان بوتلوں، ڈرموں میں پیک ”کاؤ یورین” کو زیادہ کارآمد بنانے کیلئے ان کو فلٹریشن کے عمل سے گزارنے کے سرٹیفکیٹ جاری کرسکتی ہیں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے، اور اتنا خالص ”تحفہ” پاکر بھارتی بنئے جب سرور مستی کی محفلیں جمانے بیٹھیں گے تو خالص پاکستانی کاؤ یورین کا نشہ دماغ کو چڑھتے ہی ان کی کیفیت اس شعر کی مانند ہوگی کہ
جب جھومے میرا گاگرا تو جھومے دلی آگرہ
جس محاورے کا کالم کے آغاز میں تذکرہ کرکے ایک نئے کاروبار کی نشاندہی کی گئی ہے اس کی کامیابی کا سارا دار ومدار بہرحال بھارتی ہندو بنیاؤ کے روئیے پر ہے یعنی اگر وہ پاکستان سے کاؤ یورین درآمد کرنے پر آمادہ نہ ہوئے کہ اس طرح پاکستان کو فائدہ ہوگا اور ممکن ہے کہ وہ اس مقصد کیلئے بعض ایسے مغربی ممالک سے رابطہ کریں جن میں آسڑیلیا وغیرہ شامل ہیں جہاں پر ڈیری کا کاروبار بہت ترقی پر ہے، اس لئے ہمیں بھارتی بنیاؤ کو یہ آفر ضرور کرنی چاہئے کہ کاؤ یورین کیساتھ بطور بونس ہم انہیں گوبر فراہم کر سکتے ہیں، تو اُمید ہے کہ وہ اس کو سستا سودا سمجھتے ہوئے یہ آفر قبول کر لیں اور ویسے بھی جو ”مزہ” دیسی گائیوں کے یورین میں ہے وہ یورپی گائیوں کے یورین میں کہاں ہو سکتا ہے کہ بھارت میں انگریزی شراب کی نسبت لوگ دیسی شراب زیادہ استعمال کرتے ہیں، یعنی بقول شخصے ”جو سکھ چھجو کے چوبارے نہ بلخ نہ بخارے۔