زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو

ہاتھ ملانا منع ہے ، لیکن ہاتھ دھوتے رہنے کی تاکیدکی جارہی ہے۔ جب ہم ان دونوں باتوں پر غور کرتے ہیں تو سوچنے لگتے ہیں کہ یہ کیسا ہاتھ کردیا ہے کرونا نے دنیا والوں کیساتھ، ہمارے دل میں پیدا ہونے والا یہ شک شبہ یا وہم اس وقت یقین کی صورت اختیار کرنے لگتا ہے جب ہم اڑتی ہوائیوں میں سے ایک ہوائی یہ بھی سنتے ہیں کہ کرونا وائرس قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک مین میڈ یا ابلیس کے چیلوں کا چھوڑا ہوا دجالی فتنہ ہے۔ آج کل شک شبہ یا وہم کا یقین کی منزلوں تک پہنچنا آسان نہیں کیونکہ فی زمانہ افواہ در افواہ اتنی ہوائیاں اڑائی جارہی ہیں کہ سوچنااور سمجھنا مشکل اور محال ہوگیا ہے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ کس کی بات پر یقین کیا جائے ۔ افواہ سازی اور افواہ طرازی کا ایک سیزن ہوتا ہے سو اب کے یہ سیزن بڑا رچ بس کر آیا ہے۔ اس سیزن کے آنے سے بہت پہلے احمد فراز نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ
تم تکلف کو بھی اخلاص سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
انہوں نے یہ بات ہر گز نہیں کی تھی کہ کسی سے مصافحہ نہ کیا جائے یا اس سے ہاتھ نہ ملایا جائے۔ لیکن ہاتھ ملاتے وقت اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ ہاتھ ملانے والا آپ کے ہاتھ کو کاٹ کر لے تو نہیں جائیگا۔
کچھ سوچ کر ملاناتم ہاتھ کسی سے
کاٹے نہ ہاتھ کوئی بازو سمیت تیرا
ہم نے ہاتھ کیا ملانا تھا ، وہ بازوہی کاٹ کر لے گیا ، ایسی باتیں ہم پرانے اور سیانے لوگوں سے سنا کرتے تھے جو ضرب المثل بن کر سینہ بہ سینہ سفر کرتے ہم تک پہنچیں ، اور پتھر کی لکیر کی طرح آفاقی سچ بن کر زندہ رہ گئیں ، یہ جو کرونا کا عذاب اترا ہے نا سب ہاتھ ہی ملانے کا کیا دھرا ہے ۔ یادش بخیر ،ہمارے حکمرانوں نے جب امریکہ کیساتھ ہاتھ ملا کر اس کی جنگ اپنی سر زمین پر لڑناشروع کی تھی اس کے نتیجے میں ہم پے درپے دہشت گردی کا شکار ہونے لگے تھے ، تو امریکہ والے ہمارے ہاتھ کیساتھ ہمارے بازو بھی کاٹتے ہوئے ”ڈو مور ، ڈو مور”کی گردان کرنے لگے تھے، ”ڈو مور کا آسان اردو ترجمہ ہی ‘کرونا’ ہے” بھولے باچھا نے جب اپنی سی ڈکشنری سے ‘ڈو مور’ کا آسان اُردو ترجمہ بتایا، تو ہم اس کا منہ تکتے رہ گئے، در اصل اس میں بھولے باچھا کے ذہن رسا کا کوئی قصور نہیں، ہر کس وناکس اپنے اپنے معنی پہنا رہا ہے تاریخ عالم کے اس عالم گیر سانحہ کو، وہ جو کہتے ہیں کہ جتنے منہ ہوتے ہیں اتنی باتیں کی جاتی ہیں، آج کل نہ صرف سوشل میڈیا پر بلکہ ہر ایک کی زبان پر بس کرونا کرونا کی گردان جاری ہے، کوئی کہہ رہا ہے کہ کرونا سے بالکل نہیں ڈرنا چاہئے، یہ زکام کی ایک قسم ہے، کوئی کہتا ہے منہ پر ماسک چڑھائے رکھنا چاہئے، کوئی کہتا ہے کہ ماسک تو صرف ان لوگوں کو چڑھانا چاہئے جو خدانخواستہ کرونا نامی جرثومہ یا وائرس کا شکار ہوگئے ہوں،انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے دور میں گلوبل ویلیج میں اس قسم کے بے خبر لوگ بھی رہتے ہیں، یہ دیکھ اور ان کے مافی الضمیر سے آگاہ ہوکر ورطہ حیرت کا شکار ہونے کو جی کرتا ہے،
یا رب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زبان اور
کے مصداق ہم ایسے لوگوں کے منہ نہیں لگتے کہ کہیں وہ زبان چلاتے چلاتے ہاتھ نہ چلانے لگیں، ہم نے اس دوران ایسے لوگوں سے بھی ملاقات کرنے کا شرف حاصل کیا جو ابتلاء کے اس دور میں مفت مشوروں کا انبار لئے پھرتے رہتے ہیں، کوئی کسی دارو درمل سے کرونا کا علاج بتا رہا ہے اور کوئی جنتر منتر اور دارو درمل کا ٹوٹکا بتا کر اس وباء کیخلاف طبع آزمائی کرتا دکھائی دیتا ہے، ٹونے ٹوٹکے بتانے والے صرف ہمارے ملک میں نہیں پائے جاتے، بھارت میں گاؤ موتر اور گاؤماتا کے گوبر سے کرونا کا علاج دریافت ہوچکا ہے، جبکہ کل ہی کی بات بھارت کے پردھان منتری اپنی جنتا کو شمع، چراغ، موم بتی یا موبائل کا ٹارچ روشن کرکے کرونا کو بھگانے کا ٹوٹکا بتا رہا تھا، جب بھارت دیش کے پردھان منتری ایسی بے تکی اُڑا رہے ہیں تو بے چارے بھولے باچھا کا اس میں کیا قصور، سچ ہی تو کہتا ہے بے چارا، کل ہی کی بات ہے امریکہ اپنے ہاتھ کی صفائی دکھاتے ہوئے ہر ایک سے ہاتھ ملا کر بازو کاٹ رہا تھا، اپنے سپرپاور ہونے کے گھمنڈ میں یہ بات اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی کہ آج میں چند کوڑیوں کے عوض ‘ڈو مور، ڈو مور’ کہہ کر ان سے اپنی ہر جائز اور ناجائز بات منوانے کی پوزیشن میں ہوں تو، کل ساری دنیا کے لوگ ایک حقیر سے جرثومہ کے ہاتھوں میری درگت بنتے دیکھ کر ‘کرونا، کرونا’ کا شور مچارہے ہونگے۔ بہت سے معنی اور مطالب نکلتے ہیں کرونا جیسی خوفناک بیماری اور جہاں بھر میں بڑی تیزی سے پھلتی پھولتی اور پھیلتی اس وباء کے متعلق اگر کچھ سننا چاہیں تو زبان خلق سے ادا ہونے والے ان طنز اور مزاح بھرے جملوں پر ضرور غور کیجئے گا، جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ
زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو
جسے جہاں بجا کہے بجا سمجھو